سیف سٹی پراجیکٹ کے ناقص کیمروں کا بازگشت پنجاب اسمبلی میں بھی گونج اٹھا

Spread the love

لاہور (نمائندہ صرف اردو ڈاٹ کام) پاکستان مسلم لیگ ق کی رکن صوبائی اسمبلی خدیجہ عمرفاروقی صدر پاکستان مسلم لیگ شعبہ خواتین پنجاب نے

پنجاب اسمبلی میں سابق حکومت کے سیف سٹی پراجیکٹ میں ناقص کیمروں کی تنصیب سے اربوں روپے کے نقصانات پر سوال جمع کرواتے ہوئے

کہا ہے کہ سیف سٹی اتھارٹی کو لاہور پولیس کی جانب سے10ہزار اشتہاریوں کی تصاویر اور ڈیٹا فراہم کرنے کے باوجود سیف سٹی اتھارٹی نے

پولیس کی کوئی مدد نہ کی حالانہ اتھارٹی کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم میں موجود فیشل ریکیگنائزیشن سسسٹم کی مدد سے کیمروں نے شناخت کرنا تھا

اور اشتہاریوں کو گرفتار کرنے میں مدد فراہم کرنی تھی لیکن سیف سسٹم اتھارٹی کے ناقص کیمروں کے باعث ایسا نہ ہوسکا اور 18۔

ارب کی لاگت سے تیار ہونے والا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم سفید ہاتھی بننے لگا ہے۔خدیجہ فاروقی نے پنجاب اسمبلی میں اپنے سوال میں

مطالبہ کیا کہ حکومت پراجیکٹ لینے والی کمپنی سے تمام خراب ناقص کیمرے فوری طور پر تبدیل کروائے تاکہ سیف سٹی پراجیکٹ کے

مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکیں اور یہ منصوبہ کامیابی سے ہمکنار ہوکر اشتہاری اور جرائم پیشہ افراد کے سدباب میں مددگار ثابت ہوسکے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں