کوئی ہے جو بنتِ کعبہ کی تقدیس کو اُٹھے

Spread the love

فاروق بھٹی کا شمار ملک کے ان عظیم اہل دانش و اہل قلم میں ہوتا ہے جن کے ہاں ہمارے جیسے طالب علم زانوئے تلمذ طے کرنا باعث فخر و سعادت سمجھتے ہیں۔ جن کے ہاں لفظ قطار اندر قطار ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں۔علم و فن اور فکر و فہم میں ان کو جو مقام حاصل ہے اس پر اس دور کے کم لوگ فائز ہوئے ہیں۔ انہیں لفظوں کی بساط بچھانے کا طریقہ بھی خوب آتا ہے اور ان کو برتنے کا سلیقہ بھی۔ہم جیسے سینکڑوں طالب علم ان کے آستانہ محبت و شفقت سے علم کے موتی چن کر آج اس ادارت کی ذمہ داری سنبھالے بیٹھے ہیں اور انہوں نے انتہائی شفقت سے اپنا یہ اہم مضمون شامل اشاعت کرنے کی اجازت دے کر اس میں ترمیم کے اختیارات بھی تفویض کیے مگر ان کے سامنے میں کیا اور میری بساط کیا کس فہرست و کس شمار و قطار میں؟ انہوں نے جس طرح مضمون ارسال کیا من و عن شامل اشاعت کیا جا رہا ہے ۔ ادارہ ان کی محبت و شفقت پر ان کا انتہائی مشکور ہے۔(مدثر بھٹی)

یہ ایک دستاویزی فلم تھی جس میں جمعیت طلبہ عربیہ کے منتظم اعلیٰ کی مختصر عکس بندی مطلوب تھی ۔۔۔ چونکہ موضوع تاریخ اسلام اور تحریکِ اسلامی تھا چنانچہ طے ہوا کہ بادشاہی مسجد کے صحن میں بیٹھ کر مغلیہ خاندان اور اورنگزیب عالمگیر کے تذکرہ سے ہوتی ہوئی بات شاہ ولی اللہ اور سید احمد شہید تک آئے گی ۔۔۔
چنانچہ شوٹنگ ٹیم بادشاہی مسجد پہنچ گئی ۔۔۔ گارڈز کا فرمان تھا کہ کیمرے اندر نہیں جا سکتے ۔۔۔ امام و خطیب محترم مولانا عبدالخبیر آزاد سے اجازت لینا ہو گی۔ بمشکل ان کا نمبر دستیاب ہوا ۔۔۔ مدعا عرض کیا تو شیخ فرمانے لگے کہ اجازت نہیں ہے، ہاں اگر آپ نے ہماری مسجد میں ہمارا کوئی انٹرویو کرنا ہے تو پھر فلاں دن آ جائیں لیکن گفتگو ہم ہی کریں گے ۔۔۔

چھ سال پرانی یہ بات آج یوں یاد آ گئی کہ ۔۔۔ شادیوں والے ایک فوٹو گرافر نے انسٹاگرام پر اپنا ایک فوٹو شوٹ شیئر کیا جس میں دلہا دلہن کی ایسی جذباتی(بولڈ) تصاویر ہیں جو بادشاہی مسجد کے صحن میں لی گئی ہیں اور جن کے پس منظر میں محرابیں نظر آ رہی ہیں۔ ان تصاویر میں نو بیاہتا جوڑا بڑے فلمی رومانوی انداز میں بیٹھا ہے ۔۔۔
چند روز قبل بحریہ ٹاون مسجد کی بھی کچھ ایسی تصاویر دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا کہ جن میں دلہن کا دوپٹہ ہوا میں اڑ رہا ہے اور پس منظر میں مسجد کی محربیں نظر آ رہی ہیں، دلہا میاں نے دلہن کی کمر میں یوں ہاتھ ڈال رکھا کہ گویا کہ اسے گرنے سے بچا رکھا ہے ۔۔۔
نصیبو لعل کے ایک گیت پر نرگس کا ڈانس بھی مشہور ہے جو اس نے فورٹ روڈ فوڈ سٹریٹ کے معروف پنج تارہ ریسٹورنٹ ۔۔۔ کی چھت پر سرانجام دیا تھا اور اس رقص کے پس منظر میں بادشاہی مسجد کے صحن کی عکس بندی کچھ اس انداز میں کی گئی تھی کہ ریسٹورنٹ کی چھت اور مسجد کا صحن ایک ہی عمارت کا حصہ دکھائی دیتے تھے ۔۔۔ استغفراللہ ۔۔۔
آج کل ایک برتن دھونے کے صابن کے ٹی وی اشتہار کا منظر بھی یہی ہے کہ فوڈ اسٹریٹ کے ایک ریسٹورنٹ کی گیلی چھت ہے ۔۔۔ ایک نوجوانایک خوبرو ہمسائی کو گھورتے پھسلتا ہے اور پھر اُٹھ کر گندے کپڑوں ہی میں ورزش شروع کر دیتا ہے ۔۔۔ پس منظر میں وہی بادشاہی مسجد
فلم’’خدا کے لئے‘‘ کا ایک منظر تھا جس میں بزرگ پاکستانی اداکار عرفان احمد وزیر خان کی مسجد کے تالاب پر وضو کرتے ہوئے ایک نوجوان (اداکار شان) کی ذہن سازی (برین واشنگ) کر رہا ہیں ۔۔۔
دوستو!
مسلمانوں کو نکاح مساجد میں منعقد کرنے کی ترغیب اس لئے دی گئی تھی کہ نکاح ایک اعلانیہ معاہدہ ہے اور اس کے اعلانیہ انعقاد کو سماجی پذیرائی کا ذریعہ بنایا جائے۔ لیکن ہم نے فوٹو سیشن کر کر کے احترامِ مساجد کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ سُنا ہے کہ مساجد کی انتظامیہ ایسے فوٹو سیشنوں کا باقاعدہ معاوضہ وصول کرتی ہیں ۔۔۔
وزارت مذہبی امور تو حج کی چار سو بیسی (حج 4 لاکھ بیس ہزار کا ہو گیا ہے ۔۔۔ آج کی خبر) میں مصروف ہے لیکن کیا عوام اور علماکی دینی اور ملی غیرت نامعلوم کس نشے میں چور کہاں پڑی ہے۔
ہمارے مقتدر اداروں کے حواس خمسہ جانے کب بیدار ہوں گے؟ کچھ دانشواروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں مقتدر حلقوں میں اس وقت شامل کیا جاتا ہے جب ان سے قومی ، دینی غیرت ، ایمانداری اور شرم و حیا برآمد کر لی جاتی ہے۔
“کوئی ہے جو بنتِ کعبہ کی تقدیس کو اُٹھے”

اپنا تبصرہ بھیجیں