ڈی جی نیب جعلی ڈگری کیس، تمام دستاویزات کا جائزہ لے کر کیس کا فیصلہ کریں گے، سپر یم کورٹ

Spread the love

قومی احتساب بیورو لاہور کے ڈی جی سلیم شہزاد کی جعلی ڈگری سے متعلق کیس کی سماعت میں نیب کی جانب سے رپورٹ عدالت میں بند لفافے میں پیش کی وکیل اظہر صدیق نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد ہو چکا ہے، درخواست گزار کوئی نیا پینڈورا بوکس کھولنا چاہتے ہیں، جس پر جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیے ڈائیلوگ بولیں گے تو نہیں سنیں گے، دھیمی آواز میں بات کریں۔

ایڈیشنل ڈائریکٹر نیب نے بتایا شہزاد سلیم کی ڈگری پر رپورٹ اور جواب جمع کرایا ہے، جس پر جسٹس عظمت سعد شیخ نے ریمارکس دیے کہ تمام دستاویزات کا جائزہ لے کر کیس کا فیصلہ کریں گے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لئے ملتوی کردی۔

واضح رہے ڈی جی نیب لاہور کی مبینہ جعلی ڈگری کے خلاف اسد کھرل نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جبکہ شہزاد سلیم کی ڈگری جعلی ہونے کی خبروں کو نیب کے ترجمان مسترد کرچکے ہیں، نیب کے ترجمان نے وضاحتی بیان میں کہا تھا کہ نیب افسر کی ڈگری 2002 میں جاری ہوئی اور ہائر ایجوکیشن کمیشن سے باقاعدہ تصدیق شدہ ہے، جس کے بعد ایچ ای سی نے بھی نیب کے موقف کی تصدیق کی تھی۔یہ بھی واضح رہے ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے لندن فلیٹس ریفرنس تیار کیا تھا اور شریف خاندان کی ٹرسٹ ڈیڈ کو جعلی قرار دیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں