چین نے دل کی بھڑاس نکالنے کا حل تلاش کر لیا۔

Spread the love

اس کمرے میں لوگوں کے سخت ترین غصے کا عتاب سہنے کے لیے ہرقسم کا کاٹ کباڑ جمع کیا گیا ہے—۔فوٹو/ بشکریہ این ڈی ٹی وی

ہم میں سے اکثر لوگوں کو بہت زیادہ غصہ آتا ہے، لیکن گھر کی یا آفس کی چیزیں توڑ کر اس کا اظہار نہیں کیا جاسکتا، ایسے ہی لوگوں کے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے چین میں ‘اینگر روم’ (Anger Room) کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں لوگوں کے سخت ترین غصے کا عتاب سہنے کے لیے ہرقسم کا کاٹ کباڑ جمع کیا گیا ہے۔

ستمبر 2018 میں دارالحکومت بیجنگ میں قائم کیے گئے اس اینگر روم کو  ‘اسمیش’ (SMASH) کا نام دیا گیا ہے، جسے جن مینگ اور ان کے دوستوں نے قائم کیا ہے۔


این ڈی ٹی وی  کے مطابق اس کمرے میں بلے اور ہتھوڑیاں موجود ہیں، جن کے ذریعے لوگ ماہانہ 15 ہزار بوتلیں توڑ کر اپنا غصہ نکال رہے ہیں۔

اس اینگر روم میں لوگ ماہانہ 15 ہزار بوتلیں توڑ کر اپنا غصہ نکالتے ہیں—۔ فوٹو/ بشکریہ
این ڈی ٹی وی

25 سالہ جن مینگ کے مطابق ان کا استعمال شدہ اشیاء فروخت کرنے والی دکانوں سے رابطہ ہے، جہاں سے انہیں ٹوٹی پھوٹی اشیاء مثلاً ٹی وی، ٹیلی فون، گھڑیاں، برتن، مجمسے، ساؤنڈ ریکارڈر اور اسپیکرز وغیرہ کی سپلائی ملتی رہتی ہے۔

جن مینگ کے مطابق ماہانہ 600 کے قریب افراد ان کی دکان پر آتے ہیں—۔فوٹو/ بشکریہ
این ڈی ٹی وی

انہوں نے بتایا کہ ان کی توقعات سے بڑھ کر ماہانہ 600 کے قریب افراد ان کی دکان پر آتے ہیں، جو اس سے قبل ایک فیکٹری کا حصہ تھا، لیکن اب اسے ایک آرٹ ایریا میں تبدیل کردیا گیا ہے۔

جن مینگ کے مطابق یہاں آنے والے افراد کی عمریں 20 سے 35 برس کے درمیان ہوتی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ یہ جگہ تشدد کے فروغ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کا اسٹریس کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔

جن مینگ کے مطابق یہ جگہ تشدد کے فروغ کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کا اسٹریس کم کرنے کے لیے بنائی گئی ہے—۔فوٹو/ بشکریہ
این ڈی ٹی وی

جن مینگ کے مطابق ان کا منصوبہ ہے کہ ایک ایسا ہی اینگر روم کسی شاپنگ مال میں بھی کھولا جائے جہاں لوگ خریداری کے ساتھ ساتھ اپنا غصہ بھی نکال سکیں۔

یہ انوکھی سروس صرف 23 امریکی ڈالر فیس کے عوض آدھے گھنٹے کے لیے حاصل کی جاسکتی ہے، جبکہ چار افراد کے گروپ کی صورت میں یہ رقم 75 امریکی ڈالر ہوجاتی ہے۔

واضح رہے  کہ اینگر روم اس سے قبل امریکا اور دیگر ممالک میں بھی قائم ہیں، لیکن چین میں یہ تجربہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں