’دیوان غالب نسخۂ عرشی‘ کی تدوین میں مولانا امتیاز علی خاں عرشی کا طریقِ کار

Spread the love

گذشتہ روز غالب شناس مولانا امتیاز علی عرشی کی برسی تھی اسی مناسبت سے مولانا امتیاز علی عرشی پر ایک مضمون پیش خدمت ہے۔

صاحب مضمون
Emial: farhanrazique1@gmail.com

عبدالرزاق

محقق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ (یوپی)

مولانا امتیاز علی خاں عرشی (۱۹۰۴ء۔۱۹۸۱ء)جدیدتحقیق وتدوین کے بنیاد گزاروںمیں شمار کیے جاتے ہیں۔ مولانا۱۹۳۳ء میں رام پور کی رضالائبریری کے ناظم مقرر ہوئے۔ انھوںنے وہاں موجود نادر علمی خزانے سے بھرپوراستفادہ کیااورمختلف تاریخی وادبی حیثیت کی حامل کتابوں کوتصحیح وتحشیہ اوراپنے عالمانہ مقدمے کے ساتھ منظر عام پرلائے۔ مولانا اگرچہ شاعربھی تھے اور اپنے ماموں کے ساتھ مشاعروں میں شرکت بھی کرتے تھے لیکن انھوںنے اس کواپنامشغلہ نہیں بنایا یہاں تک کہ اپنے کلام کوشائع کرانابھی مناسب نہ سمجھا۔ مولانا کی اصل پہچان اوران کی اصل دلچسپی اس بات میں تھی کہ کسی نادر علمی خزانے کی تحقیق کی جائے اور اس کوخاص وعام کے استفادے کے لیے منظرِ عام پرلایاجائے۔ انھوںنے غالبؔ سے متعلق بہت سے تحقیقی کام کیے۔ جیسے ’’مکاتیبِ غالب ‘‘(۱۹۳۷ء) ، ’’فرہنگِ غالب‘‘(۱۹۴۷ء)،’’انتخابِ غالب‘‘اور’’دیوانِ غالب نسخۂ عرشی ‘‘وغیرہ یہی وجہ ہے کہ ان کاشمار ماہرین غالبیات میں بھی کیاجاتاہے۔ غالبیات کے علاوہ انھوںنے دوسری کتابوں کی بھی تدوین کی ہے۔ ان میں ’’دستورالفصاحت‘‘مصنفہ احدعلی خاںیکتاؔ لکھنوی،’’تاریخ اکبری‘‘ مصنفہ عرفان سمرقندی قابل ذکرہیں۔

’’دستورالفصاحت‘‘سیداحد علی خاں یکتاؔ کی تصنیف ہے اورمولانا عرشی کے مطابق یہ کتاب انشاء اللہ خاں انشاءؔ کی ’’دریاے لطافت‘‘(۱۲۲۲ھ/۱۸۰۷ء)سے قبل ہی مکمل ہوچکی تھی لیکن اشاعت کے اسباب کی معدومی کے باعث زیورطبع سے آراستہ نہ ہوسکی۔  جب یہ کتاب رامپور کی لائبریری کے لیے مخطوطے کی شکل میں خریدی گئی اورمولانا نے اس کے مطالعے کے بعد اس کی اہمیت کوجاناتوتصحیح وترتیب کوضروری سمجھاچنانچہ یہ کتاب ۱۹۴۳ء میں مولانا کے مقدمۂ بسیطہ اورحواشیِ مفیدہ کے ساتھ منظرِ عام پرآئی۔ 
اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی کہ مولانانے اس کے مقدمے میں اپنے طریقِ کار کے ضمن میں تدوین کے اصول بیان کیے ہیں جو اردوتدوین میں اساس کی حیثیت رکھتے ہیں۔نیز مولانا نے اپنے دیباچے میں ’’مآخذ حواشی‘‘کے عنوان سے کتابِ مذکورکے حواشی کی ترتیب میںماخوذعنہٗ کتابوں کاتعارف کرایاہے جن میں اکثریت تذکروں کی ہے۔ مولاناکے اس کام کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ اس کے بعد تذکروں پر کام کرنے والے تمام حضرات کے لیے یہ دیباچہ نشانِ راہ ثابت ہواہے اورمحققین اس کتاب سے زیادہ اس کے دیباچے کی اہمیت کے قائل نظرآتے ہیں۔ 

غالبیات کے سلسلے میں مولانا کی خدمات میں سے جن چار تصنیفات کاذکر اوپر کیاگیا وہ تمام ہی تصانیف اپنی اپنی جگہ پراہم ہیںاور ان سب میں مولانا نے اپنی علمی کاوشوں اوراصول تدوین کاعمدہ نمونہ پیش کیا ہے۔ مگردیوان غالب نسخۂ عرشی میں ان کاتدوینی طریقِ کار اپنے نقطۂ عروج پرپہنچ گیاہے۔ اسے انجمن ترقی اردو (ہند)نے ۱۹۵۸ء میں پہلی بار اور۱۹۸۲ء میں دوسری بار شائع کیا۔ اس سے قبل دیوانِ غالب کایہ اندازِ ترتیب کسی اورکے یہاں نہیں ملتا۔یہ غالب کی خوش قسمتی ہے کہ ان کی شاعری اورنثرپرجتناتحقیقی کام ہواہے اتناکسی اورپر نہیں ہوا۔ ان کی یہ بھی خوش نصیبی ہے کہ ان کے کلام کی تدوین مولاناعرشی نے کی ہے۔ 

مولانا کے مرتب کردہ دیوان کی سب سے بڑی اورپہلی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انھوںنے اس وقت تک دستیاب غالب کے متداول اورغیرمتداول تمام کلام کو یکجا کردیاہے۔ مولانا نے اس نسخے میں غالب کے کلام کوتین عنوانات کے تحت جمع کیاہے :
(۱) گنجینۂ معنی
(۲) نواے سروش
(۳) یادگارنالہ

ان میں سے اول الذکر حصے میں غالب کے ابتدائی زمانے کاکلام ہے جس کوغالب نے دیوان مرتب کرتے وقت نہیں چھپوایا تھا۔ ثانی الذکر میں غالب کاوہ کلام ہے جومتداول ہے اورجس کوغالب نے اپنی حیات میں ہی چھواکر تقسیم کیاتھااورآخرالذکرحصے میں وہ کلام ہے جو مختلف اخبارات ،رسائل اورخطوط میں شائع ہوا لیکن وہ کلام دیوانِ کلام ِمتداول کاحصہ نہ تھا۔

دوسری خصوصیت یہ ہے کہ اس نسخے میں مولانا نے کلام کوجمع کرنے میں تاریخی ترتیب کالحاظ رکھاہے جیساکہ ماقبل میں مذکور تفصیل سے معلوم ہوتاہے اوریہ اس نوعیت کاپہلا، منفرداور کامیاب تجربہ ہے۔ اگرچہ اس سے قبل بھی اس طرح کی کوششیں ہوئی تھیں لیکن وہ نامکمل رہی تھیں۔ ڈاکٹر عبداللطیف نے غالب کے جملہ کلام کوتاریخی ترتیب کے ساتھ شائع کرنے کاارادہ کیا تھامگر ان کے تیار کیے ہوئے موادکا صرف نصف حصہ ہی منصہ شہود پر آسکا۔ اس کے علاوہ شیخ اکرام نے ’’غالب نامہ‘‘اور ’’ارمغانِ غالب‘‘میں یہ کوشش کی لیکن یہ بھی نامکمل رہی۔

تیسری بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میںغالب کے کلام کو غالب کے منشا کے مطابق پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو تدوین کاپہلا اصول بھی ہے۔ مولانا نے خوداپنے مقدمے میں صراحت کی ہے کہ املااوررسم الخط کے معاملے میں موجودہ اصول اور غالب کے اختیار کردہ اصول دونوں سے کام لیاگیاہے۔ مثلاً غالب کایہ اصول مشہور ہے کہ وہ ’خورشید ‘کو بحذف الواو یعنی ’خُرشید‘لکھتے تھے چنانچہ مولانا نے بھی اس نسخے میں ’خُرشید‘ ہی لکھاہے۔مثلاً نسخۂ عرشی حصۂ قصائدمیں صفحہ نمبر۷؍ کے چوتھے شعرمیں لفظ ’خورشید‘آیاہے اوراُس کومولانا نے ’خُرشید‘لکھاہے۔ شعراس طرح ہے:

دوست اس سلسلۂ ناز کے ،جوں سنبل وگل

ابرِ میخانہ کریںساغرِ خُرشید شکار (۱)

اسی طرح غالب فارسی واردوالفاظ میں ’ذ‘لکھناغلط قرار دیتے تھے اوراس کی جگہ ’ز‘لکھتے تھے مثلاًزرا،گزر، رہگزر،گزارش وغیرہ۔ چنانچہ نسخۂ عرشی میں ان جیسے الفاظ غالب کے منشاکے مطابق لکھے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ غالبؔ ’ہاے مختفی‘ (ہ) پرختم ہونے والے الفاظ کومحرف صورت میں ’’ے‘کے ساتھ لکھتے تھے مثلاً ’رتبہ‘کو ’رتبے‘،’کوچہ‘کو’کوچے‘اور ’زمانہ‘کو’زمانے‘وغیرہ۔ یہ تمام وہ مثالیں ہیں جن کے اس طرح کے املا پر غالبؔ اصرار کرتے تھے اورمولانا نے ان کا خیال رکھاہے ،لیکن بعض مقامات پرموجودہ دور کے املا کا بھی لحاظ رکھاگیاہے جیسے پچھتاتااوراس جیسے الفاظ میں غالب ’ہاے مخلوط‘(ھ)کوحذف کرکے صرف ’چ‘لکھتے تھے جیسے ’پچتاتا‘، ’پچتایا‘ اور’پچتاوا‘وغیرہ یااس کے برعکس ’تڑپنا‘،’تڑپتا‘ اور’تڑپا‘میں غالب’پ‘کے ساتھ ہائے مخلوط کااضافہ کرتے تھے اوراس طرح لکھتے ’تڑپھنا‘، ’تڑپھتا‘اور’تڑپھا‘وغیرہ۔ مولانا نے ان الفاظ کو لکھنے میں رائج الوقت رسم الخط کالحاظ کرتے ہوئے ’ پچھتانا‘ اور ’تڑپنا‘لکھا ہے۔

اس نسخے کی چوتھی خصوصیت یہ ہے کہ اگرغالب کے کسی شعریاغزل کی تشریح خود غالب کے الفاظ میں دستیاب ہوگئی ہے تو اس کوبھی پیش کردیاگیاہے اوراس کے لیے باقاعدہ ایک عنوان ’’شرحِ غالب‘‘کے نام سے قائم کیاہے یعنی شرحِ کلامِ غالب بالفاظِ غالب۔ تشریح شعر کے علاوہ اگرکسی شعرکے سلسلے میںاس کا سببِ تحریر بھی معلوم ہوگیاہے تو انھوںنے اس کو بھی پیش کردیاہے دونوں جزئیات کی ایک ایک مثال یہاں پیش کی جاتی ہے۔ غالب کے متداول دیوان اور اس نسخے کے حصۂ دوم ’’نواے سروش‘کی پہلی غزل کاپہلاشعرہے:

نقش فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا؟

کاغذی ہے ،پیرہن ہرپیکرِ تصویرکا (۲)

مولاناعرشی نے ’عودِ ہندی‘کے ایک خط کے حوالے سے اس شعر کی تشریح اس طرح نقل کی ہے:

’’ایران میں رسم ہے کہ داد خواہ کاغذ کے کپڑے پہن کر حاکم کے سامنے جاتاہے ،جیسے مشعل دن کو جلانا، یاخون آلود کپڑا بانس پرلٹکا کرلے جانا‘‘(۳)

دوسرے جزئیے کی مثال یہ ہے کہ ایک شعرہے جس کے کہنے کاسبب خود غالب نے میرمہدی مجروح کولکھاہے اوروہ خط ’اردوے معلی‘ ص ۱۸۳، ’عودِ ہندی‘ ص۹۳ ،’خطوطِ غالب‘: ج۱، ص ۲۵۵ میں شامل ہے۔ مولانا نے اس خط کو بھی اس شعر کے حوالے سے نقل کر دیاہے۔شعراس طرح ہے:

توڑبیٹھے جب کہ ہم جام وسبو، پھرہم کوکیا؟
آسماں سے بادئہ گلفام گربرساکرے

میرزاغالب لکھتے ہی:
’’نواب گورنرجنرل بہادر ۱۵ دسمبر کو یہاں داخل ہوں گے دیکھیے کہاں اترتے ہیں اورکیونکر دربار کرتے ہیں؟ رہے دربارِ عام والے، مہاجن لوگ سب موجود۔ اہل اسلام میں سے صرف تین آدمی باقی ہیں۔ میرٹھ میں مصطفی خاں، سلطان جی میں مولوی صدر الدین خاں، بلّی ماروں میں سگِ دنیا موسوم بہ اسد۔ تینوں مردود ومطرود ومحروم ومغموم۔ بیت:

توڑبیٹھے جب کہ ہم جام وسبوپھرہم کوکیا؟

آسماں سے بادئہ گلفام گربرساکرے (۴)

اس طرح کی دیگرمثالیں بھی موجود ہیں جن میں غالب نے خوداپنے اشعار کا مفہوم یاوجۂ تحریر کسی کے نام خط میں لکھی ہے۔ اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مولاناعرشی نے ان کے مفہوم تک رسائی حاصل کی اوراس کے ساتھ ساتھ اس شعر کی تاریخی اورزمانی ترتیب کا بھی اندازہ لگایااوراس کوبروے کارلائے۔

پانچویں خصوصیت یہ ہے کہ مولانانے تاریخی ترتیب کوقائم رکھنے کے لیے اور ان کاپتا لگانے کے لیے ان تضمینات کے بارے میں تلاش و جستجو کی جو غالب کے کلام پر کی گئیں اوران سے اس سلسلے میں مدد حاصل کی مثلاً کسی تضمین کو دیکھ کر یہ معلوم ہواکہ یہ غالب کی فلاں غزل پرہے اوراس کازمانۂ تحریر یہ ہے تواس سے معلوم ہواکہ جس غزل پر وہ تضمین ہوئی ہے یقینا وہ غزل اس تضمین سے قبل کہی گئی ہوگی۔ لہٰذا تلاشِ تضمین بر کلام ِ غالب بھی زیر بحث کتاب کااہم خاصہ ہے۔

چھٹی خصوصیت یہ ہے کہ اگرکسی غزل یاشعرمیں بیان کردہ مضمون یاموضوع کسی دوسری غزل یاشعرمیں بھی بیان کیاگیا ہو خواہ وہ فارسی کلام میں ہو یا اردومیں ،حاشیے میں ’’نیز ملاحظہ ہو‘‘ کی سُرخی کے تحت وہ دوسرا شعر بھی نقل کر دیا گیا ہے۔ اس کی ایک مثال درج ذیل ہے:

’نواے سروش‘ صفحہ نمبر ۲۳۱پردوسراشعرہے :

کم نہیں جلوہ گری میں ترے کوچے سے بہشت

یہی نقشہ ہے ،ولے اس قدرآباد نہیں

حاشیے میں اسی مضمون کادوسراشعر اس طرح نقل کیاگیاہے:

کیاہی رضواں سے لڑائی ہوگی!

گھرترا،خلدمیں گر،یادآیا (۵)

مذکورہ بالادونوں اشعارمیں مناسبت اور ان کامختصرمفہوم یہ ہے کہ ان میں کوچۂ یار کوجنت سے برتر قرار دینے کی کوشش کی ہے نیز اس بات کا بھی بیان ہے کہ آخرت کی تمام عیش وعشرت کے باوجود محبوب کی یاددل سے نہیں جاتی۔

عرشی صاحب نے متن کونقل کرنے میں یہ طریقہ اختیار کیاہے کہ ہرغزل پرنمبر ڈالے ہیں پھراس نمبر کے نیچے اس نسخے کی / ان نسخوں کی علامت بنائی ہے جن سے وہ غزل نقل کی گئی ہے۔ صفحے میں ہرپانچویںشعر پر نمبر ڈالاہے۔ حاشیہ لکھنے کے لیے انھوںنے ’الف‘ اور ’ب‘ کی علامات قائم کی ہیں۔ ’الف ‘سے مراد مصرعۂ اول ہے اور’ب ‘سے مرادمصرعۂ ثانی ہے۔ چنانچہ اگرمصرعۂ اولیٰ میں کوئی اختلاف یا وضاحت طلب بات ہوتواس کو ’الف‘کے ذیل میں لکھا ہے اور اگرمصرعۂ ثانی میں ہے تو اس کو ’ب‘ کے تحت لکھاہے۔ جیسے ’گنجینۂ معنی‘ میں صفحہ نمبر۸۹پر چوتھا شعر ہے:

شوخیِ اظہار غیراز وحشتِ مجنوں نہیں
لیلیِ معنی ،اسدؔ، محمل نشینِ راز ہے (۶)

حاشیے میں شعرنمبر۴ڈالاہے کیونکہ یہ اس صفحے کاچوتھا شعر ہے پھر چونکہ حاشیہ مصرعۂ اول اورمصرعۂ ثانی دونوں پر ہے اس لیے پہلے مصرعۂ اول کا اختلاف بیان کرنے کے لیے ’الف ‘کی علامت بنائی ہے۔ اس کے بعد نسخوں کااختلاف نقل کیاہے کہ ’نسخۂ ’’ق‘‘ میںعبارت اس طرح ہے’’کوجزوحشت مجنوںاسد‘‘۔اسی طرح مصرعۂ ثانی کے اختلاف کوبیان کرنے کے لیے ’ب‘کی علامت بنائی ہے۔اس کے بعد نسخوں کااختلاف نقل کیا ہے کہ نسخۂ ’ق‘ اور’ح‘میں’’بسکہ لیلاے سخن‘‘ لکھاہے۔

مقدمے میں موجود صراحت سے معلوم ہوتاہے کہ ’ق‘سے نسخۂ بھوپال اور’ح‘سے نسخۂ حمیدیہ اول مراد ہے۔ گویا عرشی صاحب یہ کہنا چاہتے ہیں کہ نسخہ ٔ بھوپال میں شعر کی صورت اس طرح سے ہے:

شوخیِ اظہار کوجز وحشتِ مجنوں اسدؔ

بسکہ لیلاے سخن ،محمل نشینِ راز ہے

اورمصرعۂ ثانی کااختلاف نسخۂ بھوپال کے ساتھ ساتھ نسخۂ حمیدیہ اول میںبھی موجود ہے۔

نسخۂ عرشی کے آخرمیں عرشی صاحب نے ’’فہرستِ اشعار‘‘دی ہے جس کے ذریعے سے غالب کی کوئی بھی غزل جواس نسخے میں موجود ہوحروفِ تہجی کی ترتیب سے دیکھی جاسکتی ہے۔ مثلاًاگرغزل یاشعرکی ردیف ’الف‘پر ختم ہورہی ہو تو’الف‘کی ردیف میں دیکھیں گے۔ اور اگردوغزلوں کی ردیف مماثل ہو تو ردیف سے پہلے والے لفظ کو دیکھیں گے کہ کیاہے اوراس طرح غزل کی تلاش کریں گے اس میں صفحہ نمبر اور شعرنمبر کی نشان دہی کر دی گئی ہے کہ یہ غزل کس صفحے پر اورکتنے نمبر شعرسے شروع ہورہی ہے۔

’’فہرست اشعار‘‘ کے بعد تین اشاریے ہیں۔ پہلے اشاریے میں اشخاص، اقوام اور فرقوں کے متعلق وضاحتیں ہیں۔ دوسرے اشاریے میں مقامات کاذکرہے اورتیسرے اشاریے میںکتب ورسائل کاذکرہے۔

اخیر میں اس بات کاذکر مناسب معلوم ہوتاہے کہ نسخۂ عرشی کی اشاعت ثانی میں درج بالا تین حصوں ’’گنجینۂ معنی‘‘ ، ’’نواے سروش‘‘ اور ’’یادگارِ نالہ‘‘ کے علاوہ ایک چوتھا حصہ ’’بادآورد‘‘ کے نام سے شامل ہے۔ اس حصے میںغالب کا وہ کلام ہے جو ۱۹۶۹ء میں غالب صدی تقریبات کے موقع پر دستیاب ہواتھا۔ اکبرعلی خاں عرشی زادہ نے اس حصے سے قبل اپنی تمہیدی تحریر میں لکھاہے کہ اس حصے کی دستیابی کے وقت نسخہ عرشی اشاعت ثانی کے لیے پریس میں جاچکاتھااوراس کااکثرحصہ چھپ بھی چکاتھااس لیے اس حصے کے کلام کو اصل متن میں اس کی ترتیب سے شامل کرنے کی بجائے علاحدہ سے شامل کردیا گیا ہے۔ عرشی زادہ کی اس گفتگوسے اندازہ ہوتاہے کہ یہ حصہ مولانا عرشی کے صاحب زادے اکبرعلی خاں عرشی زادہؔ نے شامل کیاہے اوراس حصے پر مولانا نے کوئی نظر نہیں ڈالی ہے۔ مقدمے میں اس نسخے کاتعارف بھی عرشی زادہؔ نے ہی پیش کیاہے اور اس بات کی وضاحت نہ ہونے سے یہ اشتباہ ہوتاہے کہ شاید اس نسخے کا تعارف بھی مولانا عرشی نے ہی پیش کیاہے اور یہ اشاعت مولانا کی نظر سے گذری ہے حالانکہ یہ امر خلافِ واقعہ ہے کیونکہ جس وقت یہ حصہ ترتیب دیاجارہاتھااس وقت مولانا بستر علالت پر تھے اور اس کو دیکھ نہیں سکے تھے۔

خلاصہ یہ کہ نسخۂ عرشی اپنی گوناگوں خصوصیات کی بناپر دیوانِ غالب کی دیگراشاعتوںکے بالمقابل امتیازی حیثیت کا حامل ہے اور ادب کے قارئین کے لیے بالعموم اور غالبیات سے شغف رکھنے والوں کے لیے بالخصوص ایک قابل اعتماد ماخذ ہے۔ یہ نسخہ فن تدوین کا ایک مکمل نمونہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس کی دو اشاعتوں کے بعد تیسری اشاعت نہیں ہوسکی جس کی وجہ سے یہ شاہکار گم گشتۂ تاریخ ہوتا جا رہا ہے۔ بازارمیں تواس کے نسخے دستیاب ہیں ہی نہیں اورجونسخے لائبریریوں میں موجود ہیں وہ بھی خستگی اور بوسیدہ حالی کی طرف جارہے ہیں۔ ابھی چند ایام قبل یہ اطلاع ملی تھی کہ انجمن نے اس کی کمپوزنگ کرالی اوراب پروف ریڈنگ کی جا رہی ہے۔ اگریہ بات مبنی برصداقت ہے تو یہ بہت ہی خوش آئند اطلاع ہے۔ انجمن سے ایک گزارش پر اپنے اس مضمون کوختم کرنا چاہتاہوںکہ جب اس کی از سرِنو اشاعت عمل میں لائی جارہی ہے تو اگر اس بات کی وضاحت شامل کردی جائے کہ اس نسخے میں کتنا حصہ مولانا عرشی کا ہے اورکتنا عرشی زادہؔ کاتواس سے وہ اشتباہ کی صورت باقی نہیں رہے گی جو موجودہ نسخے کی اشاعت ثانی میں ہے۔

حواشی:
۱۔ دیوان غالب نسخۂ عرشی۔ حصۂ قصائد،ص۷۔ اشاعت دوم۔ ۱۹۸۲ء
۲۔ دیوان غالب نسخۂ عرشی۔ حصہ :نواے سروش۔ ص۱۴۲۔ اشاعت اول۔ ۱۹۵۸ء۔
۳۔ دیوان غالب نسخۂ عرشی۔ حصہ :شرحِ غالب۔ ص۳۱۷۔ اشاعت اول۱۹۵۸ء۔
۴۔دیوان غالب نسخۂ عرشی۔ حصہ :شرحِ غالب۔ ص۳۱۹۔اشاعت اول۔۱۹۵۸ء۔
۵۔دیوان غالب نسخۂ عرشی۔ حصہ :نواے سروش۔ص۲۳۱۔اشاعت دوم۔۱۹۸۲ء۔
۶۔دیوان غالب نسخۂ عرشی۔ حصہ :گنجینۂ معنی۔ ص۸۹۔اشاعت دوم۔۱۹۸۲ء۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں