ٹریفک وارڈن کا اکیس لاکھ کا چالان

Spread the love
جعلی پیر طفیل

پھول نگر کے رہائشی جعلی پیر نے لاہور کے رہائشی ٹریفک وارڈن کا اکیس لاکھ کا چالان کاٹ دیا۔
ٹریفک وارڈن اعلی افسران کے سا منے پیش ہوگیا اعلی افسران کی مداخلت پر جعلی پیر اور اس کے بیٹوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں بتایاگیا ہے کہ پھول نگر کے رہائشی جعلی پیر محمد طفیل کے پاس چونگی امرسدھو کے رہائشی عثمان خان اپنے دوستوں کے ہمراہ بابا جی سائیں محمد طفیل کے پاس دعا کروانے گیا۔ بابا جی کا حال حلیہ دیکھ کر عثمان خان کو لگا جیسے بابا جی کوئی بہت نیک انسان ہیں وہ اسی نسبت سے ان کے پاس ہونے لگ گیا۔ پیر نے پہلے اس کو اپنا مرید بنایا اور پھر اپنے ہاتھ پر بیت کروانے کے بعد اپنا بیٹا بنا لیا اور اس کے بعد اس کو ایک گاڑی خرید نے کا کہا کے اس کی رقم آہستہ آہستہ واپس کر دوں گا رقم کی ادائیگی تک گاری تمہاری امانت رہے گئی عثمان کے مطابق وہ اپنے پیر پر اندھا اعتماد کرتا تھا۔ عثمان نے 2012 میںٹویو ٹا کرولا جی ایل آئی خرید کر دے دی۔ 2013 میں پیر نے بیماری کا بہانہ بنا کر آٹو میٹک گاڑی کی فرمائش کی جس کو اس نے محض عقیدت کے پیش نظر پورا کر دیا، عثمان کے مطابق اس کے پاس پورے پیسہ نہ تھا لہٰذا اس نے گاڑی خریدنے کے لیے قرض لیا، گاڑی کا نمبر ایل ای بی592ماڈل 2013 ہے اندھے اعتماد کا یہ عالم کہ گاڑی کی رجسٹریشن بھی پیر کے نام کروائی دی۔ بعدازں پیر ایک مریدنی کے بیٹے کے اغوا کے مقدمے میں جیل چلا گیا۔ اس نے جیل سے واپسی پر پیر کے گھر جاکر اس سے اپنی رقم کا مطالبہ کیا تو پیر نے جان سے مارنے کی دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
فون پر اپنی رقم کا مطالبہ کرتا تو اس کے بیٹے غلام مرتضی، غلام مصطفی اسد عباس وغیرہ نے فون کر کے قتل کی دھمکیاں دیتے عثمان خان کی درخواست پرپولیس کے اعلی حکام کی مداخلت پر مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ جبکہ وزیراعلی کے شکایت سیل کے حکم پر ڈی ایس پی کینٹ معاملے کی انکوائری کررہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں