Spread the love

پولیس موبائل میں بیٹھے شخص نے پولیس کے سامنے ہی مطلوب شخص کو قتل کر دیا

ملزم سہیل مغل مقتول منور علی


مدعی سہیل مغل درخشاں تھانے کے ایڈیشنل ایس ایچ او راجہ تنویز کے ہمراہ اپنی بیوی اور تین بیٹیوں کی بازیابی کا عدالتی حکم لے کر موبائل میں بیٹھ کر بہادر آباد کے علاقے شرف آباد میں رہائش پزیر منور علی کی رہائشگاہ آیا تھا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ مقتول منور علی کو عدالتی حکم پر گرفتار کیا جانا تھا تاہم سہیل مغل نے پولیس موبائل سے نکل کر منور علی پر گولیاں برسا دیں جس سے وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔

پولیس نے ملزم سہیل مغل کو جائے واردات سے گرفتار کرکے پستول ضبط کرلیا۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ ملزم سہیل مغل کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے گا جب کہ درخشاں تھانے کے پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی مجرمانہ غفلت کا مقدمہ درج کیا جائے گا۔

دوسری جانب نیو ٹاؤن پولیس نے ایڈیشنل ایس ایچ او درخشاں سمیت 4 اہلکاروں کو حراست میں لے کر واقعہ کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

منورعلی نے اس کی بیوی کو جھانسہ دیا تھا، ملزم سہیل کا الزام 

پولیس حکام کے مطابق ملزم سہیل مغل نے 2 سال قبل بیوی اور بچوں کے اغوا کا مقدمہ درج کرایا تھا جس میں مقتول منور علی اور 3 ساتھی نامزد تھے جب کہ درج مقدمے میں ایف آئی اے افسر شہباز، مرتضیٰ اور روشن بھی نامزد کئےگئے۔

مقتول منور علی نے خاتون اور اس کے بچوں کو بہادر آباد میں اپنا فلیٹ کرائے پر دے رکھا تھا، مقتول اسٹیٹ ایجنٹ اور گاڑیوں کا کاروبار کرتا تھا۔

پولیس ذرائع کے مطابق ملزم سہیل کی بیوی نے 3 سال قبل اس سے خلع لے لی تھی تاہم ملزم سہیل کا کہنا ہےکہ منور علی نے اس کی بیوی کو جھانسہ دیا تھا۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ خاتون اپنا بیان تین مختلف عدالتوں میں ریکارڈ کراچکی ہے اور خاتون عدالت میں سابق شوہرسہیل سےچھپ کررہنےکابیان دے چکی۔

گورنرسندھ نے آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی، ترجمان گورنرہاؤس

ترجمان گورنر ہاؤس کے مطابق گورنرسندھ نے شرف آبادمیں پولیس کی موجودگی میں قتل کا نوٹس لے لیا ہے۔

ترجمان کے مطابق گورنرسندھ عمران اسماعیل نے آئی جی سندھ پولیس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں