ہر طبقے کا ناول نگارمشرف عالم ذوقی

Spread the love
صاحب مضمون ظہور شاہ
ظہور شاہ شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں اور مشرف عالم ذوقی کے فن پر کشمیر جنت نظیر وادی سے یہ خاص مضمون ارسال کیا

مشرف عالم ذوقی پاک و ہند کے معروف ادیب ہیں پاکستان میں اسی برس سنگ میل پبلی کیشنز لاہور ان کی تین کتابیں شائع کرے گا


ذوقی صاحب نے ایسے ایسے موضوعات کو تحریر کیا جس میں خطرۂ دار و رسن ہر وقت سر پر کھڑا تھا، مثال کے طور پر 2008 میں دلی کے علاقہ بٹلہ ہاوس میں ہونے والے پولیس مقابلہ کو بنیاد بنا کر اس پر ’’آتش رفتہ کا سراغ‘‘ تحریر کیا۔

مشرف عالم ذوقی

مشرف عالم ذوقی بہار کے ایک چھوٹے سےشہر آرہ کے محلے مہادیو میں 22 مارچ 1962 کو پیدا ہوئے یہ محلہ کبھی ’’شاہ آباد‘‘ کے نام سے مشہورتھا۔ ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی۔ 4 سال کی عمر میں شاہ آباد اردو اسکول بھیجے گئےجو ان کے گھر سے کچھ ہی دوری پر واقع تھا۔ یہاں سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں جین سکول میں داخلہ لیایہاں سے یہ مسافرمہا راجہ کالج پہنچا اور پھر کب دلی کی پر پیچ تنگ و تاریک گلیوں اور روشن شاہراوں سے ہوتا ہوا ادب و تخلیق کے بلند و بالا پہاڑوں پر جھومتے وقت کے جنگلوں کو تیشۂ فرہاد سے کھودتے وقت کی تھالی میں اپنے حصے کے سکے ڈالتےہوئے اس مقام پر پہنچے کہ بالوں کی چاندی بڑھاپے کی نوید سنانے لگی، مگر تحریر آج بھی جوان، پر امید اور امنگوں سے بھرپور ہے۔ اب تک ان کے 12 ناول 8 افسانوی مجموعے، 3 تنقیدی مضامین، بچوں کے لیے 1 اور 2 ڈراموں کی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ 32 سال سے الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہیں ذوقی فلمز کے تحت 100 سے زیادہ دستیاویزی فلمیں اور 20 سے زیادہ ڈرامے بنا چکے ہیں۔ ان کے متعدد ناولوں افسانوں پر ڈرامے بنائے گئے جن میں’’ مسلمان‘‘ ناول اور لینڈ سکیپ کے گھوڑے اور سعدی کو الوداع کہتے ہوئے افسانوی مجموعوں پر بھی پرڈرامہ سیریل بنائے گئے۔ چھٹی کلاس میں ان پہلی کہانی رسالہ ’’پیام تعلیم‘‘ میں شائع ہوئیـ پہلا افسا نہ تیرہ برس کی عمر میں کہکشاں (ممبئی) میں شائع ہوا۔

ذوقی صاحب نے ایسے ایسے موضوعات کو تحریر کیا جس میں خطرۂ دار و رسن ہر وقت سر پر کھڑا تھا، مثال کے طور پر 2008 میں دلی کے علاقہ بٹلہ ہاوس میں ہونے والے پولیس مقابلہ کو بنیاد بنا کر اس پر ’’آتش رفتہ کا سراغ‘‘ تحریر کیا۔

پہلا ناول ’’عقاب کی آنکھیں ‘‘17سال کی عمر میں لکھاـ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر ناولوں میں پروفیسرایس کی عجیب داستان ــوایا سونامی ،لے سانس بھی آہستہ ، پو کے مان کی دنیا ،مسلمان، آتشِ رفتہ کا
سراغ، وغیرہ ہیں۔ اردو ادب میں موجودہ دور کے سبھی ناول نگاروں نے اپنے زمانے کی حقیقتوں اور تبدیلیوں کو اپنے اپنے انداز میں پیش کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے مگر ذوقی نے جس انداز سے ان حقیقتوں اور تبدیلیوں کو پیش کیا وہ منفرد اور انوکھا ہے۔ وہ اپنے ناولوں کے کردار روز مرہ زندگی سے لیتے ہیں جو ہمیں جیتے جاگتے نظر آتے ہیں ان کے ناولوں کا ماحول خالص ہندوستانی ہے اور یہ ہر قاری کو حقیقی ہوتا ہے۔ ایسے ماحول کو بر قرار رکھنے میں سب سے زیادہ مدد ان کواپنے اسلوب بیان اور ماہرانہ
صلاحیت سے ملتا ہے۔

ذوقی کے موضوعات نظام کی تبدیلی کے لیے اُٹھ کھڑا ہونے کا تقاضہ کرتے ہیں۔

مشرف عالم ذوقی نے اردو فکشن (تخیلاتی ادب)کو نیا اسلوب دے کر اپنے ہم عصروں میں سب سے زیادہ تجربے کئے۔ ان کی ہر تخلیق ایک تجربہ ہے اور ہر تجربہ داخلی سفر سے شروع ہو کرخارجی سفر کی طرف مراجعت کرتا دکھائی دیتا ہے ذوقی اپنے فن پاروں میں جبر کو زیر کرنے کی کہانی سناتے ہیں۔ چونکہ آج کے معاشرے میںہر شخص کسی نہ کسی جبر کا شکار ہے اور وہ اس جبر کو زیر کرنا چاہتا ہے اسی لیے ان کی تخلیقات موجودہ دور میں ایک نیا حوصلہ بخشتی ہے۔

اگر رشتوں کے درمیان کی کڑ یاں ٹوٹ گئیں اور ہم نے ان کو جوڑ نے کی کوششیں نہیں کی تو اس دنیا میں ادب کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا اور انسان انسانیت کے صفت سے بھی آہستہ آہستہ محروم ہوجائے گا۔

ان کے ناولوں میں موضوعات کا تنوع پایا جاتا ہے۔ مثلاً موجودہ دور میں انتظامیہ کی بد عنوانیاں، بڑھتی ہوئی سماجی برائیاں، دفتروں میں افسر شاہی کے ظلم، عورتوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کا استحصال اور پولیس کا جبر، رشتوں کی پامالی وغیرہ وغیرہ وہ موضوعات ہیں جو قاری سے نظام کی تبدیلی کے لیے اُٹھ کھڑا ہونے کا تقاضہ کرتے ہے۔

یہ وہ مسائل ہیں جن کا سامنا آج کل کے ہر طبقے کے لوگوں کو کر نا پڑتا ہے۔ ذوقی کا خیال ہے اگر رشتوں کے درمیان کی کڑ یاں ٹوٹ گئیں اور ہم نے ان کو جوڑ نے کی کوششیں نہیں کی تو اس دنیا میں ادب کا نام و نشان ہی مٹ جائے گا اور انسان انسانیت کے صفت سے بھی آہستہ آہستہ محروم ہوجائے گا۔ان کی کہانیوںمیں ایک نئی دنیا دکھائی دیتی ہے، ذوقی دوسرے کہانی کاروں کی طرح خول میں بند نہیںہوتے ہیں۔ بقولِ قمر ریئس:۔

ــ’’مشر ف عالم ذوقی کے یہاں ہم عصر زندگی کے تجربات کا وقیع ذخیرہ ہے ان کا اضطراب، ان کا تخیلـ حقیقتوں کی قید میں اتر جاتا ہے‘‘

ذوقی کو فضا آفرینی اور ماحول سا زی میں کمال کی مہارت حاصل ہے یہ ان کی تخلیقی صلاحیت ہی ہے کہ انہوں نے اپنے ناولوں کو کبھی کرداروں اور کبھی اسلوب کے ذریعے اور کبھی قصے کے ذریعے دلچسپ اور اثر انگیز بنایا ہے وہ اکثر اپنے ناولوں میںکرداروں کی نفسیات کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ وہ بڑے نفسیات کے ماہر نظر آتے ہیں اس کے علاوہ ذوقی اپنے ناولوں کے موضوعات کواس مہارت سے پیش کرتے ہیں کہ وہ موضوعات آفاقی بن کر سامنے آتے ہیں۔بقولِ شہزاد انجم:۔

’’جیسے کہ منٹو کا اپنا اسلوب اپنا آہنگ تھا۔ یا قرۃالعین، انتظار حسین، بیدی کے پاس اپنا منفرد طرز بیان اور اپنا مخصوص رنگ و آہنگ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا آہنگ ان کے عہد کے بعد نئے تخلیق کاروں کی شناخت میں معاون ثابت نہیں ہو سکا۔ لیکن ذوقی کے نام کو چھپا کر بھی ان کی کہانیاں پڑھ لی جائیں تو قاری چیخ چیخ کر کہہ دے گا کہ ’’ارے یہ تو ذوقی کی کہانی ہی‘‘

ایک طرف ان کی کہانیاں جہاں تہذیب کی کشمکش، ثقافت وتمدن کے عروج وزوال کو موضوع بناتی ہے وہی ان کا سیدھا رشتہ مستقبل کے اندیشوں سے بھی رہتا ہے،،
ذوقی اپنے انداز کا سب سے توانا اور منفرد ناول نگار ہے۔ تہذیب کی ہر نئی کروٹ اور تیز رفتار زندگی سے پیدا ہونے والے ہر مسئلے پر عموماً ذوقی کی نظر سب سے پہلے پڑتی ہے وہ سنگین سے سنگین ترین مسائل اور پیچیدہ ترین صورتحال پر اتنی خوب صورتی سے ناول کا محل کھڑا کر دیتے ہیںکہ حیرانی ہوتی ہیں۔

انہوں نے اپنے ناولوں میں سائبر کرائم جیسی برائیوں کو اس طرح پیش کیا کہ ان میں ایک اصلاحی ادیب ہونے میں کوئی کمی نہیں ہے مجھے یہ کہنے میں کوئی قباحت نہیں کہ دورِحاضر میں ہر مظلوم طبقے کی زندگی کی حقیقی تصویر اُتار نے والا ناول نگار مشرف عالم ذوقی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں