کیا جلنے کے بعدجلد پر باقی رہ جانے والے داغ دھبوں کا علاج ممکن ہے؟

Spread the love

حکیم محمد شیراز، لکچرر شعبۂ معالجات، آرآرآئی یو ایم، کشمیر یونیورسٹی، سری نگر، جموں و کشمیر

آگ سے جھلس جانے کے بعد نیز زخم کے اندمال کے جلد پر جو داغ دھبے رہ جاتے ہیں وہ کبھی کبھی درد سر بن جاتے ہیں۔ خصوصاً دوشیزاؤں میں یہ مسئلہ حساس سمجھا جاتا ہے۔ ممکن ہے کہ جلنے کے بعد نیز زخم کے اندمال کے بعد جو نشانات باقی رہ جاتے ہیں وہ مکمل طور سے صاف نہ ہو سکیں تاہم مایوس ہونے کی ضرورت نہیں کیونکہ ان نشانات کو اگر چہ پورا نہ مٹایا جا سکے مگر کم ضرور کیا جا سکتا ہے۔ یہاں کچھ باتوں کی وضاحت مناسب معلوم ہوتی ہے۔ طب جدید میں اس کا فوری علاج جراحت ہے جس میں Skin graft, Z-plasty , Skin flapوغیرہ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسرے لیزر تھراپی ہے، جس کے مضر اثرات میں، سرخی، ورم، فساد لون بشرہ، کھجلی اور نئے داغوں کا وجود میں آنا وغیرہ شامل ہے۔ تاہم اس کا متبادل علاج حسب ذیل ہو سکتا ہے۔
آش جو کا استعمال مقامی طور پر شیٹ کی شکل میں کیا جائے یا اوپر سے کاٹن کے کپڑے کا دباؤ بنایا جائے کیوں کہ جو میں Silicon ہوتا ہے جو جلد کے داغ دھبوں کو زائل کرنے میں عجیب تاثیر کا حامل ہے، نیز دباؤ مذکورہ مقصد میں معاونت کرتا ہے۔ نیز دلک خشن بذریعہ روغن بادام کی جائے۔ جس میں گوندھنا(Kneading)، ملنا(Skin rolling).، کھینچنا (Stretching) ، ٹھوکنا (Stroking) وغیرہ افعال بھی اختیار کیے جائیں یا کسی ماہر دلک (ہلکا مساج)کرنے والے سے دلک کروائی جائے۔ یہ عمل بھی جلنے کے نشانات ِ کو زائل کرنے میں یا کم کرنے میں معاون ہے نیز مضر اثرات سے پاک ہے۔مذکورہ اعمال چھ سے بارہ ماہ تک کے لیے اختیار کیے جائیں۔ان شا اللہ ضرور فائدہ ہو گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں