مہناز بیگم 1958 تا 19 جنوری 2013

Spread the love

مہناز بیگم کو مداحوں سے بچھڑے ہوئے 7 برس بیت گئے

کوئل جیسی مدھر آواز والی نامور گلوکارہ مہناز بیگم کی چھٹی برسی آج منائی جارہی ہے۔ مہناز بیگم پاکستان کی میوزک انڈسٹری کا وہ ستارہ تھیں جہنوں نے اپنی آوازکی بدولت کئی برس تک مداحوں کواپنے سحرمیں جکڑے رکھا۔

1958کو کراچی میں پیدا ہونے والی مہناز کا اصل نام کنیز فاطمہ تھا ان کے استاد امراؤ بندوخان کے بھتیجے نذیر نے انھیں مہناز کا نام دیا، مہناز نے موسیقی کی تربیت مہدی حسن کے بڑے بھائی پنڈت غلام قادر سے حاصل کی۔ وہ برصغیر کی مشہور گلوکارہ کجن بیگم اور عبد للہ عبد للہ تسنیم کی صاحبزادی تھیں۔

کجّن بیگم کی تقلید میں مہناز نے ابتدا ہی سے کلاسیکی موسیقی سیکھنا شروع کی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کے نیم کلاسیکی اور فلمی گانوں میں بھی ان کی کلاسیکی تربیت صاف دکھائی دیتی تھی۔ وہ مشکل گانے بھی انتہائی آسانی اور سہل انداز میں پیش کر سکتی تھیں۔

امیر امام اور سہیل رعنا نے انھیں پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگرام نغمہ زار کے ذریعے عوام سے متعارف کروایا۔ جس کے بعد مشہور موسیقار اے حمید نے مہناز کو فلمی دنیا میں آنے کی دعوت دی۔ ہدایتکار نذرالاسلام کی فلم حقیقت مہناز کی بطور گلوکارہ ریلیز ہونے والی پہلی فلم تھی۔

مہناز بیگم نے ساڑھے تین سو سے زائد فلموں کے لیے اڑھائی ہزارسے زیادہ نغمات ریکارڈ کروائے۔ حکومت پاکستان نے موسیقی کے شعبے میں مہناز کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے نوازا تھا۔

مہناز نےگلوکاری کا آغاز دورانِ تعلیم ہی کر دیا تھا، انہوں نے 1970کی دہائی میں میں ریڈیو پاکستان سے گلوکاری شروع کی اور پاکستان ٹی وی پر موسیقار سہیل رعنا نے انہیں متعارف کروایا۔ انہوں نے ریڈیو، ٹی وی اور فلموں کے لیے اڑھائی ہزار سے زائد گانےگائے۔

جلد ہی ان کی شہرت ٹی وی سنٹر سے فلم انڈسٹری تک پھیل گئی اور پھر وہ پاکستان کی ایک بہترین پلے بیک سنگر کے طور پر سامنے آئیں ۔ فلمی صنعت کے دورِ عروج میں مہدی حسن کے ساتھ مل کر بھی متعدد یادگار گانے گائے ۔

مہنازکومتعددباربہترین گلوکارہ کے ایوارڈ سے بھی نوازاگیا۔ ان کو 1973 سے لے کر 1985 تک لگا تار سات ایوارڈ حاصل کرنے کا بھی اعزاز شامل ہے ۔

مہناز بیگم بلند فشار خون اور پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا تھیں اسی سلسلہ میں انہیں علاج کے لیے امریکہ لے جایا جا رہا تھا کہ راستے میں ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی جس کی وجہ سے ان کے جہاز کو بحرین میں اتارا گیابحرین کے مقامی ہسپتال میں ان کو ہر ممکن طبی امداد فراہم کی گئی مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں اور امریکہ کے سفر سے عالم برزخ کے سفر پر روانہ ہو گئیں۔

ان کے گائے ہوئے متعدد گیت من و عن انڈیا نے کاپی کئے جن میں مشہور زمانہ پولیس پبلک فلم کا گانا ’’میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے وہ دن آخری ہو میری زندگی کا۔ یہ فلم 1990 میں نمائش کے لیے پیش ہوئی۔ مگر اس سے قبل یہ گانا پاکستانی فلم خوشبو کے لیے مہناز بیگم پیش کر چکی تھیں خوشبو فلم 1979 میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

مجھے دل سے نہ بھلانا چاہے روکے یہ زمانہ

چھاپ تلک سب چھین لی رے موسے نیناں ملائیکے

میں جس دن بھلا دوں تیرا پیار دل سے وہ دن آخری ہو میری زندگی کا۔

تیرا پیار عبادت میری اے

اپنا تبصرہ بھیجیں