آج معین احسن جذبی کا یوم وفات ہے

Spread the love

1912 تا 13 فروری 2005

معین احسن جذبی

معین احسن جذبی اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں مبارکپور میں1912 میں پیدا ہوئے۔ مالی بدحالی اور سوتیلی ماں کی بدسلوکی کی وجہ سے وہ بچپن سے اداس رہا کرتے تھے۔ اپنی نجی زندگی سے نظر ہٹاکر انہوں نے اردو شاعری کے لیے اس کے مشہور شخصیتوں کے کام کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے ابتدائی عمر سے شعر لکھنا شروع کر دیا۔ 17 سال کی عمر میں انہوں نے ایک دل کو چھو جانے والی نظم لکھی جس کا عنوان تھا “فطرت ایک مفلس کی کی نظر میں” ۔

انہوں نے 1929 ء میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی اور پھر انٹرمیڈیٹ سینٹ جان کالج، آگرہ سے کیا۔ پھر جذبی نے دہلی کے اینگلو عربی کالج شمولیت اختیار کر لی اور یہیں سے بی اے مکمل کیا۔ 1941 میں انہوں نے علی گڑھ کا رخ کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کیا۔

1945 میں جذبی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اردو ڈیپارٹمنٹ میں لیکچرر کے طور پر مقرر ہوئے۔ 1956 میں مولانا حالی کی زندگی کے اوپر تحقیقی مقالہ لکھا جس پر انہیں پی ایچ ڈی کی ڈگری دی گئی۔ ملازمت کے استحکام کے ساتھ ہی ان کی زندگی میں شاعری کے لیے بھی خاصا وقت نکلنے لگا۔

ذاتی زندگی میں یہ ان کی عالی ظرفی ہی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنی سوتیلی ماں کی اچھی دیکھ بھال کی تھی جس کا خود کا رویہ ان کے لیے اچھا نہیں تھا۔

جذبی نے اردو ترقی پسند مصنفین تحریک کے ساتھ منسلک ہوئے۔ ان کی شاعری “فروزاں”، “سخن مختصر” اور “گداز شب” کے عنوانات کے تحت چھپتی تھی۔ جذبی کی کلّیات کو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے بعد از مرگ شائع کیا گیا۔

اردو زبان کا یہ عظیم شاعر13 فروری 2005 اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا۔

نمونہ کلام

ہم دہر کے اس ویرانے میں جو کچھ بھی نظارا کرتے ہیں
اشکوں کی زباں میں کہتے ہیں آہوں میں اشارا کرتے ہیں

کیا تجھ کو پتا کیا تجھ کو خبر دن رات خیالوں میں اپنے
اے کاکل گیتی ہم تجھ کو جس طرح سنوارا کرتے ہیں

اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارا کرتے ہیں

کیا جانیے کب یہ پاپ کٹے کیا جانیے وہ دن کب آئے
جس دن کے لیے ہم اے جذبیؔ کیا کچھ نہ گوارا کرتے ہیں

مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہش دنیا کون کرے

جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

جو آگ لگائی تھی تم نے اس کو تو بجھایا اشکوں نے
جو اشکوں نے بھڑکائی ہے اس آگ کو ٹھنڈا کون کرے

دنیا نے ہمیں چھوڑا جذبیؔ ہم چھوڑ نہ دیں کیوں دنیا کو
دنیا کو سمجھ کر بیٹھے ہیں اب دنیا دنیا کون کرے

بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
اک میٹھے میٹھے درد کی راحت کہاں سے لائیں

ڈھونڈیں کہاں وہ نالۂ شب تاب کا جمال
آہ سحر گہی کی صباحت کہاں سے لائیں

سمجھائیں کیسے دل کی نزاکت کا ماجرا
خاموشی نظر کی خطابت کہاں سے لائیں

ترک تعلقات کا ہو جس سے احتمال
بیباکیوں میں اتنی صداقت کہاں سے لائیں

افسردگی ضبط الم آج بھی سہی
لیکن نشاط ضبط مسرت کہاں سے لائیں

ہر فتح کے غرور میں بے وجہ بے سبب
احساس انفعال ہزیمت کہاں سے لائیں

آسودگی لطف و عنایت کے ساتھ ساتھ
دل میں دبی دبی سی قیامت کہاں سے لائیں

وہ جوش اضطراب پہ کچھ سوچنے کے بعد
حیرت کہاں سے لائیں ندامت کہاں سے لائیں

ہر لحظہ تازہ تازہ بلاؤں کا سامنا
ناآزمودہ کار کی جرأت کہاں سے لائیں

ہے آج بھی نگاہ محبت کی آرزو
پر ایسی اک نگاہ کی قیمت کہاں سے لائیں

سب کچھ نصیب ہو بھی تو اے شورش حیات
تجھ سے نظر چرانے کی عادت کہاں سے لائیں

جب کبھی کسی گل پر اک ذرا نکھار آیا
کم نگاہ یہ سمجھے موسم بہار آیا

حسن و عشق دونوں تھے بے کراں و بے پایاں
دل وہاں بھی کچھ لمحے جانے کب گزار آیا

اس افق کو کیا کہیے نور بھی دھندلکا بھی
بارہا کرن پھوٹی بارہا غبار آیا

ہم نے غم کے ماروں کی محفلیں بھی دیکھیں ہیں
ایک غم گسار اٹھا ایک غم گسار آیا

آرزوئے ساحل سے ہم کنارا کیا کرتے
جس طرف قدم اٹھے بحر بے کنار آیا

یوں تو سیکڑوں غم تھے پر غم جہاں جذبیؔ
بعد ایک مدت کے دل کو سازگار آیا

عیش سے کیوں خوش ہوئے کیوں غم سے گھبرایا کیے
زندگی کیا جانے کیا تھی اور کیا سمجھا کیے

نالۂ بے تاب لب تک آتے آتے رہ گیا
جانے کیا شرمیلی نظروں سے وہ فرمایا کیے

عشق کی معصومیوں کا یہ بھی اک انداز تھا
ہم نگاہ لطف جاناں سے بھی شرمایا کیے

ناخدا بے خود فضا خاموش ساکت موج آب
اور ہم ساحل سے تھوڑی دور پر ڈوبا کیے

وہ ہوائیں وہ گھٹائیں وہ فضا وہ اس کی یاد
ہم بھی مضراب الم سے ساز دل چھیڑا کیے

مختصر یہ ہے ہماری داستان زندگی
اک سکون دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے

کاٹ دی یوں ہم نے جذبیؔ راہ منزل کاٹ دی
گر پڑے ہر گام پر ہر گام پر سنبھلا کیے

اپنا تبصرہ بھیجیں