نالۂ شب گیر: ایک عہد کا رزمیہ

Spread the love

مشرف عالم ذوقی کے ناول نالۂ شب گیر پر ایک شائستہ تحریر

سمیہ بشیر،ریسرچ اسکالر
مولانا آزاد نیشنل اُردو یونیورسٹی،حیدرآباد
آمنو کولگام، جموں کشمیر

مشرف عالم ذوقی کسی تعارف کے محتاج نہیں، یعنی آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے۔مشرف عالم ذوقی بہار کے ایک چھوٹے سےشہر آرہ کے محلے مہادیو میں 22 مارچ 1962 کو پیدا ہوئے یہ محلہ کبھی ’’شاہ آباد‘‘ کے نام سے مشہورتھا۔ ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی۔ 4 سال کی عمر میں شاہ آباد اردو اسکول بھیجے گئےجو ان کے گھر سے کچھ ہی دوری پر واقع تھا۔

ایک چھوٹے سےشہر آرہ کے محلے مہادیو میں 22 مارچ 1962 کو پیدا ہوئے یہ محلہ کبھی ’’شاہ آباد‘‘ کے نام سے مشہورتھا۔ ابتدائی تعلیم بھی یہیں سے حاصل کی۔ 4 سال کی عمر میں شاہ آباد اردو اسکول بھیجے گئےجو ان کے گھر سے کچھ ہی دوری پر واقع تھا۔

یہاں سے بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں جین سکول میں داخلہ لیایہاں سے یہ مسافرمہا راجہ کالج پہنچا اور پھر کب دلی کی پر پیچ تنگ و تاریک گلیوں اور روشن شاہراوں سے ہوتا ہوا ادب و تخلیق کے بلند و بالا پہاڑوں پر جھومتے وقت کے جنگلوں کو تیشۂ فرہاد سے کھودتے وقت کی تھالی میں اپنے حصے کے سکے ڈالتےہوئے اس مقام پر پہنچے کہ بالوں کی چاندی بڑھاپے کی نوید سنانے لگی، مگر تحریر آج بھی جوان، پر امید اور امنگوں سے بھرپور ہے۔ اب تک ان کے 12 ناول 8 افسانوی مجموعے، 3 تنقیدی مضامین، بچوں کے لیے 1 اور 2 ڈراموں کی کتابیں شائع ہوئی ہیں۔

32 سال سے الیکٹرونک میڈیا سے وابستہ ہیں ذوقی فلمز کے تحت 100 سے زیادہ دستیاویزی فلمیں اور 20 سے زیادہ ڈرامے بنا چکے ہیں۔ ان کے متعدد ناولوں افسانوں پر ڈرامے بنائے گئے جن میں’’ مسلمان‘‘ ناول اور لینڈ سکیپ کے گھوڑے اور سعدی کو الوداع کہتے ہوئے افسانوی مجموعوں پر بھی پرڈرامہ سیریل بنائے گئے۔ چھٹی کلاس میں ان پہلی کہانی رسالہ ’’پیام تعلیم‘‘ میں شائع ہوئیـ پہلا افسا نہ تیرہ برس کی عمر میں کہکشاں (ممبئی) میں شائع ہوا۔

نالۂ شب گیر ایک ایسا ناول ہے ، جس کے مطالعہ کے بعد ہوش وحواس کو قائم رکھنا آسان کام نہیں۔ خصوصاً عورتوں کے لیے یہ ناول کسی چیخ سے کم نہیں۔ ایک ایسی چیخ جس میں کئی اعتبار سے ہمارے سماج اور معاشرے کو جھنجھوڑنے کی طاقت ہے۔ ذوقی نے اس سے قبل بھی اردو کو کئی خوبصورت ناول دیے ہیں لیکن نالۂ شب گیر کے مقام کا تعین کیا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ عورتوں کے تعلق سے کسی ناول میں ایسی آواز پہلی بار سننے کو ملی ہے۔ یہ ناول اکیسویں صدی کے نام ہے جہاں تیزی کے ساتھ گلوبل سماج میں انسانی قدریں تبدیل ہوتی جارہی ہیں۔

ناہید ناز اور صوفیہ مشتاق احمد اس ناول کے دو اہم نسائی کردار ہیں۔ صوفیہ کا کردار معاشرہ کے اس چہرہ کی نقاب کشائی کرتا ہے، جہاں عورت گھر کی باندی ہے۔ بندشوں میں اس کا دم گھٹ رہا ہے اور وہ خوف کی علامت بن کر رہ گئی ہے۔ ناہید ناز کا کردار ایک باغی کردار ہے۔ ایک کردار جس کا جنم تو خوف سے ہوا ہے مگر وہ خوف کا خول اتارتے ہوئے پورے مرد سماج سے انتقام لینا چاہتی ہے۔ سوال یہ بھی قائم ہوتا ہے کہ آخر وہ انتقام کیوں لینا چاہتی ہے۔؟ ذوقی نے اس جواب کو مدلل طریقے سے دینے کی کوشش کی ہے۔

ناہید ناز کا کردار ایک علامتی کردار میں ڈھل جاتا ہے جو صدیوں سے مردوں کے سائے میں، ظلم اور بربریت کی چھائوں میں کراہ رہی ہے۔ یہ ظلم کبھی کم یا زیادہ نہیں رہا۔ تعلیم نسواں کو فروغ دینے کی کوشش رہی ہو یا عورت کو آزادی دینے کا معاملہ، اس حقیقت سے آنکھیں موندنے کی ضرورت نہیں کہ عورت کبھی بھی آزاد نہیں ہوپائی۔ تعلیم حاصل کرنے، کیریئر بنانے اور روزگار پانے کے باوجود اس کی حیثیت مرد کی جوتی کے برابر رہی۔ صوفیہ سب کچھ برداشت کرسکتی تھی لیکن ناہید ناز کا وجود یہ سب قبول کرنے کو تیار نہ تھا۔ اور اسی لیے مرد سے انتقام کا جو جذبہ اس کے اندر پیدا ہوا، اس نے مرد کے پورے نظام کو ہی ہلاکر رکھ دیا۔ ناول میں ایک ایسا وقت آتا ہے جب اس کی چچا زاد بہن نکہت خود کشی کرلیتی ہے۔ یہ واقعہ ناہید کی زندگی کے لیے Turnning Point ثابت ہوتا ہے۔
’’کس نے مارا میری نکہت کو… آپ سب نے مل کر مارا ہے میری نکہت کو…‘
’اندر چلو۔‘ اماں زور سے کھینچ رہی تھیں۔
’بے غیرت…‘ ابو چاچا کی آواز سنائی پڑی…
اور یہی لمحہ تھا جب اس لفظ نے میرے اندر کی غیرت کو جگا دیا تھا۔
’ہاتھ چھوڑو اماں۔‘میں نے زور سے دھکا دے کر اماں سے ہاتھ چھڑا لیا —’بے غیرت… آج کسی نے کچھ کہا تو میں کہہ رہی ہوں اتنا برا ہوگا کہ کبھی نہیں ہوا ہوگا۔ بے غیرت… ارے کس نے کہا بے غیرت… اس گھر کے مردوں کو غیرت سے واسطہ بھی ہے… کس غیرت کی باتیں کرتے ہیں یہ لوگ… ارے اس گھر کی لڑکیاں تو پیدا ہوتے ہی ان مردوں کے سائز تک سے واقف ہوجاتی ہیں۔‘

اماں نے ہاتھ گھمایا تھا مارنے کے لیے… میںنے اماں کا ہاتھ روک دیا… —’آج نہیں اماں… آج ہاتھ مت اٹھانا… آج کوئی میری طرف بڑھا تو جان سے مار ڈالوں گی۔ میں چلائی تھی… یہ اجوچچا۔ گبرو دادا… یہاں مرد اپنے گھر میں شکار کرتے ہیں۔ مرغیاں، بکریاں اور میمنے تک ان شریف مردوں کے سائز سے واقف ہیں۔‘
’بس کرو۔‘اماں نے زور سے چیخ کر کانوں کو بند کر لیا—

چودھری زین العابدین دروازے سے باہر نکل گئے تھے۔ اجو چاچا میری طرف بڑھے تو میں نے ہاتھ بڑھا کر ایک بڑا سا پتھر اٹھا لیا۔
’کیا رشتہ تھا تم سے نکہت کا؟‘

آگے بڑھتے بڑھتے اجو چاچا کا چہرہ ایک خوفناک مگر سہمے ہوئے چہرے میں تبدیل ہوچکا تھا۔

اماں دیوار کی طرف منہ کرکے رو رہی تھیں۔

’نکہت بے غیرت نہیں ہے۔‘ میں گلہ پھاڑ کر چیخی تھی۔’ آپ لوگ لڑکیوں کو پیدا ہونے سے پہلی ہی جوان کردیتے اور ماردیتے ہیں۔ اسے بڑھنے کہاں دیتے ہو۔ آپ کی شرافت ان بوسیدہ دیواروں کے ذرے ذرے میں چھپی ہوئی ہے…‘‘

دور جہالت اورآج کے زمانے کی عورت کے مسائل یکساں ہیں کیونکہ اس زمانے میں بھی اس کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک کیا جاتا تھا اور آج کے اس جدید دور میں بھی اس کے ساتھ وہی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ دور جہالت میں اس کو زندہ دفن کیاجاتا تھا اور آج بھی اس کو زندہ دفن کیا جاتا ہے صرف طریقے بدل دیئے گئے ہیں۔ آخر وجہ کیا ہے؟ کہ اس طبقے کے ساتھ اس طرح کی نا انصافی کیوں ہوتی ہے دراصل یہ انسان مادیت پرست بن گیا ہے جو اس طبقے کو صرف اپنی خواہش یا لذت پوری کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے اور اس کو استحصال کی نظروں سے دیکھتا ہے۔

پچھلے کچھ برسوں میں نہ صرف ہندستان میں ہی بلکہ پوری دنیا میں عورت کا جینا حرام ہوا ہے اور یہ سلسلہ آج تک جاری ہے اورآج بھی اس کی عصمت پر مختلف طریقوں سے حملے ہوتے ہیں۔ ذوقی صاحب جیسے حساس ذہن رکھنے والے قلم کار نے بھی یہ دیکھا اور دیکھ کر عورت کے ان مسائل کو ایک ناول کی شکل میں پیش کردیا اور یہ ناول ’’نالۂ شب گیر‘‘ کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس ناول میں ایک لڑکی کی جنسی استحصال کی کہانی کو پیش کیا گیا ہے۔ ناول کی شروعات صوفیہ مشتاق احمد سے ہوتی ہے۔

صوفیہ مشتاق احمد ایک ایسی بدقسمت لڑکی ہے جو ہمیشہ پیار اور محبت سے محرورم رہی۔ ان کے والدین کا انتقال بچپن میں ہی ہوگیا۔ صوفیہ کے بھائی بہن سمجھتے تھے کہ وہ ان پر بوجھ ہے۔ اسی لیے اس کی شادی کسی سے بھی کرانا چاہتے تھے اور یہی وجہ ہے کہ وہ گھر چھوڑنے پر مجبور ہوگئی۔ لیکن جب اس ناول کا مطالعہ کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ یہ کہانی صوفیہ مشتاق احمد کی نہیں بلکہ ناہید ناز کی ہے۔ جس کی زندگی صوفیہ سے بھی بدتر تھی۔ وہ اپنی زندگی ظلم کی آغوش میں گزارنے کے لیے مجبور تھی۔ وہ اپنے ماں باپ، بھائی بہن ہونے کے باوجود بھی پیار اور محبت کے لیے ترستی تھی۔ ایک دن ان کے ساتھ بھی ایسا حادثہ پیش آیا جس کی وجہ سے وہ بھی اپنا گھر چھوڑنے کے لیے مجبور ہوئی۔
اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’میں نے بڑی امی کی طرف دیکھا۔ سانسوں کو سنبھالا۔ پھر کہا۔
’بڑی امی۔ میں نے ایک اور نکہت کو شہید ہونے سے بچا لیا…‘
مجسمہ نے سر اٹھا کر دیکھا— پتلیوں میں ہلچل تھی۔

’کوئی ہے جو اس وقت چھت والے کمرے میں بیہوش ہوکر پڑا ہے۔ اسپتال بھیجئے، اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے۔ ‘

میں یہ دیکھنے کے لئے ٹھہری نہیں کہ مجسمے کے بدن میں ہلچل ہوئی یا نہیں۔ میں تیزی سے پلٹی اور اپنے کمرے میں واپس آگئی۔ میں نے سوچ لیا تھا، اب مجھے اس شہر میں نہیں رہنا ہے۔

امی کے کمرے میں آنے تک میں بریف کیس میں اپنا سامان رکھ چکی تھی۔ فیس بک پر کچھ لڑکیاں تھیں۔ جو گرلس ہوسٹل میں رہتی تھیں اور میری دوست بن چکی تھیں۔ ان میں ایک لڑکی ریتا اگروال تھی۔ پروگریسیو۔ ایک انگریزی اخبار میں تھی۔ ریتا نے کئی بار بلایا تھا۔ وہاں کیا کر رہی ہو۔ دلی آجائو۔ اپنی مرضی کی زندگی جیو… جتنے دن چاہو۔ ہمارے ساتھ رہ سکتی ہو۔ اس درمیان جاب تلاش کرتی رہنا۔ جاب تو مل ہی جائے گی…
امی نے غور سے میری طرف دیکھا۔
’جا رہی ہو…‘
’ہاں۔ ‘
’کہاں۔ ‘
’ دلی ۔‘
’ہونہہ‘
’ میںواپس نہیں آئوںگی۔ ‘
ہونہہ۔‘
’کچھ باقی رہ گیا ہے…‘ میںامی کی طرف پلٹی… میں نے پھر اس لفظ کو دہرایا … کچھ باقی رہ گیا ہے…’ اماں کسی اور سوچ میں گرفتار تھیں۔ لیکن یہ لفظ کچھ باقی رہ گیا ہے۔ دیر تک میرے اعصاب پر سوار رہے۔ اندر کشمکش چل رہی تھی۔ گھر میں طوفان آسکتا ہے۔ جب گھر کے مردوں کو بیہوش عظیم کا پتہ چلے گا، تو ہنگامہ شروع ہوجائے گا۔ مجھے اس ہنگامہ سے پہلے ہی گھر چھوڑ دینا تھا۔ میں اب کسی مصیبت کا سامنا نہیں کرنا چاہتی تھی۔ جبکہ اب میں اتنی باہوش تھی کہ کسی بھی مصیبت کا سامنا کرنے کو تیار تھی۔‘‘

ناہید ناز کو بھی اس بات کا ڈر تھا کہ جب گھر میں نازیہ کے بارے میں گھر والوں کو پتہ چلے گا تو قیامت برپا ہوگی۔ وہ چاہتی تھی کہ گھر میں قیامت آنے سے پہلے ہی وہ گھر چھوڑ دے۔ وہ بہت ہی بہادر لڑکی تھی اور کسی بھی مصیبت کا سامنا آسانی سے کرسکتی تھی۔ یہ ناول ہر اس لڑکی کی کہانی ہے جو آج کے سماج میں رہ رہی ہے۔ اس ناول میں عورتوں کے ساتھ جو ظلم وستم ہورہے ہیں، ان کی عزت اور عصمت کو نیلام کیا جاتا ہے اور ان کی سماجی حیثیت اور ان کے استحصال کو خصوصی طور پر اجاگر کیا گیا ہے۔ اس ناول میں مصنف نے نسوانی کردار کی تخلیق بہت اچھے ڈھنگ سے کی ہے۔ خدیجہ اپی اور نازیہ اپی کا کردار ایسا ہے جو ظلم وستم اور زیادتیوں کو برداشت کرتی ہے وہیں صوفیہ مشتاق احمد اور ناہید ناز جیسے کردار بھی تخلیق کیے ہیں، جو آج کے دور کی مضبوط ارادوں والی عورت کی نمائندگی کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دور کے مخصوص سماج میں یہ عورتیں اس قدر مجبور و بے بس ہیں کہ اپنے اوپر ہونے والے ظلم وستم کو اپنا نصیب سمجھ کر قبول کرتی ہیں۔ ہمارے ملک میں ایک طرف تو عورت کو پوجا جاتا ہے لیکن دوسری طرف ایسا سلوک کیا جاتا ہے جو نہیں کرنا چاہئے۔

اس ناول میں ذوقی ایک مصنف کی حیثیت سے نظر آتے ہیں جو نئی کہانی کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے ہیں اور اسی بیچ مصنف کی ملاقات ناہید ناز سے انڈیا گیٹ پر ہوتی ہے جو مصنف کو بہت متاثر کرتی ہے— پھر مصنف اس کی کہانی جاننے کے لیے ناہید ناز کے گھر نینی تال جاتے ہیں اور وہاں وہ مصنف کو ساری کہانی بتاتی ہے— سوچنے لگتے ہیں کہ کیا کسی گھر میں ایسا بھی واقعہ ہوا ہوگا جہاں کے انسان حیوان جیسا سلوک کرتے ہونگے اور جن کو یہ پتہ نہیں کہ ماں کیا ہے، باپ کیا ہے، بیٹی یا بھائی کیا ہے یا بہن کیا ہے، بیوی کیا ہے وغیرہ۔ اور کیسے لوگ ہیں جنہیں رشتوں کی قدر نہیں۔ کیا کوئی عورت اتنی لاچار و بے بس ہوسکتی ہے جو سب کچھ دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرسکتی ہے۔ اسی بیچ جیوتی گینگ ریپ کا حادثہ ہوتا ہے جس نے پوری دلی کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔

’’یہ انہی دنوں کا تذکرہ ہے جب ہندوستانی سر زمین پر سیاست نے نئی کروٹ لی تھی۔ دلی کا انڈیا گیٹ ہزاروں لاکھوں کی بھیڑ میں انقلابی چوک میں تبدیل ہو چکا تھا۔ یہ دبے پائوں آنے والی انقلاب کی وہ آہٹ تھی،جو شاید اس سے قبل کبھی نہیں دیکھی گئی— یہ وہی دور تھا جب دنیا کے کئی حصوں میں اس طرح کے مظاہرے عام تھے— سیاسی چہروں کو یہ فکر دامن گیر تھی عوام کا غصہ جاگ گیا تو تخت و تاج کا کیا ہوگا— بار بار تباہ و برباد اور آباد ہونے والی دلی آزادی کے بعد محض سوئی ہوئی، خاموش تماشائی بن کر رہ گئی تھی۔ لیکن ایک حادثے نے دلی والوں کو نہ صرف جگا دیا تھا بلکہ دلی کے ساتھ ہی پورا ہندوستان بھی جاگ گیا تھا اور یہ معاملہ تھا جیوتی گینگ ریپ کا معاملہ— ایک معصوم سی لڑکی جیوتی، جس کو میڈیا اور چینلس نے ابھیا، نربھیا جیسے ہزاروں نام دے ڈالے تھے۔ ایک کالج کی لڑکی جو صبح سویرے اپنے بوائے فرینڈ کے ساتھ ایک خالی بس میں بیٹھی اور بس میں سوار پانچ لوگوں نے بے رحمی کے ساتھ بوائے فرینڈ کی موجودگی میں اسے اپنی ہوس کا شکار بنا لیا اور چلتی بس سے دونوں کو باہر پھینک دیا— یقینی طور پر ایسے معاملات پہلے بھی سامنے آئے تھے۔ لیکن بے رحمی اور درندگی کی نہ بھولنے والی اس مثال نے دلی کو احتجاج اور انقلاب کا شہر بنا دیا تھا— جنترمنتر سے لے کر دلی گیٹ اور انڈیا گیٹ تک ہزاروں لاکھوں ہاتھ تھے، جو انقلاب کے سرخ پرچم کے ساتھ ہوا میں اٹھ کھڑے ہوئے۔‘‘

ناہید ناز ایک ایسی عورت ہے جو مردوں سے انتقام لینا چاہتی ہے اور ہروہ کام مردوں سے کرانا چاہتی ہے جو ایک عورت کرتی ہے۔ اسی لیے اپنے شوہر کمال یوسف کو کہتی ہے کہ:

’’تم مردوں کا بس چلے تو بس ہمیں ہائوس وائف بنا کر ہی رکھو۔ نمائشی گڑیا— جیسا تم صدیوں سے ہمیں بناتے رہے ہو۔ عورت گھر میں رہے۔ گھر کا کام کاج کرے۔ برتن صاف کرے۔ کھانا پکائے۔ جھاڑو دے۔ برتن صاف کرے۔ تمہارے بچے پیدا کرے۔ اور بچوں کی دیکھ بھال کرے۔ اور ایک دن گھس گھس کر مر جائے۔ یہی چاہتے ہو نا تم لوگ ۔ پہلا گھر باپ کا۔ یہاں بھی اس کی کوئی شناخت نہیں۔ شناخت ہے تو باپ کی ۔ شادی کی تو تمہاری شناخت۔ شوہر کی شناخت— عورت کے پاس اس کی اپنی شناخت کہاں رہ جاتی ہے— تم کو ،تمہارے بچوںکو جیتے ہوئے وہ خود کو اس حد تک تقسیم کر دیتی ہے کہ زیرو رہ جاتی ہے۔ کم عمری میں ڈھل جاتی ہے۔ جسم پر چربی چھا جاتی ہے— عورت مردوں کے استعمال کے لیے نہیں بنائی گئی۔ مگر اس دنیا میں یہی ہوتا رہا ہے۔ تمہاری کتابوں میں لکھا ہے کہ عورت تم کو خوش کرے۔ مگر کمال یوسف، میں ان عورتوں میں سے نہیں ہوں۔ اس لیے تمہیں مجھے خوش رکھنا ہوگا اور یہ بات تمہاری آئندہ کی ڈیوٹی میں شامل ہوگی۔‘‘

کمال یوسف کو ناہید ناز کا یہ کہنا ناگوار گزرتا ہے تو پھر ایک دن ناہید نے کمال کو گھر سے نکال دیا۔ وہ ان سب مردوں کو سبق دینا چاہتی تھی، جو عورتوں پر ظلم وجبر کرتے تھے۔ وہ سوچتی تھی کہ اب دنیا میں کوئی مرد ایسا نہیں ہوگاجو عورتوں کے ساتھ ظلم اور زیادتی کرے گا۔

موجودہ دور کے سماج میں عورتوں کو وہ مقام نہیں ملتا ہے جو ایک عورت کو ملنا چاہئے۔ آج کے معاشرے نے ایک عورت کا گھر سے باہر نکلنا دشوار بنادیا ہے۔ جوں ہی وہ باہر قدم رکھتی ہے ہر انگلی اس کے خلاف اٹھتی ہے اور ہر کوئی اس کو ایک نہ ایک طریقے سے ہوس کا شکار بناناچاہتا ہے۔ آخر کب تک ایسا ہوتا رہے گا۔ کب تک عورت اپنے آپ کو غیر محفوظ سمجھے گی— المیہ یہ ہے کہ عورت اپنے گھر میں بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتی ہے۔ اگرچہ ایوانوں میں بلند دعوے کیے جاتے ہیں کہ ایک عورت ایک مرد کے برابر ہے اوراس کو وہ تمام حقوق دیئے گئے ہیں لیکن یہ باتیں ایوانوں تک ہی محدود ہیں۔

اس ملک کی شہری ہونے کے ناطے وہ تحفظ کا حق رکھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں مرد چاہے کتنی بھی بڑی غلطی کیوں نہ کرے لیکن ہمیشہ غلط عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ نالۂ شب گیر ایسے ہی مردوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہ ناول عورت کی آزادی کی آواز ہے، ساتھ ہی یہ ناول یہ اشارہ بھی دیتا ہے کہ آج کی عورت کمزور نہیں۔ اب وہ ناہید ناز بن چکی ہے۔ اور اس نے صوفیہ کے کمزور وجود کو رجیکٹ کردیا ہے۔ یہ ایک یادگار ناول ہے۔ بدلتے ہوئے وقت کی آہٹ کو اس ناول میں آسانی سے محسوس کیا جاسکتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں