حکیم اجمل خاں کی طبی خدمات

Spread the love

ڈاکٹر فیاض احمد (علیگ)
اسسٹنٹ پروفیسر۔شعبہ تحفظی و سماجی طب
ابن سینا، طبیہ کالج۔بیناپارہ، اعظم گڑھ
dr.faiyaz.alig@gmail.com

صاحب مضمون

حکیم اجمل خان 11 فروری 1898 تا 29 دسمبر 1927

11 فروری حکیم اجمل خان کا یوم پیدائش ہے اس حوالے سے ہمارے ایک محسن ڈاکٹر فیاض احمد( علیگ) نے اعظم گڑھ سے مضمون ارسال کیا جس پر ہم ان کے مشکور ہیں۔ ان کا شکریہ ادا کرنا اس لیے بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ امتدادِ زمانہ نے ہماری روز مرہ زندگی کو بہت بدل دیا ہے، چونکہ اس دور میں علم کی قدر و قیمت ختم ہوتی جا رہی ہے تو اہل علم کی شناخت کیسے باقی رہے گی، یہ اگر آج بھی باقی ہے تو جانیے کہ یہ ہمارے ممدوح ڈاکٹر فیاض احمد (علیگ) جیسے مہربانوں اور قدر شناسوں کی وجہ سے ہے، اس خطے میں سوائے دو لوگوں کے شائد ہی کسی نے اجمل خان کو یاد کیا ہو گا، ان میں ڈاکٹر صاحب کے علاوہ ہمارے انتہائی محترم جامعہ طبیہ دیوبند، سہارنپور کے پرنسپل پروفیسر شمیم ارشاد اعظمی صاحب کا مضمون ہم نے گذشتہ روز شائع کیا ہے۔

ہندوستان میں طب یونانی کی ترقی اور اس کی نشاۃ ثانیہ در حقیقت خاندان شریفی (دہلی) اور خاندان عزیزی(لکھنؤ) کی رہین منت ہے۔ حکیم اجمل خاں اول الذکر خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ اجمل خاں کی ہمہ جہت شخصیت مختلف علوم و فنون، نیز اعلی انسانی اقدار کا مجموعہ تھی۔ وہ ایک ماہر طبیب ہونے کے علاوہ عالم دین ،جادو بیان خطیب، بے مثال ادیب و شاعر اورمقبول عام سیاسی رہنما تھے۔

ہندوستان کی آزادی میں حکیم اجمل خاں کی سیاسی خدمات اور قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا نام صف اول کے مجاہدین آزادی میں آتا ہے۔ عوام الناس میں اجمل خاں کی عزت و مقبولیت کو دیکھتے ہوئے پنڈت جواہر لال نہرو ان کو ’’بے تاج بادشاہ ‘‘کہا کرتے تھے جبکہ ان کی پر کشش شخصیت کی بناء پر سابق وائسرائے ہند لارڈ ہارڈنگ نے ان کو ’’میگنیٹ آف انڈیا‘‘ (ہندوستان کا مقناطیس)کا خطاب دیا تھا اور ان کے اوصاف و محاسن کی وجہ سے کراچی کارپوریشن کے چیر مین نے ان کو ’’افسانوی شخصیت قرار دیا تھا۔(۱)

سیاسی میدان میںشہرت و مقبولیت کے ساتھ ساتھ علمی و ادبی دنیا میں بھی اجمل خاں کی بڑی قدر و منزلت تھی۔ اردو فارسی اور عربی تینوں زبانوں پر عبور حاصل تھا، چنانچہ اکثر کتب و رسائل عربی زبان میں ہی تحریر کئے ہیں (جن کی تفصیل آگے آئے گی)، شاعری کا اعلی ذوق رکھتے تھے اور شَیدا تخلص کے ساتھ اردو وفارسی دونوں زبانوں میں طبع آزمائی کرتے تھے۔ آپ کا مجموعہ کلام ’’دیوان شیدا‘‘ کے نام سے ڈاکٹر ذاکر حسین صاحب (سابق صدر جمہوریہ ہند)کی زیر نگرانی مطبع شرکت کاویانی، برلن (جرمنی) سے نہایت اہتمام کے ساتھ 1343 ہجری بمطابق ؍1926ء میں شائع ہوا تھا۔ جس کا انتساب خواجہ عبدالمجید (جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پہلے شیخ الجامعہ) اور اساتذہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے نام کیا گیا تھا ،اور اس کا مقدمہ قاضی عبدالغفار کے قلم کا رہین منت تھا۔(۲)

اجمل خاں کے اسی اعلی ادبی ذوق،علمی لیاقت اور سیاسی مقبولیت کی وجہ سے ہی علامہ شبلی نعمانی کہا تھا کہ:۔

’’میری نظر میں ہندوستان بھر میںحکیم اجمل خاں سے زیادہ کوئی شخص قابل عزت نہیں،

کیونکہ علم و امارت کا ان سے بہتر پیکر ملنا مشکل ہے۔‘‘ (۳)

حکیم اجمل خاں عالم دین، ادیب، شاعر اور سیاسی رہنما ہونے کے باوجود بنیادی طور پر ایک ماہر طبیب اور انسانیت کے مسیحا تھے اور یہ فن ان کو اپنے اجداد سے وراثت میں ملا تھا ،حکمت ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس خاندان اور خاص طور سے حکیم اجمل خاں کی دلچسپی و قربانیوں کے طفیل ہی آج ہندوستان میں طب یونانی کا وجود باقی ہے۔ اجمل خاں کی مسیحائی اور حذاقت فن کا شہرہ مغربی ممالک تک تھا ۔ 1911ء میں انگلینڈ و فرانس کے سفر کے دوران آپ نے مغربی ممالک کے مایہ ناز ڈاکٹروں سے طب یونانی کا لوہا منوایا تھا، چنانچہ فرانس کے سینئر سرجن کی ایک لاعلاج مریضہ آپ کے علاج سے ہی شفا یاب ہوئی تھی۔ اسی طرح انگلینڈ میں ڈاکٹر انصاری کے توسط سے آپ کی ملاقات وہاں کے سینئر سرجن ’’ڈاکٹر اسلیلے بائیڈ‘‘ سے ہوئی،اور وہاں بھی اجمل خاں نے بائیڈ کی ایک تشخیص کو غلط قرار دیا اور آپریشن کے بعد واقعی بائیڈ کی تشخیص غلط اور حکیم اجمل خاں کی تشخیص بالکل تیر بہدف ثابت ہوئی اور بائیڈ کو اجمل خاں کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑا، چنانچہ بائیڈ نے بڑی فراخدلی و خندہ پیشانی کے ساتھ اپنی بیوی (جو خود ایک زنانہ اسپتال کی سینئر سرجن تھیں) سے اجمل خاں کا تعارف کراتے ہوئے اپنی شکست کا اعتراف کیا تھا۔ اس نے کہا تھا کہ:۔

’’ ڈاکٹر انصاری کے جن ہم وطن نے مجھے سرجیکل کشتی میں شکست دی ہے، وہ یہ صاحب ہیں‘‘ (۴)

مذکورہ دونوں واقعات اجمل خاں کی حکمت و تشخیص کا بین ثبوت ہیں۔ ان دوواقعات کو تمام تذکرہ نویسوں نے نقل کیا ہے۔ ان دونوں واقعات کے بعدیوروپی ممالک میں حکیم اجمل خاں کی فنی حذاقت کے ساتھ ساتھ طب یونانی کی جس انداز سے پذیرائی ہوئی، وہ قابل رشک ہے ۔ملاحظہ ہو :

’’وہ پہلے ہندوستانی ہیںجن کا بحیثیت اس کے کہ وہ ہندوستان کے طبیب اعظم ہیں ،یوروپ
میںجا بجا خیر مقدم ہوا ،اور انہوں نے نہ صرف رسمی ملاقاتوں بلکہ طبی مشوروں سے جا بجا یوروپ
والوں پر طب اسلامی کی قدر و وسعت کا حال آئینہ کیا۔ وہ پہلے فاضل طبیب ہندوستانی ہیںجن کو
یوروپ میںاتنی بڑی کامیابی حاصل ہوئی۔ بڑے بڑے امراء ان سے ملاقات کرنے ان کی فروگاہ
آتے رہے۔ صدہا لوگوں سے ان کی ملاقاتیں اور گفتگوئیں ہوئیں۔ حکومت نے ان کو اعزاز بخشا اور
ان کی شہرتیں بلاد مغرب میں نئے ساز و سامان کے ساتھ ہوتی رہیں‘‘ ۔(۵)

اجمل خاں کی طبی خدمات کے اعتراف میں انگریز حکومت نے 1908 میں ان کے خاندانی خطاب ’’حاذق الملک‘‘ اور تمغہ ’’قیصر ہندسے سرفراز کیا تھا، مگر اجمل خاںنے 1920 میں جلیانوالہ باغ کے خونی حادثہ (۶) سے متاثر ہو کر انگریزی حکومت کے خلاف غم و غصہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے خطاب اور تمغہ دونوں یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ ’’ؑعطائے تو بہ لقائے تو‘‘ (۷)

اجمل خاں کے اس جذبہ ایثار و قربانی کی قدر کرتے ہوئے قوم و ملت نے انہیں ’’مسیح الملک‘‘ کے خطاب سے نوازا تھا جو ان کے نام کا جزولاینفک بن کر رہ گیا اور تا عمر انہوں نے اس خطاب کی عظمت وحرمت کو برقرار رکھا۔

مسیح الملک حکیم اجمل خاں ۱۷ شوال 1284ہجری بمطابق 11 فروری 1864 میں شریف منزل (دہلی) میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد مولوی صائم علی سے حفظ قرآن کی سعادت حاصل کی اور حکیم دائم علی کے قول کے مطابق تین سال میں حکیم اجمل خاں نے پورا قرآن حفظ کر لیا تھا اور بقول حکیم جمیل الدین (یہ بھی ان کے استاد تھے)اس وقت ان کی عمر پندرہ سولہ برس تھی۔(۸)

حفظ قرآن کے بعددیگر علوم کی طرف متوجہ ہوئے، چنانچہ صرف و نحو،پیر جی صدیق احمد دہلوی سے، منطق و فلسفہ مولوی عبدالرشید رامپوری و شمس العلماء مولوی عبد الحق حقانی(مولف تفسیر حقانی) سے، عربی ادب مولوی محمد طیب رامپوری سے پڑھا، جبکہ دیگر علوم مرزا عبداللہ بیگ و حکیم مولوی جمیل الدین و دیگر اساتذہ سے پڑھے، خوش نویسی میں خلیفہ امیر محمد پنجہ کش و مولوی رضی الدین سے مہارت حاصل کی۔(۹)

طب کی تعلیم والد محترم حکیم محمود خاں اعظم وبڑے بھائیوں (حکیم عبدالمجید خاں و حکیم واصل خاں ) کے پاس بیٹھ کر حاصل کی۔ مطب حکیم محمود خاں اعظم و حاذق الملک اول (حکیم عبدالمجید خاں )کے پاس بیٹھ کر سیکھا کرتے تھے مگر معالجات میں زیادہ تر حکیم واصل خاں کی رائے سے متاثر ہوا کرتے تھے، جبکہ قانون کے زیادہ تر اسباق حکیم غلام رضا خاں سے پڑھے۔ اس طرح اٹھارہ یا انیس سال کی عمر میں 1883 میں تقریبا ًتمام متداول علوم میں مہارت کے ساتھ تعلیم سے فارغ ہو چکے تھے ۔ بقول قاضی عبدالغفار :۔

’’اٹھارہ یا انیس سال کی عمر تک وہ منطق، طبیعیات، ادب، فلسفہ،حدیث، فقہ اور تفسیر کی تمام منزلوں سے گزر چکے تھے۔‘‘ (۱۰)

1883 میں تعلیم سے فراغت کے بعد مدرسہ طبیہ کے قیام کے ابتدائی زمانے سے ہی اس میں دلچسپی لینی شروع کی اور وہیں سے درس و تدریس کا آغاز کیا۔ حکیم عبدالحمید خاں کے انتقال کے بعدمدرسہ طبیہ کی نگرانی و انتظامی امور کی ذمہ داری بھی اجمل خاں کے سر آ گئی۔ اس طرح اجمل خاں نے عملی زندگی میں قدم رکھا اور تا دم آخر طب یونانی کے فروغ و ترقی اور اس کے مسائل کو حل کرنے میں لگے رہے۔

روز اول سے اب تک طب یونانی میں سب سے اہم مسئلہ مفرد ادویہ کی فراہمی، ان کی شناخت اور معیاری مرکبات کی تیاری کارہا ہے۔ اس کے پیش نظر حکیم اجمل خاں نے اپنے بھائی حکیم واصل خاں کے اشتراک سے 1904 میں یونانی اینڈ آیورویدک میڈیسنز کمپنی قائم کی، جس کا مقصد مفرد دواوں کی فراہمی و مرکبات کی تیاری کے ساتھ مدرسہ طبیہ کے لئے رقم کی فراہمی تھی۔ آمدنی میں مزید اضافہ اور دواوں کی اصلاح و بہتری کے مقصد سے ہی حکیم اجمل خاں نے 1907 میں ’’ہندوستانی دواخانہ‘‘ کی بنیاد ڈالی اور شرکاء کو آمادہ کیا کہ وہ اپنے حصص مدرسہ طبیہ کے حق میں فروخت کر دیں، اس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ بقول حسان نگرامی :۔

’’اس دواخانے کی آمدنی حکیم صاحب کے سامنے ہی دو لاکھ سے زائد ہو گئی تھی‘‘ (۱۱)

1906 میں حکیم اجمل خاں نے ’’مدرسہ دائیاں‘‘کی تحریک چلائی، جس کے تحت ’’مدرسہ طبیہ زنانہ‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس کا افتتاح 13 جنوری 1909کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر کی اہلیہ سر لوئی ڈین نے کیا۔ یہ مدرسہ ابتدا میں پرانی دہلی کے ایک محلہ ’’چوڑی والان‘‘ میں ڈپٹی سلطان کی متصل عمارت میں قائم ہوا، بعد میں اسے قرول باغ طبیہ کالج میں منتقل کر دیا گیا۔

1910 میں حکیم اجمل خاں نے ’’انجمن طبیہ‘‘ قائم کی اور اہل خیر حضرات کے تعاون سے قرول باغ میں ایک بڑا رقبہ حاصل کر کے طبیہ کالج کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ سیاسی مصلحت اور دور اندیشی کے پیش نظر اجمل خاں نے اس کا سنگ بنیاد گورنر لارڈ ہارڈنگ سے 29مارچ 1916 کو رکھوایااور اس کا افتتاح 13فروری1921 کو گاندھی جی سے کرایا۔ اس شاندار عمارت میں ایک اندازے کے مطابق اس وقت 671705 روپئے صرف ہوئے تھے۔

1926 میں اجمل خاں نے طبیہ کالج میں ریسرچ کا شعبہ قائم کیا، جس کا سربراہ انھوں نے ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی کو بنایا جنھوں نے شعبہ کیمیا میں جرمنی سے ریسرچ کی تھی۔ ڈاکٹر سلیم الزماں کے مطابق شعبہ ریسرچ میں اجمل خاں تین شعبے کھولنے کا ارادہ رکھتے تھے۔
1۔شعبہ کیمیا
2۔ شعبہ صیدلہ
3۔ شعبہ نباتات

ڈاکٹر صدیقی سے اجمل خاں نے سب سے پہلے ’’اسرول‘‘ نامی دوا پر ریسرچ کروائی اور جدید سائنس کے اصولوں کی بنیاد پر اس کے جوہر فعال، اجملین، اجملیسین، اجملینین و سرپینٹین وغیرہ کو الگ کروایا۔ تجزیہ و تجربہ کے بعد اس کے جو نتائج سامنے آئے، اسے دیکھ کر مغربی دنیا کے لوگ بھی حیران رہ گئے۔ اس کے مثبت اثرات و فوائد کو دیکھتے ہوئے تحقیقی رجحان رکھنے والے مغربی خوشہ چیں اسے بھی حسب عادت لے اڑے اور تنگ نظر اطباء لکیر پیٹتے رہ گئے۔ اسی طرح بہت سے آلات جراحی اور ادویہ ہیں جنھیں مغربی خوشہ چیں اپنا کر مستفید ہو رہے ہیں، اور جھوٹی انا کے شکار تنگ نظر اطباء کو آج بھی صرف اس بات پر فخر ہے کہ فلاں ایجاد یا تحقیق تو فلا ں حکیم کی مرہون منت ہے۔ ـبقول شاعر
وائے ناکامی کہ متاع کارواں جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا

طبی دنیا میں اجمل خاں کا سب سے بڑا کارنامہ طب یونانی و دیسی طب کو برطانوی استبداد، ا ور حکومت کی سازشوں سے بچانا ہے۔ اس وقت برطانوی حکومت نے میڈیکل رجسٹریشن ایکٹ کے ذریعے طب یونانی ودیسی طب کوختم کرنے کی زبردست سازش کی تھی اور طب مشرق کو ایکٹ سے خارج کر دیا تھا۔ اجمل خاں واحد شخص تھے، جنہوں نے اس ایکٹ کے خلاف احتجاج کیااور ملک گیر پیمانے پر تحریک چلائی۔ طبیبوں اور ویدوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کے لئے1906 میں آل انڈیا ویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس قائم کی، جس کا پہلا اجلاس بقول سید ظل الرحمن،26 اور 27 نومبر1910 کو دہلی میں منعقد ہوا۔

اس کے بعد ملک کے مختلف حصوںمیں کانفرنس کے اجلاس ہوتے رہے۔ اس مہم میں مزید جان ڈالنے کے لئے اجمل خاں نے اس وقت کی اہم علمی و سیاسی شخصیات کو بھی کانفرنس میں مدعو کیا۔ چنانچہ وسط مارچ1917میں منعقد ہونے والی کانفرنس کی صدارت پنڈت مدن موہن مالویہ نے کی اور24 مارچ 1917 کومدرسہ طبیہ کے سالانہ اجلاس کی صدارت سر سنکرن نائر نے کی جو اس وقت حکومت کی مجلس عاملہ کے رکن تھے۔ اسی پالیسی کے تحت ’’مدرسہ طبیہ زنانہ ‘‘کا افتتاح سر لوئی ڈین سے کرایا، جبکہ طبیہ کالج کا سنگ بنیاد لارڈ ہارڈنگ سے اور اس کا افتتاح گاندھی جی سے کرایا۔

بالآخر اجمل خاں کی طویل جد و جہد رنگ لائی اور1926 میںحکومت کی طرف سے بورڈ آف انڈین میڈیسن ( BIMS) کا قیام عمل میں آیا، جس کے تحت حکو مت نے آیورویدک اسکول اور طبی کالج کھولنے کا فیصلہ کیا۔ آیورویدک اسکول کا قیام تو بنارس ہندو یونیورسٹی سے الحاق کے ساتھ ہو گیا لیکن طبیہ کالج کے جائے قیام کو لے کر دلی اور لکھنؤ کے اطبا کے درمیان ان کے مزاج کے مطابق رسہ کشی شروع ہوئی، جبکہ کانفرنس کی رائے دونوں کے ما بین علی گڑھ کے حق میںتھی۔ اس سلسلہ میں تمام اطباء کا ایک عام اجلاس 1926 میںلکھنؤ میں ہوا۔ دونوں گروہوں نے زبردست تقریریں کیں اور اپنے اپنے دلائل سے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی کوشس کی لیکن حکیم اجمل خاں نے کشادہ دلی و رواداری کا ثبوت دیتے ہوئے کہا کہ :۔

’’میں بتانا چاہتا ہوں کہ میرے دل میں کبھی لکھنئو اور دہلی کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ میں کھلے طور پر اعتراف کرتا ہوں کہ لکھنئو کو طبی مرکز کے لحاظ سے دہلی پر ترجیح دیتا ہوں اور ذاتی طور پر اپنے دل میں لکھنؤ کے لئے بڑی وقعت رکھتا ہوں…………… مسئلہ جائے قیام کالج کے متعلق مخالف و موافق تقریریں ہوئیں لیکن میں اس معاملہ میں بالکل علیحدہ وجانب دار ہوں ۔ اگر کالج لکھنؤ میں قائم ہو گا تو مجھے کوئی رنج نہ ہو گا اور اگر کانفرنس کی رائے کے مطابق علی گڈھ میں قائم ہو تو میں خوش ہوں گا‘‘

کافی بحث ومباحثہ کے بعد بالآخر کانفرنس کی رائے منظور ہوئی اور فیصلہ علی گڑھ کے حق میں ہوا۔ اس متفقہ فیصلے کے بعد1927 میں حکیم اجمل خاں کی طبی خدمات کے اعتراف میں اسے ’’اجمل خاں طبیہ کالج ‘‘کے نام سے موسوم کیا گیا۔ اس کی پہلی تقرراتی کمیٹی میں حکیم اجمل خاں بذات خود موجود تھے۔ اس کے پہلے پرنسپل ڈاکٹر عطاء اللہ بٹ صاحب ہوئے جن کی سرپرستی میں طبیہ کالج کو پروان چڑھنے کا موقع ملا۔

اجمل خاں طبیہ کالج کی کلاسز ابتدا میں سلطان جہا ں منزل میں ہوتی تھیں جبکہ صاحب باغ (سلیمان ہال) کے ایک حصہ (موجودہ پروووسٹ آفس سلیمان ہال) میں مطب و اسپتال قائم ہوا۔ طلبہ کی رہائش کے لئے کچی بیرک (موریسن کورٹ) کو منتخب کیا گیا۔1936 میںطلبہ کو کچی بیرک سے حبیب باغ منتقل کر دیا گیا اور اسے طبیہ ہوسٹل کہا جانے لگا، جس پر ادھر کئی دہائیوں سے این سی سی (NCC )کا قبضہ ہے۔

1937میں طبیہ کالج کی نئی عمارت کا سنگ بنیاد ہز ہائی نس ولی عہد معظم جاہ اور ملکہ نیلوفر نے اس مقام پر رکھا جہاں اس وقت یونیورسٹی کا COACHING & GUIDENCE CELLقائم ہے۔ یہاں پہلے قدیم عمارت تھی، جس میں دواخانہ قائم تھا۔

1940 میں طبیہ کالج کا الحاق مسلم یونیورسٹی، علیگڑھ سے ہوا اور حکومت اتر پردیش کی طرف سے اسپتال کے اخراجات کے لئے پچاس ہزار روپئے سالانہ کا عطیہ منظور ہوا ۔

1944میں طبیہ کالج و ہاسپٹل کی موجودہ شاندار عمارت مکمل ہوئی اور طبیہ کالج و ہاسپٹل کو سلطان جہاں منزل و صاحب باغ سے یہاںمنتقل کر دیا گیا ، جہاں آج بھی دونوںقائم ہیں ۔

حکیم اجمل خاں کی زندگی میں آل انڈیا طبی کانفرنس کا آخری اجلاس اپریل 1927 میںرامپور میں منعقد ہو ، اس اجلاس میںانہوں نے کہا تھا کہ :

’’اپنی زندگی کا بہترین حصہ فن طب کی خدمت میں صرف کر کے اس کی بنیاد مضبوط کر دی ہے، اب آئندہ آپ کا یہ فرض ہے کہ اس مستحکم بنیاد پر عمارت بنا کر ہمیشہ کے لئے اس کو قائم رکھیں اور اس کی ترقی کے ذرائع پیدا کریں۔ (آخر میں یہ فرماتے ہوئے اٹھے کہ) مجھ کو اپنی زندگی کی اتنی امید بھی نہیں ہے کہ آئندہ کانفرنس میں شرکت کر سکوں ‘‘

ان کی یہ پیشیںگوئی سچ ثابت ہوئی اور رامپور میںہی دل کا دوسرا دورہ پڑا اور29دسمبر 1927 کو صبح سوا دوبجے انسانیت کا یہ مسیحا ’’مسیح الملک‘‘ عالم فانی سے عالم جاودانی کی طرف کوچ کر گیا۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

اجمل خاں نے طبی، سماجی، انتظامی و تحریکی خدمات کے ساتھ ساتھ بیش بہا علمی خدمات بھی انجام دی ہیں۔ تحقیقی رجحان کے باعث انہوں نے سائنس کی جدید ایجادات سے مستفید ہونے اور انہیںداخل نصاب کرنے پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا اور قدیم طریقہ علاج پر مصر رہے تو یہ چیز ہماری طب کے لئے نقصان دہ ثابت ہو گی، چنانچہ طبی کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ:

’’اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ زمانہـ موجودہ میں جو ترقی ہو رہی ہے اس کے پہلو بہ پہلو ہم اپنی طب کو ترقی دیں۔ ایک زمانہ گزر گیا، دنیا کے علوم کہیں سے کہیں پہنچ گئے لیکن ہم نے ذرہ برابر ترقی نہیں کی۔ ترقی کرنا تو درکنار ہم الٹے رو بہ تنزل ہیں۔‘‘

حکیم اجمل خاں کا مذکورہ تبصرہ اگر چہ آج سے تقریبا ایک صدی قبل کا ہے لیکن افسوس کہ طب یونانی کی موجودہ صورت حال پر آج بھی صادق آتا ہے۔ نام نہاد اطبا نے ترقی ضرور کی لیکن فن طب مستقل رو بہ زوال ہے۔ طبیہ کالجز کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باوجود عملی میدان میں ماہر فن اطبا نا پید ہوتے جا رہے ہیں ، آخر کیوں ؟طب یونانی کے ٹھیکیداروں اور ارباب حل و عقد کو اس کے اسباب و عوامل پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔

حکیم اجمل خاں نے قدیم طب کو جدید سائنس سے ہم آہنگ کرنے کی حتی الامکان کوشس کی، چنانچہ 1920 میں کالج کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے درج ذیل مضامین کو جدید سائنس کی روشنی میں پڑھانے کی پر زور سفارش کی تھی۔
1-Anatomy
2-Physiology
3-Pathology
4-Radiology
5-Pediatrics
6-Gynaecology & Obstetrics
7-Infectious Disease
8-Skin Disease
9-Pharmacology
10-Meusium & Lab etc.

قدیم نصاب کو جدید سائنس کی روشنی میں مرتب کرنے اور قدیم وجدید کو ہم آہنگ کرنے کے لئے ضروری تھا کہ قدیم طبی مضامین کو جدید سائنس کی روشنی میںپرکھ کر از سر نو مرتب کیا جائے۔ یہ مرحلہ انتہائی دشوار گزار تھا۔ اس سلسلہ میں حکیم اجمل خاں نے1926 میں آیورویدک اینڈ طبی کالج کی ریسرچ کمیٹی کے سامنے اپنی اسکیم پیش کی اور کمیٹی کے متفقہ فیصلہ کے بعدایک ’’اصلاح نصاب کمیٹی‘‘ تشکیل کی گئی۔ اس کمیٹی کے ممبران میںحکیم اجمل خاں کے علاوہ حکیم فضل الرحمن، حکیم کبیر الدین (بہاری)، دکتور سید ناصر عباس، حکیم عبدالحفیظ اور حکیم محمد الیاس وغیرہ تھے۔

اصلاح و تحقیق کے سلسلے میں اجمل خاں کے پیش نظر اسوہ و نمونہ کے ظور پر شیخ الرئیس بو علی سینا کا طریقہ کار اور ان کی شاہکار تصنیف ’’القانون‘‘ تھی۔ اسی طرز پر کمیٹی نے قدیم طبی مضامین کو جدید سائنس کی روشنی میں مرتب کرنا شروع کیا۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ روزانہ کسی ایک مضمون پر گھنٹوں بحث و مباحثہ ہوا کرتا، جس میںحکیم اجمل خاںبذات خود شریک ہوتے اور حاصل بحث کو نوٹ کر لیا جاتا۔ بقول حکیم کبیر الدین (بہاری) جو اس کمیٹی کے رکن تھے کہ اجمل خاں کی زندگی میں یہ کام ’’علامات‘‘ تک ہو چکا تھامگر حکیم اجمل خاں کی وفات کے بعد کمیٹی نے اس کام کو ختم کر دیا۔ حکیم اجمل خاں کی وفات کے بعد، ان کی خواہش کے مطابق، نتائج تحقیق کو حکیم محمد الیاس نے ’’قانون عصری‘‘کے نام سے مرتب کیا۔ بقول حکیم کبیرالدین(بہاری) کہ

’’یہ کتاب بیسویںصدی کی طبی تالیفات کی فہرست میںمشعل راہ کہلانے کی مستحق ہے۔ یہ نام ’’قانون عصری‘‘خود مسیح الملک کا تجویز فرمودہ۔ قانون عصری کا یہ حصہ تحقیقات کے کام کا ایک مختصر نمونہ ہے جو مسیح الملک مرحوم کے نصب العین کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے۔ اگر اس اسلوب پرقانون عصری سرحد تکمیل تک پہنچ جاتا تو یہ عہد حاضر کا سب سے بڑا کارنامہ ہوتا ‘‘

حکیم اجمل خاں کی وفات کے بعد یہ کام مکمل نہ ہو سکا ، جو یقینا طب یونانی کا بہت بڑا خسارہ ہے، جس کی تلافی ممکن نہیں ۔ بہر کیف …………… حکیم اجمل خاں کا بڑا کارنامہ یہ بھی ہے کہ انہوں نے طب کو محلوں اور درباروں سے نکال کر عوام میں لا کھڑا کیا۔ امرا کے ساتھ ساتھ غربا کا بھی خیال رکھا اور ہر ایک کی حسب استطاعت نسخے تجویز کئے۔ اس طرح انہوں نے نہ صرف یہ کہ عوام الناس کو فائدہ پہنچایا بلکہ طب کے ذخیرہ علم میں بھی خاطر خواہ اضافات ہوئے، چنانچہ گندھک کو بطور دوا سیال شکل میں سب سے پہلے حکیم اجمل خاں نے ہی تیار کیا اور اسے سیال کبریت کے نام سے روشناس کرایا۔ اسی طرح سیال فولاد و سیال کافور وغیرہ جیسے اہم سیالات بھی حکیم اجمل خاں کے تحقیقی و اختراعی ذہن کے مرہون منت ہیں ۔ حکیم اجمل خاں کی وفات کے بعدان کے نسخوں، علاج نیز افادات اجمل پر مشتمل درج ذیل کتب اب تک شائع ہو چکی ہیں ،جن کی افادیت سے انکار ممکن نہیں۔


1۔ حاذق۔مرتب و ناشر،بیسویں صدی پبلی کیشنز،دہلی، ب ت

2۔حاذق۔ مرتب و ناشر، فردوس بکڈپو، حیدرآباد، ب ت

3۔کتاب النبض۔مرتب و ناشر، بہار آفسیٹ پریس،دہلی،ب ت

4۔بیاض اجمل۔مرتب و ناشر، اعجازپبلشنگ ہائوس،دہلی،1995

5۔ بیاض مسیحا ۔مرتبہ، محمد حسن قرشی، اعجاز پبلشنگ ہائوس،دہلی،1996

6۔ افادات مسیح الملک۔ مرتب و ناشر، نامعلوم۔ ب ت

ٍحکیم اجمل خاں سیاسی و سماجی سرگرمیوں اور مطب کی مصروفیات کے باوجود تصنیف و تالیف سے خصوصی شغف رکھتے تھے۔ شاگردوں کو بھی اس کی ہدایت کیا کرتے تھے چنا نچہ اپنے شاگرد رشید حکیم کبیر الدین (بہاری) کو ان کی یہ ہدایت تھی کہ :۔

’’کسی دوسرے طبی شعبے کو اختیار کرنے کے بجائے تالیف و ترجمے کی خدمت انجام دیں ‘‘

حکیم اجمل خاں کے اس شاگرد رشید نے اپنے استا د کی اس خواہش کا احترام کرتے ہوئے خود کو تصنیف و تالیف میں منہمک کرنا زیادہ مناسب سمجھا، جیسا کہ وہ خود لکھتے ہیں کہ :۔

’’جب میں نے اپنا دور تعلیم ختم کر کے زندگی کے کسی مستقل میدان میں قدم رکھنے کا ارادہ کیا تو حضرت استاد مسیح الملک مرحوم نے بکمال شفقت مجھے ایماء فرمایا کہ کسی دوسرے طبی شعبہ کو اختیار کرنے کے بجاے تالیف و تراجم کی اہم خدمت میںاپنی زندگی کو مصروف کروں اور عہد حاضر کی ضرورت تعلیم و تعلم کے ایفاء میں مشغول ہو جائوںجو حالات موجودہ کے لحاظ سے طب کی ایک بڑی خدمت ہو گی۔‘‘

حکیم کبیر الدین اپنی ذاتی دلچسپی اور ذوق وشوق کی بناء پر استاد محترم کے مشورہ کو ان کا حکم سمجھتے ہوئے تمام عمر تصنیف و تالیف ، خصوصاً ترجمہ نگاری میں مصروف رہے ۔ جیساکہ وہ خود لکھتے ہیںـ۔

’’اس مشعل ہدایت کی روشنی میں تائید ایزدی کے ساتھ اس دشوار گذار و پر خطر راستہ پر قدم رکھ کر عزم صمیم کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کو اس علمی خدمت میں مصروف کردینے کا تہیہ کر لیا جس پر زمانہ تلمذ سے آج تک گامزن ہوں‘‘

اس طرح حکیم کبیرالدین نے82 سا ل کی عمر میں تقریباً 87 کتب تصنیف و تالیف کیں جن میں زیادہ تعداد ان کے تراجم کی ہے۔ بلا شبہ حکیم موصوف کی مذکورہ کتب و تراجم (ان کے معیار و میزان سے قطع نظر ) طب یونانی کی درسیات میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور ہند و پاک کی طبی دنیا میں بے انتہا مقبول ہیں۔

طب یونانی کی درسیات کی تصنیف و تالیف کی غرض سے حکیم اجمل خاں نے 1914 میں ’’محکمہ تالیفات‘‘ قائم کیا اور اس کی نگرانی بھی اپنے شاگرد مذکور کے ذمہ کی ۔ بقول حکیم راجندر لال ورما، مسیح الملک کا یہ ارشاد تھا کہ ’’جدید تنظیم کے تحت ترجمہ و تالیف کا ایک شعبہ کھولا جا رہا ہے۔ میںچاہتا ہوں کہ تم اس شعبہمیں موٗلف اول کے طور پر کام کرو۔‘‘

اس شعبہ تصنیف و تالیف سے حکیم کبیر الدین صاحب کی وابستگی کیونکر ہوئی ؟ اس سے قطع نظر، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ انہوں نے اس شعبہ سے وابستگی کے بعدپیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور اس وقت کے مروجہ نصاب کے مطابق تقریبا ہر موضوع پر درسی کتب کی تالیف میں اہم اور بنیادی کردا ر ادا کیا۔ انہوں نے نہ صرف عربی و فارسی درسیات کو اُردو میں منتقل کیا بلکہ طب جدید سے استفادہ کرتے ہوئے جدید موضوعات کو بھی یونانی ادب میں اس طرح شامل کیا کہ دونوں میں تفریق ناممکن ہو گئی، خاص طو ر سے طب جدید کی عام فہم انگریزی اصطلاحات کو اردو کے نام پر عربی و فارسی اور بسا اوقات بالکل ٹھیٹھ بھاشا میں منتقل کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کے ذہن رسا نے جو کارنامے انجام دئے ہیں وہ انہیں کا حصہ ہیں۔ بہر کیف……….

حکیم اجمل خاں اپنے رفقا اور شاگردوں کو تحقیق و تصنیف کی طرف راغب کرنے کے ساتھ ہی بذات خود بھی نہ صرف تحقیق و تصنیف میں مشغول رہتے بلکہ اپنے نتائج تحقیق کو مضامین و رسائل کی شکل میں شائع کیا کرتے تھے۔ عربی،فارسی اور اردو تینوں زبانوں پر قدرت رکھتے تھے مگر عربی سے زیادہ رغبت رکھتے تھے، شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی زیادہ تر تصنیفات عربی زبان میںملتی ہیں جو کہ حسب ذیل ہیںـ۔

1۔القول المرغوب فی الماء المشروب

2۔ التحفۃ الحامدیہ فی الصناعۃ التکلیسیہ

3۔ البیان الحسن بشرح المعجون المسمی باکسیر البدن

4۔ اوراق مزھرۃ مثمرۃ

5۔ خمس مسائل

6۔ الساعاتیۃ

7۔ الوجیزۃ

مذکورہ مقالات کی اہمیت و افادیت کے پیش نظر ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے ان کا سلیس اردو میںترجمہ کر کے ’’رسائل مسیح الملک‘‘ کے نام سے شائع کر دیا ہے۔

8۔ مقدمۃ اللغات الطبیہ

اس اہم لغت کو بھی ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے ’’طبی لغات نویسی کے مبادیات‘‘کے عنوان سے اردو میں منتقل کر دیا ہے۔ یہ تمام تراجم ’’اجملیات‘‘ کی فہرست میں قابل قدر اضافہ ہیں جن کا سہرا ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی کے سر جاتا ہے۔

حکیم اجمل خاں نے1895 میں جبکہ ہندوستان میں طاعون کی وباء پھیلی ہوئی تھی۔ اس وقت طاعون پر ایک تفصیلی رسالہ’’رسالہ طاعون ‘‘ کے نام سے تحریر کیا تھا جس میں طاعون کے اسباب و علامات نیز علاج کے ساتھ ساتھ طاعون کی تاریخ کا بھی تفصیلی و تحقیقی مطالعہ پیش کیا تھا۔ یہ رسالہ اردو زبان میں لکھا گیا تھا۔

اجمل خاں کی بہت سی تصنیفات زیور طبع سے آراستہ نہ ہو سکیں جو یقینا طب یونانی کا نا قابل تلافی نقصان ہے۔ چند غیر مطبوعہ تصانیف، حکیم سید ظل الرحمن کے مطابق حسب ذیل ہیں :۔

1۔ رسالہ فی ترکیب الادویہ و استخراج درجاتہا

2۔المحاکمۃ بین القرشی و العلامہ

3۔ حاشیہ شرح اسباب

4۔ اللغۃ الطبیہ

یکم جون 1903 کو حکیم اجمل خاں نے مدرسہ طبیہ کا ایک ماہانہ رسالہ ’’مجلہ طبیہ ‘‘کا اجراء کیا جو حکیم عبد الرزاق کی زیر ادارت شائع ہوتا تھا۔ اس رسالہ میں مدرسہ کی خبروں کے علاوہ طبی مضامین شائع ہوتے تھے۔ اجمل خاں کے مضامین بھی وقتا فوقتا اس رسالہ میں شائع ہوتے تھے۔ حکیم اجمل خاں کا مشہو ر رسالہ ’’القول المرغو ب فی الماء المشروب‘‘کا اردو ترجمہ مع تلخیص، سب سے پہلے اسی مجلہ میں شائع ہوا تھا، جس میں حکیم اجمل خاں نے پانی کے تمام پہلوئوں پر سیر حاصل تحقیقی وتنقیدی گفتگو کی تھی۔ یہ مقالہ کئی نمبروں میں شائع ہوا تھا۔ اسی طرح دکن ریویو میں بھی حکیم اجمل خاں کے رشحات قلم شائع ہوا کرتے تھے ۔شیخ الرئیس بو علی سینا پر بھی حکیم اجمل خاں کے مقالات دکن ریویو میں شائع ہوئے تھے،جن سے حکیم اجمل خاںکی شیخ الرئیس سے دلچسپی و تاثر کا اندازہ ہو تا ہے۔

خاندان شریفی کے قدیم اخبار ’’اکمل الاخبار ‘‘میں بھی حکیم اجمل خاں کے مضامین شائع ہوا کرتے تھے مگر ان کی نوعیت سیاسی ہو ا کرتی تھی، جن سے حکیم اجمل خاں کے کانگریسی رجحان اور کانگریس نوازی کا پتہ چلتا ہے۔ ’’رفیق الاخبار‘‘ دہلی میں حکیم اجمل خاںکی کئی طبی نگارشات شائع ہوئی ہیں، ان میں حکیم اجمل خاں کی سب سے اہم تحریر’’ہماری طب کیونکر زندہ رہ سکتی ہے؟‘‘ کے عنوان سے شائع ہوئی تھی، جو در اصل حکیم اجمل خاںکاوہ تفصیلی خطبہ ہے جو آپ نے آل انڈیا آیورویدک اینڈ یونانی طبی کانفرنس کے ایک اجلاس میں دیا تھا۔ یہ پورا خطبہ یکم دسمبر1911 کے ’’رفیق الاطباء‘‘ میں حرف بہ حرف شائع ہوا تھا۔

اس تاریخی خطبہ میں حکیم اجمل خاں نے طب کے زوال کے اسباب، ویدوں و طبیبوں کے غیر تحقیقی رجحان، ان کی انانیت کی حد تک بڑھی ہوئی خود اعتمادی، اندھی تقلید، جدید سائنس کو نظر انداز کرتے ہوئے قدیم و غیر سائنسی طریقہ علاج پر اصرار، نصاب تعلیم و طریقہ تعلیم کی خرابیوں وغیرہ جیسے تمام عوامل پر روشنی ڈالتے ہوئے اطبا کو دعوت فکر دی ہے۔ دور حاضر کے تناظر میں اس خطبہ کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ کاش کہ دور حاضر کے اطبا ،آل انڈیا یونانی طبی کانفرنس کے عہدیداران، ریسرچ کونسل کے ذمہ داران، طب یونانی کے ارباب حل و عقد اور تمام طبیہ کالجوں کے ٹھیکیدار اس خطبہ کو پڑھ کر تھوڑی دیر کے لئے اپنی اپنی روش پر غور کرتے اور اجمل خاں کی تجاویز و منصوبوں پر عمل درآمد کر لیتے تو شاید نہیں بلکہ یقیناً طب یونانی کے مردہ جسم میں کچھ جان آ جاتی اور یہ طب جدید کے شانہ بہ شانہ چل سکتی مگر افسوس کہ ایسا ہونا ممکن نہیں، کیونکہ ایسا کرنا تنگ نظر و مفاد پرست اطبا کے اصول کے خلاف ہے۔ اس لئے یونان کی یہ شہزادی (طب یونانی) یوں ہی سر عام لٹتی رہے گی اور اس کے نام کی روٹی کھانے والے سرکاری کرسیوں پر بیٹھے تیسری جنس کی طرح تالیاں بجاتے رہیں گے۔ کاش کہ پھر کوئی اجمل خاں سا عاشق پیدا ہو جاتا جو اس شہزادی کی بکھری ہوئی زلفوں کو سنوار سکتا۔ کاش

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں