کوچ مکی آرتھر نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے ابتدائی 2 ٹیسٹ میچز کیلئے بنائی گئی وکٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کیلئے غیرموزوں قرار دیدیا

Spread the love

قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کے ابتدائی 2 ٹیسٹ میچز کیلئے بنائی گئی وکٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ٹیسٹ کرکٹ کیلئے غیرموزوں قرار دیدیا ۔ ایک انٹرویومیں مکی آرتھر نے کہا کہ 10 سال میں جب وہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کے کوچ تھے کے مقابلے میں وکٹوں کا معیار کافی گر گیا ہے۔کیپ ٹاؤن میں جاری سیریز کے دوسرے ٹیسٹ میچ میں بھی پاکستانی ٹیم 177 رنز پر ڈھیر ہو گئی تھی جس کے جواب میں فاف ڈیو پلیسی کی سنچری کی بدولت جنوبی افریقہ نے 6 وکٹ کے نقصان پر 382 رنز بنا کر سیریز میں 205 رنز کی برتری حاصل کی۔مکی آرتھر نے تسلیم کیا کہ جنوبی افریقہ کی ٹیم کے اسکور سے پچ کے معیار سے متعلق ان کے دعوے کو تقویت نہیں ملتی لیکن ان کا موقف ہے کہ یہ وکٹیں منصفانہ اور متوازن مقابلے کے لیے نہیں بنائی گئیں۔انہوں نے کہا کہ میں بہت مایوس ہوں، میں کرکٹ کے کام کی وجہ سے 2010 سے جنوبی افریقہ نہیں آیا۔یہاں کیپ ٹاؤن اور سنچورین میں وکٹوں کا معیار ٹیسٹ کرکٹ کے لیے موزوں نہیں۔انہوں نے وکٹ میں غیرمتوازن باؤنس اور پڑنے والی دراڑوں کی بھی نشاندہی کی جس کی وجہ سے جمعہ کو 7 مرتبہ بلے بازوں کو ہونے والی انجریز کے سبب کھیل روکنا پڑا۔انہوں نے کہاکہ اگر وکٹ میں یہ غیر متوازن باؤنس یا دراڑیں میچز کے چوتھے یا پانچویں دن ہوتے تو میں سمجھ سکتا تھا کیونکہ ٹیسٹ کرکٹ میں ایسا ہی ہوتا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ پہلی اننگز میں کسی ٹیم کی لاٹری نکل جائے۔قومی ٹیم کے کوچ نے عمدہ بیٹنگ پر جنوبی افریقہ کے کپتان اور مڈل آرڈر بلے باز ٹیمبا باووما کو داد دی تاہم ان کا کہنا تھا کہ میچ میں اصل فرق جنوبی افریقی بلے باؤلرز کی تیز باؤلنگ ثابت ہوئی۔انہوں نے کہا کہ اصل فرق یہ ہے کہ جنوبی افریقہ کے باؤلرز 145کلومیٹر فی گھنٹی کی رفتار سے باؤلنگ کر رہے ہیں اور ہمارے باؤلرز 135کلومیٹر فی گھنٹہ اور اس طرح کی وکٹ پر 10کلومیٹر نے بہت فرق ڈالا ہے۔محمد عباس کی گیند پر اظہر علی کے ہاتھوں کیچ ہونے والے باووما کو تھرڈ امپائر کی جانب سے ناٹ آؤٹ قرار دیے جانے پر آرتھر نے کہا کہ اس میچ کا معاملہ گزشتہ میچ کے کیچ سے مختلف تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں