آج ملکہ پکھراج کو مداحوں سے بچھڑے 15 سال بیت گئی

Spread the love
ملکہ پکھراج کی ایک نایاب تصویر، بشکریہ آزاد دائرۃ العارف انسائیکلوپیڈیا

ملکہ پکھراج کا تعلق جموں سے تھا اور وہ جموں و کشمیر ریاست کے راجا ہری سنگھ کے دربار سے وابستہ رہیں۔ شیخ عبداللہ کی کتاب آتش چنار میں اس کا ذکر ہے کہ وہ مہاراجا سے کتنا قریب تھیں۔

انہیں راجا ہری سنگھ کا دربار ہنگامی طور پر اس لیے چھوڑنا پڑا کہ ان پر راجا کو زہر دے کر مارنے کا الزام لگا دیا گیا تھا۔

وہ جموں سے پہلے دہلی گئیں اور پھر پاکستان بننے کے بعد وہ لاہور آگئیں جہاں انہیں پکھراج جموں والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔

ملکہ پکھراج بنیادی طور پر پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کی لوک موسیقی کی ماہر تھیں اور چالیس کی دہائی میں ان کا شمار برصغیر کے صف اول کے گانے والوں میں ہوتا تھا۔ وہ ٹھمری کے انگ میں غزل گاتی تھیں۔

لاہور میں ان کی شادی شبیر حسین شاہ سے ہوئی جنہوں نے پاکستان ٹی وی کا مشہور اردو ڈراما سیریل جھوک سیال بنایا تھا۔

ملکہ پکھراج نے حفیظ جالندھری کی بہت سی غزلیں اور نظمیں گائیں جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئیں، خاص طور پر: ’’ابھی تو میں جوان ہوں‘‘۔ ریڈیو پاکستان کے موسیقی کے پروڈیوسر کالے خان نے زیادہ تر ان کے لیے دھنیں بنائیں۔

چھوٹی بیٹی مشہور گلوکارہ طاہرہ سید ہیں جو اپنی والدہ کی طرح ڈوگری اور پہاڑی انداز کی گائیکی میں مہارت رکھتی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں