چینی قونصل خانے پر حملے میں ’’را‘‘ ملوث ہے۔

Spread the love

گذشتہ برس 23 نومبر کو 3 دہشت گردوں نے کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع چینی قونصل خانے پر حملے کی کوشش کی تھی، جسے سیکیورٹی فورسز نے ناکام بناتے ہوئے تینوں حملہ آوروں کو ہلاک کرکے ان کے قبضے سے خودکش جیکٹس اور اسلحہ برآمد کرلیا تھا۔
حملہ آوروں کی شناخت رزاق، ازل خان مری عرف سنگت دادا اور رئیس بلوچ کے نام سے ہوئی تھی۔ دوسری جانب کارروائی میں 2 پولیس اہلکار اے ایس آئی اشرف داؤد اور پولیس کانسٹیبل عامر خان شہید جبکہ ایک سیکیورٹی گارڈ جمن خان زخمی بھی ہوا تھا۔
کراچی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر امیر احمد شیخ نے آج 11 جنوری 2019کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چینی کونصل خانے پر حملہ کیس پر تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چینی قونصل خانے پر حملے کا منصوبہ افغانستان میں ترتیب دیا گیا اور اس میں’’ را‘‘ کے ملوث ہے۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو افغانستان میں مارا جا چکا ہے اور حملےکا مقصد سی پیک منصوبے میں دراڑ ڈالنا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ حملے میں استعمال ہونے والا اسلحہ ریلوے کے ذریعے سے لاگیا۔

انہوں نے بتایا کہ حملے کا منصوبہ بلوچستان لبریشن آرمی کمانڈر اور ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو نے افغانستان میں بنایا، جسے بھارت اور اس کی خفیہ ایجنسی ‘را کی حمایت حاصل ہے۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق حملے کے ماسٹر مائنڈ اسلم عرف اچھو کے افغانستان میں مرنے کی اطلاعات ہیں، تاہم اس کی لاش نہیں ملی ہے اور اسلم اچھو کے بعد افغانستان میں بشیر زیب بی ایل اے کی کمانڈ سنبھال رہا ہے۔
انہوں نےیہ بھی بتایا کہ سہولت کار حملے سے قبل اگست سے نومبر کے دوران کراچی آتے جاتے رہے اور مختلف علاقوں میں رہائش اختیار کی۔

ڈاکٹر امیر شیخ کے مطابق یہ دہشت گرد جعلی شناختی کارڈ پر آتے تھے اور انہوں نے مختلف ناموں سے شناختی کارڈ بنا رکھے تھے۔
چینی قونصلیٹ پر حملے کی کارروائی کے لیے اسلحہ ریلوے کے ذریعے لایا گیا اور بلدیہ ٹاؤن میں رہائش پذیر ایک مکینک عارف نے بطور سہولت کارناصرف اسلحہ چھپایا بلکہ ملزمان کو بھی اپنے گھر میں پناہ دی جبکہ ملزمان اسی کے گھر سے 23 نومبر 2018 کی صبح چینی قونصلیٹ پہنچے۔ ریکی کے دوران دہشت گرد مختلف گاڑیاں استعمال کرتے رہے، تاہم حملے والے دن جو گاڑی انہوں نے استعمال کی، یہ گاڑی چھ سال قبل فروخت ہو چکی تھی اور متعدد بار فروخت ہونے کے باوجود ابھی تک اوپن لیٹر پر تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں