محمد علی (باکسر) 17 جنوری 1942 تا 3 جون 2016

Spread the love

محمد علی (پیدائشی نام: کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر (پیدائش: 17 جنوری، 1942ء – وفات : 3 جون 2016ء) امریکہ کے ایک سابق مکے باز(باکسر) تھے، جو 20 ویں صدی کے عظیم ترین کھلاڑی قرار پائے۔ انہوں نے تین مرتبہ مکے بازی کی دنیا کا سب سے بڑا اعزاز ’’ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن شپ‘‘ جیتا اور اولمپک میں سونے کے تمغے کے علاوہ شمالی امریکی باکسنگ فیڈریشن کی چیمپئن شپ بھی جیتی۔ وہ تین مرتبہ ورلڈ ہیوی ویٹ باکسنگ چیمپئن شپ جیتنے والے پہلے مکے باز تھے۔

ابتدائی زندگی

وہ امریکی ریاست کنٹکی کے شہر لوئسویل میں پیدا ہوئے اور اپنے والد کیسیئس مارسیلس کلے سینئر کے نام پر کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر کہلائے۔

کیسیئس کلے نے 12 سال کی عمر سے ہی ایک مقامی جمنازیم میں باکسنگ کرنی شروع کر دی۔

6 فٹ تین انچ (1.91 میٹر) قد کے حامل محمد علی مکے بازوں کے عام انداز (ہاتھ چہرے پر رکھ کر اس کا دفاع کرنا) کے برخلاف ایک منفرد انداز کے حامل تھے۔ انہوں نے 29 اکتوبر 1960ء کو آبائی قصبے لوئسویل میں پہلا مقابلہ جیتا۔ 1960ء سے 1963ء تک نوجوان کیسیئس نے 19 مقابلے لڑے اور ایک میں بھی شکست نہیں کھائی۔ ان مقابلوں میں سے 15 میں اس نے مدمقابل کو ناک آؤٹ کیا۔

شہرت کا آغاز

باکسنگ میں ان کا کیریئر ایک شوقیہ کھلاڑی کی حیثیت سے کامیاب رہا لیکن ان کو عظمت اس وقت حاصل ہوئی جب 1960ء میں روم اولمپِک میں انہوں نے سونے کا تمغہ جیتا۔

لیکن تمغہ جیتنے کے بعد جب محمد علی اپنے شہر واپس آئے تو وہ نسلی امتیاز کا شکار ہوگئے۔ ایک ریستوران میں انہیں اس لیے نوکری نہ مل سکی کیونکہ وہ سیاہ فام تھے اور اس واقعے کے نتیجے میں انہوں نے اپنا سونے کا تمغہ دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔

لیکن ان واقعات کے باوجود ان کی کامیابیوں کا سلسلہ چلتا رہا۔ اکھاڑے میں کیسیئس کلے کا کردار غیر معمولی رہا۔ وہ اپنے مخالفین کو کھلا چیلینج دیتے رہے، باکسنگ کے مقابلے جیتتے رہے، اور عوام نے ان کو عقیدت کی نظروں سے دیکھنا شروع کر دیا۔


عالمی اعزاز


محمد علی اور لسٹن کے مقابلے کے کا ایک منظر، لسٹن زمین بوس ہیں

فروری 1964ء میں کیسیئس کلے نے باکسنگ میں اس وقت کے عالمی چیمپئن سونی لسٹن کو کھلا چیلنج کیا اور انہیں ایک مقابلے کے چھٹے راؤنڈ میں شکست دی۔ اس کے بعد انہوں نے مسلسل سات مقابلوں میں اس وقت کے مایہ ناز مکے بازوں کو زیر کیا۔

اس فتح کے بعد انہوں نے نیشن آف اسلام میں شمولیت اختیار کرلی اور اپنا نام محمد علی رکھ لیا۔ محمد علی کا کہنا تھا کہ کیسیئس کلے ایک غلامانہ نام تھا۔


جنگ ویت نام اور سزا

جنگ ویت نام کے دوران محمد علی نے امریکی فوج میں شامل ہونے کے عہد نامے پر دستخط کرنے سے انکار کر دیا جس کے نتیجے میں انہیں ان کے اعزاز سے محروم کر دیا گیا ا نہیں گرفتار کیا گیا، ان کے باکسنگ اعزازات ان سے چھینے گئے اور ان پر فوج کی مخالفت کا باضابطہ مقدمہ دائر کیا گیا۔ دس ہزار ڈالر کا جرمانہ ہوا اور چار برس، اپنے عروج کے چار برس وہ کھیل کے میدان سے دور رہے اور آخرکار سن اکہتر میں امریکی سپریم کورٹ نے انہیں اس مقدمے سے باعزت بری قرار دیا۔

اینٹی اسٹبلشمنٹ نوجوانوں کے ہیرو

بری ہونے کے بعد وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ نوجوانوں کے ہیرو تھے۔ نوجوان ان پر فخر کرتے تھے اور ان کی ایک جھلک کے دیوانے تھے۔ بجائے کوئی مینیجر وغیرہ رکھنے کے، محمد علی اپنی پریس کانفرنسوں اور مختلف پروگراموں میں خود بات کرتے تھے اور متنازعہ معاملات پر ہمیشہ کھل کر رائے دیتے تھے جن میں امریکی نسل پرستی بھی شامل تھی۔

ویت نام کی جنگ میں جانے سے انہوں نے انکار کرتے ہوئے انہوں نے کہا

’’میرا ضمیر مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ میں اپنے کسی بھائی کو ماروں، یا کسی گہری رنگت والے کو ماروں، یا کسی غریب بھوکے کو ماروں، اور اس لیے ماروں کہ عظیم امریکہ مزید سربلند ہو جائے؟ اور انہیں کیوں ماروں؟ انہوں نے کبھی مجھے کالا نہیں کہا، انہوں نے کبھی مجھے تکلیف نہیں دی، انہوں نے کبھی میرے پیچھے کوئی کتے نہیں چھوڑے، مجھے میری قومیت سے محروم نہیں کیا، میری ماں کے ساتھ زیادتی نہیں کی یا میرے ماں باپ کو قتل نہیں کیا، میں ان غریبوں کو کیسے مار سکتا ہوں؟ مجھے جیل لے جاؤ بھئی!‘‘ 

بعد ازاں جب محمد علی پھر سے میدان میں اترے تو ان کی باکسنگ میں وہ کشش نہیں تھی اور جو فریزیئر نے انہیں شکست دیدی لیکن دو سال کے بعد انہوں نے بدلہ چکا لیا۔

جو فریزیئر اور محمد علی کا یہ مقابلہ مکے بازی کی تاریخ کے عظیم ترین مقابلوں میں شمار ہوتا ہے اور’’Fight of the Century‘‘ یعنی صدی کی بہترین لڑائی کے نام سے مشہور ہے۔


عالمی اعزاز کا دوبارہ حصول

1974 میں محمد علی اور فارمن کے درمیان مقابلے کا یک منظر

پھر اکتوبر 1974ء میں انہوں نے جارج فورمین کو شکست دیکر ایک بار پھر اپنا کھویا ہوا وقار اور شہرت حاصل کرلی۔ اس وقت محمد علی کی عمر صرف 32 سال تھی اور وہ اس اعزاز کو پھر سے جیتنے والے دوسرے شخص تھے۔

1975ء میں محمد علی نے نیشن آف اسلام چھوڑ کر باقاعدہ اسلام قبول کر لیا۔

اسی سال منیلا، فلپائن میں پھر سے محمد علی کا مقابلہ جو فریزیئر سے ہوا جن کا کہنا تھا کہ انہیں محمد علی سے نفرت ہونے لگی ہے۔ 14 راؤنڈ کے بعد محمد علی نے فتح حاصل کی اور شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے۔

لیکن فروری 1978ء میں علی کو ایک زبردست دھچکا لگا جب وہ لیون اسپِنکس نامی اس شخص سے ہار گئے جو ان سے 12 سال کم عمر تھا۔ 8 ماہ بعد ایک مقابلے میں ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوا اور کروڑوں لوگوں نے اس مقابلے کو دیکھا۔ اس بار محمد علی نے اسپِنکس کو شکست دی اور تاریخ میں پہلی بار کسی کھلاڑی نے تیسری بار عالمی اعزاز جیتا۔ اس وقت ان کی عمر 36 سال تھی۔


ریٹائرمنٹ اور بیماری

40 سال کی عمر میں انہوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ 1980ء ان کی صحت کے بارے میں خدشات نے جنم لینا شروع کر دیا اور ڈاکٹروں نے انہیں’’پارکنسنس سنڈروم‘‘ (رعشہ) کا شکار پایا۔

اقوام متحدہ کے امن سفیر

محمد علی 2002 میں اقوام متحدہ کی طرف سے امن کے سفیر کے طور پر افغانستان بھی گئے، اور دیگر میدانوں میں بھی امن اور نسل پرستی کے خاتمے کے لیے کام کیا۔


1996 کے اولمپک کھیلوں میں استعمال ہونے والی وہ مشعل جس کے ذریعے محمد علی نے کھیلوں کا افتتاح کیا

1996ء کے اولمپک کھیلوں میں استعمال ہونے والی وہ مشعل جس کے ذریعے محمد علی نے کھیلوں کا افتتاح کیا
جب انہوں نے 1996ء کے اٹلانٹا اولمپکس کی مشعل اٹھائی تو دنیا بھر کی توجہ ان کی صحت پر تھی۔ اس وقت انہیں ایک سونے کا تمغہ بھی دیا گیا جو اس تمغے کے بدلے میں تھا جو انہوں نے دریائے اوہائیو میں پھینک دیا تھا۔

آج بھی دنیا محمد علی کو ایک عظیم شخص کی حیثیت سے جانتی ہے۔ برطانیہ میں بی بی سی ٹیلیویژن دیکھنے والوں نے انہیں اس صدی کا سب سے عظیم کھلاڑی قرار دیا اور یہی اعزاز انہیں کے امریکی رسالے Sports Illustrated نے بھی دیا۔

آبائی قصبے میں قائم محمد علی سینٹر

محمد علی گذشتہ کئی سالوں سے رعشے کے مرض میں مبتلا رہے تاہم انہوں نے فلاحی کاموں کو نہیں چھوڑا اور اپنے آبائی قصبے لوئسویل میں 6 منزلہ محمد علی سینٹر قائم کیا۔

ایک مشہور شخصیت، ایک باغی، ایک کامل مسلمان، حقوق انسانی کے علمبردار اور ایک شاعر، جس نظر سے بھی دیکھا جائے محمد علی نے ہمیشہ کھیل، نسل پرستی اور قومیت کو شکست دی ۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب محمد علی کرہ ارض پر بلاشبہ سب سے زیادہ شہرت یافتہ شخص بن گئے۔

باکسنگ میں محمد علی کی زندگی 20 سال رہی جس کے دوران انہوں نے 56 مقابلے جیتے اور 37 ناک آؤٹ اسکور کیا لیکن دنیا ہمیشہ انہیں ایک عظیم شخص کے نام سے جانتی رہے گی۔ مسلمان اور سیاہ فام آج بھی محمد علی کو اپنا ہیرو سمجھتے ہیں۔

محبت رسول اور دنیا میں ایک منفرد اعزاز

ہالی وڈ، کیلیفورنیا میں ایک عمارت کوڈیک تھیٹر انٹرٹینمنٹ کمپلکس جس کی شہرت ہالی وڈ واک آف فیم (Hollywood Walk of Fame) کے طور پر ہے۔ یہاں پر2600 مشاہیر کے نام ستاروں کی شکل کے اعزاز کے ساتھ زمین پر درج ہیں۔ جگہ کے منتظمین محمد علی ہی کی زندگی میں ان کا نام زمین پر نقش کرنا چاہتے تھے۔ تاہم محمد علی نے واضح الفاظ میں یہ بیان دیاکہ میں نہیں چاہوں گا کہ میرے نام کے اوپر سے وہ لوگ چلیں جو میری عزت نہیں کرتے۔ اس نے مزید کہا:

’’ میرے پیغمبر کا نام میرے نام کا حصہ ہے اور میرے لیے یہ ناممکن ہے کہ کسی کو اس پر قدم رکھ کر چلنے کی اجازت دوں۔‘‘
اس بیان کے پیش نظر ہالی وڈ واک آف فیم کی انتظامی کمیٹی نے 2002ء میں محمد علی کا نام دیوار پر نقش کیا۔ یہ اس عمارت کا واحد نام ہے جو دیوار پر ہے نہ کہ زمین پر۔

اس بارے میں ایک گلوکارہ کرسٹل جانسن نے تبصرہ کیا:

’’محمد علی ہالی وڈ واک آف فیم کا وہ واحد ستارہ ہے جس کو زمیں کی بجائے دیوار پر آویزاں کیا گیا ہے، کیا ہی بات ہے کہ اس کے نام پر کوئی قدم نہیں رکھ سکتا‘‘

مذہبی وابستگیاں

محمد علی 1960ء کی دہائی میں مسیحیت ترک کرکے نیشن آف اسلام قبول کیا تھا۔ تاہم 1975ء میں انہوں نے باضاطبہ اسلام قبول کر لیا۔

اولاد

محمد علی نے زندگی میں چار شادیاں کیں۔ ان کی اولاد میں 7 بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں۔ بیٹیوں میں حنا، لیلی، مریم، رشیدہ، جمیلہ، میا، خالیہ ہیں۔ جبکہ دو صاحبزادے اسعد اور محمد جونیئر ہیں۔

وفات

محمد علی کو سانس کی تکلیف کے باعث 2 جون، 2016ء کو ہسپتال میں داخل کروایا گیا۔ ابتدائی طور پر ان کی حالت کو تسلی بخش قرار دیا گیا۔ تاہم اگلے دن علی کی حالت بگڑ گئی۔ اس کے بعد ان کی حالت بہتر نہیں ہوئی اور 3 جون کو 74 سال کی عمر میں انہوں نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔

محمد علی کلے کی چند آخری تصاویر

اپنا تبصرہ بھیجیں