چیف جسٹس پاکستان کیخلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر

Spread the love

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کیخلاف کارروائی کیلئے سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کر دی گئی۔ یہ درخواست لاہور کے وکیل محمد طارق اسد کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کیخلاف مس کنڈ کٹ کے سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ درخواست گزار کا موقف ہے چیف جسٹس نے مختلف مواقع پر اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ا و ر ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے مرتکب ،ماورائے عدالت اور انتظامی معاملات میں ملوث ہوئے جس کے باعث وہ چیف جسٹس کے عہدے پر رہنے کے اہل نہیں تھے۔ درخواست گزار نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کئی مواقع پر منصبی اختیا رات کیساتھ ساتھ انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت اور انتظامی ذمہ داریاں ادا کرنے کی کوشش بھی کی، مختلف تعلیمی اداروں، ہسپتا لوں اور تعمیر نو کے اداروں کا دورہ کرکے اور ان کے چیف ایگزیکٹو اور سینئر افسروں کو دھمکیاں دیں اور ان کے کام میں مداخلت کی اور ان کیخلاف انتظامی احکامات دئیے جو آئین کے آرٹیکل سیون کے تحت ججوں کو حاصل اختیارات کی خلاف ورزی اور کوڈ آف کنڈکٹ کیخلاف ورزی ہے۔ دو ہفتوں کیلئے جوڈیشل کام چھوڑ کر بیرون ملک نام نہاد جوڈیشل کانفرنس میں شرکت اور وہاں کے انتظامی افسروں سے ملاقا تیں اور روس اور چین کے دوروں کے موقع پر انتظامیہ سے ملاقاتیں چیف جسٹس کی جوڈیشل ڈیوٹی میں شامل ہے یا آرٹیکل سات کے تحت ججوں کے کوڈ آف کنڈکٹ کیخلاف ورزی ہے۔ کیا چیف جسٹس ان دوروں کے بعد واپس آکر کوئی بریفنگ دی تاکہ وہاں سے حاصل ہو نیو الے تجربات کی روشنی میں پاکستان کے سسٹم کو بہتر کیا جاسکے۔ درخواست گزار نے اپنی درخواست میں سوال کیا ہے ماورائے عدالت میں ملوث پولیس افسر رائو انوار کیساتھ عدالت میں چیف جسٹس کے روبرو اور اس کیساتھ چیف جسٹس کی خط و کتابت اور رائو انوار کو عدالت میں پیش کرنے کیلئے آئی جی سے ملاقات چیف جسٹس صاحب کو زیب دیتی ہے۔ کیا اس طرح چیف جسٹس غیر جانبداری کے کردار کو نقصان نہیں پہنچایا۔ کیا کوڈ آف کنڈکٹ چیف جسٹس کو اجازت دیتا ہے وہ سیاستدانوں کی طرح لوگوں میں جائیں، پبلسٹی اور شہرت حاصل کریں ۔ کیا چیف جسٹس کا یہ اختیار ہے کہ وہ اپنے بڑے صوبے کے چیف ایگزیکٹو (وزیراعلیٰ) کو ہر معاملے پر بلائیں اور انتظامی سربراہ کی حیثیت سے کئے گئے اقدامات کی باز پرس کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں