ممتاز پروفیسر اور شاعر ڈا کٹر ظہیر احمد صدیقی بدھ کو 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

Spread the love

اپنے تمام تر اثاثے مستحق طلبا کے وظائف کے لیے مختص کر دیئے

ممتاز پروفیسر اور شاعر ڈا کٹر ظہیر احمد صدیقی بدھ کو 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے.
وہ طویل عرصہ اپنی تنخواہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور میں غریب طلبہ کو وظائف دینے کیلئے بنائے گئے انڈوومنٹ فنڈ ٹرسٹ کو دے دیتے رہے.
ریٹائرمنٹ پر ملنے والے 50 لاکھ روپے بھی اسی فنڈ میں دے دئیے. 10لاکھ روپے اپنے والد مولوی شفیق احمد صدیقی کے نام سے گولڈن سکالر شپ کے اجراء کیلئے دئیے جو ہر سال شعبہ اسلامیات کے ایک طالبعلم کو میرٹ پر دیا جاتاہے۔
انہوں نے 14 کروڑ روپے مالیت کی 28 ایکڑ زمین اور دو کروڑ کا ایک پلاٹ بھی مستحق طلبہ کے وظائف کیلئے دے دیا.
ریٹائرمنٹ کے بعد بھی یونیورسٹی آتے رہے. جونئیر ساتھیوں کا ہاتھ بٹاتے. کچھ نہ کچھ کام کرکے جاتے. 
ڈا کٹر ظہیر احمد صدیقی 50 سے زائد اردو اور فارسی کتب کے مصنف بھی تھے،جن میں پاکستان کی پہلی فارسی سے اردو لغت اور گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کی 50سالہ تاریخ پر مبنی کتاب ’نصف صدی کا قصہ ‘بھی شامل ہیں۔
ان کے بڑے بیٹے مائیکروسوفٹ کے سربراہ بل گیٹس کے ایڈوائزر ہیں۔ چهوٹے بیٹے ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں اعلی’ عہدے پر فائز ہیں اور صاحبزادی ایف سی سی یونیورسٹی میں انگریزی کی استاد ہیں۔

ادارہ ان کے سانحہ پر ارتحال پر ان کے لواحقین کی خدمت میں پُرسہ پیش کرتا ہے اور ان کی بلندی درجات کے لیے دعا گو ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں