آج کا شاعر ارشد جمال صارم

Spread the love

ارشد جمال صارم شعبہ طب سے وابستہ ہیں اور بحثیت اسسٹنٹ پروفیسر، شعبئہ امراض جلد و تزئینیات، محمدیہ طبیہ کالج، منصورہ، مالیگائوں، ناسک، مہاراشٹرا میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں خدا نے ہاتھوں میں قلم دیا ہے تو قلم کو لفظوں سے معمور کیا ہے صاحب ذوق بھی ہیں اور صاحب دیوان ہونے کو ہیں ۔ جلد ہی مجموعہ کلام ’’سخن زاد‘‘ دستیاب ہوگا۔

وحشت کا بے کنار سمندر کیا مجھے
صحرا نے اپنی آنکھ کا منظر کیا مجھے

ہر نقش ہی شرار ہے خاشاکِ جسم کو
کس آتشِ خیال نے آذر کیا مجھے

وہ جس کو سن کے ساعتیں ہوجائیں منجمد
اک ایسی ہی پکار نے پتھر کیا مجھے

پھر جبر نے کسی کے عطا کی مجھے پناہ
جب میرے اختیار نے بے گھر کیا مجھے

آ جاؤں ہر مقام پر میں حسبِ احتیاج
اس نے کچھ اس حساب سے چادر کیا مجھے

یوں ہی پڑا ہوا تھا میں چشم سحاب میں
آنسو بنا کے اس نے سمندر کیا مجھے

عاجز ہیں فیصلوں سے مری ساری وسعتیں
اس طرح خواہشات نے محشر کیا مجھے

صد شکر میں بھی زخم کھرچتا ہوں زیست کے
صد شکر میری فکر نے نشتر کیا مجھے

اپنا تبصرہ بھیجیں