کراچی اور لاہور

Spread the love

لاہور کا ایک جغرافیہ پطرس تحریر کر گئے اور دوسرا حسرت نے لکھا شکر ہے کہ آج دونوں نہیں ہیں، ورنہ حسرت نے کراچی کا جو حسن بیان کیا ہے جیسے ہی کراچی کی بدصورتی دیکھتے تو ان کا انتقال ہو جاتا، اور پطرس کو بہت خوشی اس بات پر ہوتی کہ کراچی میں شاعر نہ ہونے والی حسرت کی خبر اب درست نہیں رہی، وہاں ادیب اور دانشور تو ہیں مگر وہ صاف ستھرا کراچی اب نہیں۔ ہمارے دونوں ممدوح اگر آج کراچی کا سفر کرتے تو واپسی پر حالات لکھنے کی صحت مدت تک اجازت نہ دیتی۔

ایک زمانے میں دلی اور لاہور حریف سمجھے جاتے تھے۔ ہم لوگوں نے امرتسر کو لاہور کے مقابلے پر کھڑا کر دیا۔ وہ انی تو ملتان بہ گیا۔ اب کراچی اور لاہور حریف اور مد مقابل سمجھے جاتے ہیں۔ کراچی سارے پاکستان کا دارالحکومت ہے اور لاہور صرف مغربی پاکستان کے صوبے کا صدر مقام ہے۔ پھر بھی کراچی کے مقابلہ میں کسی شہر کا نام آتا ہے تو وہ لاہور ہی ہے۔

ہم نہ کراچی کے طرف دار ہیں نہ لاہور کے۔ لیکن انصاف کی بات یہ ہے کہ لاہور میں جو بھاری بھرکم پن ہے وہ کراچی میں نام کو نہیں۔ کراچی عزت اور مرتبہ میں لاہور سے آگے سہی لیکن لاہور کا سا وقار کہاں سے لائیے گا۔ لاہور میں سنجیدگی اور متانت ہے۔ کراچی میں نودولتیوں کا سا چھچھورا پن۔ آخر عمر کا فرق بھی کوئی چیز ہے۔ لاہور دو اڑھائی ہزار سال کا بڈھا کراچی جمعہ جمعہ آٹھ دن کی پیدائش کہاں کراچی اور کہاں لاہور؟

جو لوگ کراچی کی صاف ستھری سڑکیں دیکھ کے آتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ لاہور کی سڑکیں دیکھ کے جی بہت کڑھتا ہے۔ میں کہتا ہوں کہ میاں تم اس بڈھے کے چہرے کی جھریوں کا قصہ لے کر بیٹھ گئے۔ اس کے دوسرے کمالات پر بھی تو غور کرو سنا نہیں کہ شاعر کیا کہہ گیا ہے :

میرے چہرے کی جھریوں پر نہ جا

دل ابھی تک جوان ہے پیارے

اور ہاں اس غزل میں ایک شعر کراچی کے حسب حال بھی تو ہے :

دیکھ کے قد یار کہتا ہوں

تیری اونچی دکان ہے پیارے

وہ کہتے ہیں کراچی سمندر کے کنارے آباد ہے۔ جواب دیتا ہوں کہ سمندرکے کنارے آباد ہونا کون سابڑا کمال ہے۔ ہاں اگر سمندر کراچی کے کنارے ہو تو پھر اور بات تھی۔ اور سچ پوچھو تو بیچارے سمندر میں کون سی ایسی شاخ زعفران ہے۔

بحر اگر بحر نہ ہوتا تو بیاباں ہوتا۔

یہ نہیں دیکھتے کہ راوی جیسا دریا لاہور کے قدموں میں پڑا ہے۔

کراچی میں بڑی خوبیاں سہی لیکن شالامار باغ جہانگیر کا مقبرہ کامران کی بارہ دری شاہی قلعہ، شاہی مسجد، نہ گھدو شاہ کا تکیہ نہ داتا کا دربار نہ ایسے اجلے تن جو چلے کے جاڑے میں ململ کے کرتے پہنتے ہیں لسی پیتے ہیں اور وارث شاہ کی ہیر پڑھتے ہیں۔ ذرا موچی دروازہ کے اندر چلے جائیے۔ صبح و شام دودھ دہی کی دکانوں پر کیا بھیڑ بھڑکا ہوتا ہے۔ توبہ کیجیے کہاں کراچی اور کہاں لاہور۔ صاف ستھری سڑکوں اور سمندر کے قریب سے تو کوئی شہر سچ مچ شہر نہیں بن جاتا۔ ذر ا آپ ہی خدا لگتی کہیے جس شہر میں بچ موڑ توں کی آواز سننے میں نہیں آتی وہ بھی کوئی شہر ہے۔

کراچی میں وزیر ہیں۔ سفیر ہیں بڑے بڑے عہدہ دار ہیں جو تمکنت کے مارے زمین پر قدم نہیں رکھتے۔ دولت مند تاجر ہیں جن کے قبہ شکم کا دامن قبہ فلک سے بندھا ہوا ہے لیکن کراچی والوں میں بھی اقبال سا کوئی شاعر بھی ہوا ہے۔ اور اقبال کا ذکر کیا وہاں تو چھوٹا موٹا شاعر بھی مشکل ہی سے ملتا ہے۔ ایک صاحب غلطی سے مشاعرے کا اعلان کر بیٹھے لیکن جب مشاعرہ کی تاریخ قریب آئی تو معلوم ہوا کہ پورے شہر میں اڑھائی شاعر ہیں اور ان میں بھی ڈیڑھ شاعر لاہور ہی سے آیا ہے۔ وکٹوریہ والوں اور رکشا والوں کی منتیں کیں کہ ارے بھئی کہیں سے ایک آدھ شعر مہیا کر و نہیں تو خود شاعر بن جاؤ۔ سارے دفتر چھان مارے کہ شاید کوئی کلرک ہی ایک آدھ شعر موزوں کر لے لیکن شاعری کو کراچی کی آب و ہوا راس نہیں آئی۔

یہ تو ایک مصرعہ سے دوسرا مصرعہ بڑھ جاتا ہے یا پھر ایطائے جلی یا ایطائے خفی ہو جاتا ہے۔ اور ان آفتوں سے بچ نکلے تو شتر گربہ کے مرض سے تو بچنے کی کوئی صورت ہی نہیں۔ آخر تھک ہار کر لاہور کا رخ کیا۔ بڑی مشکل سے کچھ شاعر ہاتھ آئے اور کراچی نے لاہور کے شاعروں کے بل پر ایک ’’مشاعری‘‘ کر لیا اب اخباروں میں کراچی کے مشاعرہ کا پروپیگنڈہ ہو رہا ہے۔ اور کراچی والے ان مشاعرے کا ذکراس طرح کرتے ہی جیسے انہوں نے کراچی میں شاعری کے کار خانے کھولے ہوئے ہیں۔ جن میں فرشی اور عرشی کا مشاعرہ ڈھل جاتا ہے۔ حالانکہ لاہور کے شاعروں کے طفیل کراچی میں مشاعرہ کر لینا بالکل ویسا ہی ہے کہ پرزے امریکہ سے آئیں انجینئر بھی وہیں سے بلائے جائیں اور کراچی میں انہیں جوڑ کے موٹر کار تیار کر لی جائے۔

لاہور پر نظر ڈالو تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پراتم بڈھا جس کی سفید ڈاڑھی نے اس کے سینے کو ڈھانک رکھا ہے۔ سر پر سپید پگڑ باندھے ململ کا کرتہ پہنے اور تہ بند باندھے اور ایک ہاتھ میں لٹھ لیے دوسرا ہاتھ پھیلائے وسط ایشیا کی سب سے بڑٰ شاہراہ پر کھڑا ہے۔ اس نے گردش لیل و نہار کے بہت سے تماشے دیکھے ہیں قوموں کے عروج و زوال کے سینکڑوں مناظر اس کی نظروں سے گزرے ہیں۔ وہ دل پر صدیوں کا بوجھ لیے کھڑا ہے۔ لیکن چہرا مسکراہٹ کے نور سے جگمگا رہا ہے اور آنکھیں کہہ رہی ہیں کہ میاں جھجکتے کیوں ہو؟ آؤ یہاں تم سب کے لیے جگہ موجود ہے۔

لاہور میں متانت ہے وقار ہے حلم ہے اور حلم ہی نہیں علم بھی تو ہے۔ یہاں کی ادبی محفلیں یہاں کی لائبریریاں یہاں کے کالج اور سکول یہاں کے اخبار کراچی میں کہاں ؟

اور یہ چیزیں بھی میسر ہو جائیں تو نوعمر کراچی بڈھے لاہور کی سی شفقت کہاں سے لائے گا؟ اسے دیکھ کر تو یہ احساس ہوتا ہے کہ کوئی صاحب بہادر منہ میں سگار لیے گٹ پٹ کر رہے ہیں۔ اٹھتی جوانی ہے۔ دولت کی کمی نہیں پھر بڑے چاؤ چونچلے سے پرورش پائی ہے اس لیے طبیعت میں ذرا اکھڑ پن آ گیا ہے۔

سٹیشن سے بڑھ کے شہر میں قدم رکھو تو پاؤں کچھ رکتے معلوم ہوتے ہیں اور خیال آتا ہے کہ نا جانے صاحب بہادر کب ڈانٹ دیں۔ غرض کہاں لاہور کہا ں کراچی؟ کراچی سے متعلق زیادہ سے زیادہ آپ یہی کہہ سکتے ہیں کہ:

غرور حسن باجہل پٹھانی

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں