شہید مقبول بھٹ کی والدہ کا بیٹے کی برسی پر انٹرویو

Spread the love

سری نگر(کے پی آئی) مقبوضہ کشمیر میں شہید مقبول بٹ کی والدہ شہمالی بیگم نے کہا ہے کہ گذشتہ 30 برسوں

کی مسلح جدوجہدکے دوران اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والا ہرنوجوان میرابیٹا ہے۔

بزرگ خاتون نے کپواڑہ میں اپنی رہائشگاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمر کے حساب سے

میں قبر کی طرف بڑھ رہی ہوں جہاں میرے بیٹے میرا استقبال کرنے کے لیے منتظر ہیں

لیکن میں کشمیر میں آزادی کی صبح دیکھنا چاہتی ہوں۔

شہمالی بیگم نے کہاکہ انہوں نے ریڈیو کے ذریعے یہ خبر سنی کہ ان کے بیٹے کو

کل صبح سات بجے پھانسی دی جائے گی اور یہ خبر سن کرہمارے خاندان پر صف ماتم بچھ گئی۔

انہوں نے کہاکہ وہ پھانسی سے پہلے اپنے بیٹے کو ایک بار دیکھنا چاہتی تھی لیکن میں بے بس تھی۔

انہوں نے کہاکہ کشمیر میں میرے بیٹے جیسے سینکڑوں مقبول ہیں۔ انہوں نے کہاکہ شہید مقبول بٹ کی

برسی پر میرے جذبات اور یادیں بالکل ویسی ہوتی ہیں جو ان کی پھانسی سے ایک رات پہلی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کا بڑا بیٹا غلام نبی بٹ تہاڑ میں مقبول سے ملنے کے لیے دہلی جارہا تھا

لیکن اس کو کشمیر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی اور پولیس نے اس کو سرینگر میں ہی گرفتارکرلیا

جبکہ میرے دوسرے بیٹے منظور احمد کو بھی اسی رات گرفتارکیاگیا۔ یہ تینوں بھائی حراست میں تھے لیکن

مقبول بٹ کی پھانسی کے بعد دونوں بھائیوں کو رہا کیاگیا۔ شہمالی بیگم نے کہا کہ بھارتی حکام

نے تدفین کے لیے مقبول کی میت بھی ہمارے حوالے نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ جب میرے دوسرے بیٹے کو شہید کیاگیا تو ٹاسک فورس کا ایک افسر گلبدین سنگھ

ہمارے گھر آیا اور ہم پر تشدد کیا جس دوران میرے دو دانت ٹوٹ گئے۔

اپنے ٹوٹے دانت دکھاتے ہوئے شہمالی بیگم نے کہاکہ یہ ہمیشہ ہمیں بھارتی فورسز کے مظالم کی یاد دلاتے ہیں۔

مقبول بٹ کی ہمشیرہ محمودہ نے کہاکہ ہم مقبول سے ملنے کے لیے سرینگر

ہوائی اڈے پر پہنچے تاکہ پرواز پکڑ سکیں لیکن بھارتی پولیس نے ہمیںروک لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں