والدین سے بھاگنے والی 18 سالہ سعودی لڑکی رہف محمد القعون کوکینڈا میں سیاسی پناہ کی منظوری۔

Spread the love

جسٹن ٹروڈو نے اپنے پیغام میں کہا، ‘ہمیں رہف کو سیاسی پناہ دینے پر خوشی ہے کیونکہ کینیڈا وہ ملک ہے، جو انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے کی اہمیت کو سمجھتا ہے اور میں اس بات کی تصدیق کر رہا ہوں کہ ہم نے اقوام متحدہ کی درخواست قبول کرلی ہے۔
18 سالہ رہف محمد القعون کویت کے سفر کے دوران اپنے اہلخانہ سے فرار ہوکر تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک پہنچی تھیں، جہاں 6 جنوری کو انہیں ایئرپورٹ انتظامیہ نے حراست میں لے لیا تھا۔
رہف نے ٹوئٹر پر اپنے متواترپیغامات میں موقف اختیار کیا تھا کہ گھر میں اسے جسمانی و نفسیاتی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا تھا ، وہ شادی سے بچنے کے لیے فرار ہوئی۔ اگر اسے واپس سعودی عرب بھیجا جائے گا تو اس کے گھر والے اس لازمی طور پر قتل کرا دیں گے۔
رہف نے آسٹریلیا میں سیاسی پناہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم اسے مسترد کردیا گیا تھا۔ بعدازاں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے رہف کو سیاسی پناہ دینے سے متعلق اقوام متحدہ کی درخواست منظور کرلی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں