ارکان پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے پر وزیر اعظم ناراض،فیصلہ واپس لینے کی ہدایت

Spread the love

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر) وزیر اعظم عمران خان نے ارکان پنجاب اسمبلی،

صوبائی وزرا اور وزیر اعلیٰ کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پرشدید

ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب کو تنخواہوں اور مراعات میں

اضافے کا فیصلہ واپس لینے کی ہدایت کر دی۔وزیر اعظم نے کہا کہ موجودہ

حالات میں معاشی بحران سے نمٹنے کی کوششیں کر رہے ہیں، حکومت کسی

صورت تنخواہوں اور مراعات میں اضافے کا بوجھ برداشت کرنے کی متحمل نہیں

ہو سکتی۔وزیراعظم نے پنجاب اسمبلی کی جانب سے اراکین کی تنخواہوں اور

مراعات میں اضافے کو مایوس کن قرار دے دیا۔وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر

پر جاری اپنے بیان میں پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا

اور کہا کہ ’پنجاب اسمبلی کی جانب سے اراکین اسمبلی، وزراء اور خصوصاً

وزیراعلیٰ کی تنخواہوں و مراعات میں اضافے کا فیصلہ سخت مایوس کن ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان خوشحال ہوجائے تو شاید یہ قابلِ فہم ہو مگر ایسے میں

جب عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے بھی وسائل دستیاب نہیں، یہ

فیصلہ بالکل بلاجواز ہے‘۔گورنر پنجاب چوہدری سرور نے اراکین پنجاب اسمبلی

کی تنخواہوں میں اضافے کی سمری پر دستخط وزیراعظم عمران خان کی اجازت

سے مشروط کردیئے۔ جمعرات کو اراکین پنجاب اسمبلی کی تنخواہوں میں اضافے

پر گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا وزیراعظم کی اجازت کے بغیرسمری

منظور نہیں کروں گا۔دوسری جانب وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری

نے بھی پنجاب اسمبلی کے اس فیصلے پر افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے

شرمناک قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ’ پنجاب کا یہ قانون براہ راست پی ٹی آئی

حکومت کی کفایت شعاری پالیسی کی خلاف ورزیہے، ان نازک معاشی حالات میں

یہ رویہ شرمناک ہے‘۔ وفاقی وزیر برائے فواد چوہدری نے بھی شدید تنقید کرتے

ہوئے کہا کہ ’وزیراعلیٰ اور پنجاب اسمبلی کے خود کو نوازنے کے اقدامات

وزیراعظم اور وفاقی حکومت کی پالیسیوں سے متصادم ہیں، تحریک انصاف کی

پالیسی کا صریحاً مذاق اڑایا گیا ہے، امید ہے اس پالیسی پر فوری نظرثانی ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں