12 اکتوبر، 1938 تا 8 فروری 2016

Spread the love
ندا فاضلی

ندا فاضلی 12 اکتوبر، 1938گوالیار میں پیدا ہوئے۔ دہلی میں تعلیم پائی۔ ان کے والد ایک شاعر تھے۔ تقسیم کے بعد ان کے والدین اور خاندان کے افراد پاکستان چلے گئے، لیکن فاضلی بھارت ہی میں رہ گئے۔

بچپن میں ہندو مندر سے ایک بھجن کی آواز سنی اور شاعری کی طرف مرغوب ہوئے۔

انہوں نے انسانیت پر شاعری کی اس دور میں مرزا اسداللہ خاں غالب، میر تقی میر سے متاثر ہوئے، اسی طرح انہوں نے میرا اور کبیر سے بھی تاثر لیا۔

انہوں نے ایلئیٹ، گگول، اینٹن چکوف (انتون چیخوف) اور ٹکاساکی کو بھی پڑھ کر اپنی شاعرانہ صلاحیتوں کا اضافہ کیا۔

ابتدائی دنوں میں وہ ملازمت کی تلاش میں ممبئی آئے اور دھرم یُگ (رسالہ) اور بلٹز کے لیے لکھتے رہے۔

ان کا شاعرانہ لہجہ لوگوں کو پسند آیا اور فلم بنانے والوں کی نظر ان پر پڑی ساتھ ساتھ ہندی اور اردو ادب والوں

نے بھی ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کا اعتراف کیا اور ان کو مشاعروں میں مدعو کیا جانے لگا۔

کئی گلوکاروں نے اور غزل گانے والوں نے ان کی غزلیں، نظمیں اور گیت گائے، جس سے ان کو شہرت ملی۔

ان کے شہرہ یافتہ غزلوں میں، ” دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونہ ہے، مل جائے تو مٹی ہے کھوجائے تو سوناہے” مشہور ہے۔

فلمی گیتوں میں “آ بھی جا” ( سُر – زندگی کا نغمہ)،

تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے ( فلم – آپ تو ایسے نہ تھے)

ہوش والوں کو خبر کیا زندگی کیا چیز ہے (فلم – سر فروش) وغیرہ بہت مشہور ہوئے ۔

انہوں نے 1960ء کے دور کے شعرا پر تنقیدی مضامین لکھے لکھے، جس کا عنوان “ملاقاتیں“ تھا۔

بالی وڈکے فلم ہدایتکار کمال امروہی نے جانثار اختر کو فلم رضیہ سلطان کے گیت لکھنے کے لیے کہا

لیکن زندگی نے ان کو مہلت ہی نہ دی کے وہ اس پر کام کرتے ۔


ان کے انتقال کے بعد کمال امروہی نے اس فلم کے نغمات لکھنے کے لیے ندا فاضلی رابطہ کیا

جاں نثار اختر نے رضیہ سلطان کے دو گیت لکھے اور کافی مشہور بھی ہوئے (1983ء)۔

اس طرح انہوں نے فلمی دنیا کو اپنی طرف متوجہ کر پائے۔

ان کے مشہور فلمی نغموں میں فلم آپ تو ایسے نہ تھے، گڑیا، شامل ہیں۔

انہوں نے کئی ٹی۔ وی۔ ڈراموں کے لیے بھی نغمے اور گیت لکھے۔ سیلاب، نیم کا پیڑ،

جانے کیا بات ہوئی اور جیوتی کے لیے ٹائٹل نغمے لکھے۔

گلوکارہ کویتا سبرامنیم اور جگجیت سنگھ نے بھی غزلیں گائیں اور کئی البم بھی بنے۔

حال ہی میں انہوں نے بی۔ بی۔ سی۔ ہندی ویب سائٹ کے لیے کئی عصری معاملات اور ادب پر

مضامین لکھے۔ یہ اکثر اپنی گفتگو میں مرزا اسد اللہ خان غالب کا ذکر کیا کرتے ہیں۔

1969ء میںان کا مجموعہ کلام شائع ہوا۔ ان کے کلام میں بچپن، غم انگیزی، فطری عناصر،

زندگی کا فلسفہ، انسانی رشتے، گفتگو اور فعل میں تفریق وغیرہ موضوعات پائے جاتے ہیں۔

تقسیم ہند سے بالکل اتفاق نہیں کرنے والے ندافاضلی، مذہب کے نام پر فسادات،

سیاست دانوں اور فرقہ پرستوں پر جم کر تنقید کرتے تھے۔

1992 کے فسادات کے دوران، تحفظی وجوہات کی بنا پر انہوں نے اپنے ایک دوست کے گھر پناہ لی تھی۔

مذہبی رواداری پر کام کرنے کے لیے انہیں بہت سارے اعزازات ملے۔

انہوں نے 24 کتابیں لکھیں۔ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے میر تقی ایوارڈ ملا۔

مختلف صوبائی حکومتوں کی نصابی کتب میں ان کی سوانح ،نثر اور شاعری شامل ہے۔

ندا فاضلی کی مطبوعہ کتب

انتخاب شاعری

لفظوں کے پھول

مور ناچ

آنکھ اور خواب کے درمیان میں

سفر میں دھوپ تو ہوگی

کھویا ہوا سا کچھ

دنیا ایک کھلونا ہے

ایوارڈ اور اعزازات

1998 – ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ

2003 – سٹار سکرین ایوارڈ برائے بہترین نغمہ نگار – فلم “سُر“ کے لیے۔

2003 – بالی وڈ مووی ایوارڈ برائے بہترین نغمہ نگار – فلم ‘سُر‘ کے گیت ‘آبھی جا‘ کے لیے۔

2013 – پدم شری اعزاز؛ حکومت بھارت۔

فلموگرافی

ندا فاضلی نے ذیل کی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

رضیہ سلطان

تمنا (فلم) – گھر سے مسجد ہے ۔

سُر دی میلاڈی آف لائف۔

اس رات کی صبح نہیں۔

نا خدا (فلم-1981)

آپ تو ایسے نہ تھے (فلم)

یاترا

سرفروش (فلم) – ہوش والوں کو خبر کیا زندگی کیا چیز ہے۔

سُر (فلم) – آ بھی جا۔

وفات

اردو کے مشہور شاعر ندا فاضلی کی وفات 8 فروری 2016 کو ممبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں