امریکہ طالبان مذکرات مکمل، فریقین کا جنگ بندی پر اتفاق

Spread the love

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)قطر میں جاری مذاکرات کے خاتمے کے بعد امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا

تھا کہ امریکا اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان تازہ دور ‘حقیقی کامیابیوں’ کے ساتھ ختم ہوا لیکن

فوجیوں کے انخلا کے حوالے سے طریقہ کار پر کوئی معاہدہ طے نہ پاسکا۔ اپنے ٹویٹر بیان میں زلمے خلیل

زاد کا کہنا تھا کہ ‘طالبان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ دوحہ میں ابھی ختم ہوا ہے، امن کی صورت حال بہتر

ہوچکی ہے اور یہ واضح ہے کہ تمام فریقین جنگ کا خاتمہ چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ‘اونچ نیچ کے باوجود ہم

نے چیزوں کو سیدھی راہ دکھائی اور حقیقی کامیابی حاصل کی۔ مذاکرات کی تفصیلات پر بات کرتے ہوئے

انہوں نے کہا کہ ‘امن کے لیے چار مسائل پر معاہدے کی ضرورت ہے جن میں انسداد دہشت گردی کو یقینی

بنانا، فوجیوں کا انخلا، افغانستان کے اندر مذاکرات اور مکمل جنگ بندی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘جب

فوجیوں کے انخلا کے وقت اور موثر انسداد دہشت گردی اقدامات پر ڈرافٹ حتمی شکل اختیار کرے گا تو

طالبان اور حکومت سمیت افغانستان کے دیگر حلقوں میں سیاسی اتفاق رائے اور مکمل جنگ بندی پر افغانستان

کے اندر مذاکرات شروع ہوں گے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کے اگلے مرحلے کے حوالے سے انہوں نے کہا

کہ ‘میرا اگلاقدم واشنگٹن میں بات چیت اور دیگر شراکت داروں سے مشاورت ہے، ہم جلد دوبارہ ملیں گے اور

تمام چیزوں پر اتفاق تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں