محسن بھوپالی 29 ستمبر 1932 تا 17 جنوری 2007

Spread the love

محسن بھوپالی کی برسی کے موقع پر مدثر بھٹی کا مختصر مضمون

آج اردو ادب کو لافانی اشعار دینے والے معروف شاعر محسن بھوپالی کی 11ویں برسی ہے‘ انہوں نے اردو شاعری کو نئی جہت عطا کی اورزندگی بھر مزاحمت کا استعارہ بنے رہے۔
محسن بھوپالی کا اصل نام عبدالرحمن تھا اور وہ بھوپال کے قریب ضلع ہوشنگ آباد کے قصبے سہاگ پور میں 29 ستمبر 1932ء کو پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوگیا اور پھر کچھ عرصے کے بعد حیدرآباد میں رہائش اختیار کی۔ آخر میں وہ کراچی منتقل ہوگئے۔

این ای ڈی انجینئرنگ کالج کراچی سے سول انجینئرنگ میں ڈپلومہ کورس کرنے کے بعد وہ 1952ء میں محکمہ تعمیرات حکومت سندھ سے وابستہ ہوئے۔ اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی 1993ء تک جاری رہی۔ اسی دوران انہوں نے جامعہ کراچی سے اردو میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔

سرکاری خدمات

جون 1952ءکو آپ حکومت سندھ کے محکمہ تعمیرات میں اورسیئر بھرتی ہوئے اور 28جولائی 1993کو بحیثیت ایگزیکٹو انجینئرریٹائرہوئے۔ لیکن ان کی وجہ شہرت بحرحال شاعری ہی رہی۔ دس کتابوں کے خالق تھے۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’شکست شب‘ انیس سو اکسٹھ میں منظر عام پر آیا۔ جس کے بعد ان کا دوسرا مجموعہ ’گرد مصافت‘ شائع ہوا۔ اس کے علاوہ ’جستہ جستہ‘، ’نظمانے‘ اور ’ماجرہ‘ ان کے قابل ذکر مجموعے ہیں۔

آپ کی شادی 19، فروری 1956ء کومسماۃ مقبول کشور سے ہوئی جن سے دو بیٹیاں اور چار بیٹے پیدا ہوئے۔ آپ کے فنی سفر کا آغاز 1947میں پاکستان آمد کے ساتھ ہی ہو گیا تھا تاہم 1948ء میں ملک کے معروف ادبی جریدوں میں آپ کا کلام شائع ہونا شروع ہو گیا۔

محسن بھوپالی کی شعر گوئی کا آغاز 1948ء سے ہوا۔ ان کی وجہ شہرت شاعری ہی رہی۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’’شکست شب‘‘ 1961ء میں منظر عام پر آیا۔ ان کی جو کتابیں اشاعت پذیر ہوئیں ان میں شکست شب، جستہ جستہ، نظمانے، ماجرا، گرد مسافت، قومی یک جہتی میں ادب کا کردار، حیرتوں کی سرزمین، مجموعہ سخن، موضوعاتی نظمیں، منظر پتلی میں، روشنی تو دیے کے اندر ہے، جاپان کے چار عظیم شاعر، شہر آشوب کراچی اور نقد سخن شامل ہیں۔

محسن بھوپالی کویہ منفرد اعزاز بھی حاصل تھا کہ 1961ء میں ان کے اولین شعری مجموعے کی تقریب رونمائی حیدرآباد سندھ میں منعقد ہوئی جس کی صدارت زیڈ اے بخاری نے کی۔ کہا جاتا ہے کہ یہ کسی کتاب کی پہلی باقاعدہ تقریب رونمائی تھی جس کے کارڈ بھی تقسیم کئے گئے تھے۔ وہ ایک نئی صنف سخن ’’نظمانے‘‘ کے بھی موجد تھے۔

محسن بھوپالی اردو کے ایک مقبول شاعر تھے ۔ ان کی زندگی میں ہی ان کے کئی قطعات اور اشعار ضرب المثل کا درجہ حاصل کرگئے تھے خصوصاً ان کا یہ قطعہ توان کی پہچان بن گیا تھا اور ہر مشاعرے میں ان سے اس کے پڑھے جانے کی فرمائش ہوتی تھی۔

تلقین اعتماد وہ فرما رہے ہیں آج
راہ وفا میں خود جو کبھی معتبر نہ تھے
نیرنگیٔ سیاستِ دوراں تو دیکھیے
منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے

معروف محقق عقیل عباس جعفری کی کتاب ’’پاکستان کے سیاسی وڈیرے‘‘ کی تقریب پزیرائی کے موقع پر انہوں نے خصوصی نظمانہ تحریر کیا اور 9 جنوری 1994 کو اس تقریب میں پڑھا ۔

اپنے ملک پہ اک مدت سے قائم ہے
گنتی کے ان سرداروں
………..اورجاگیروں کے پانے والوں
کی نسلوں کا راج
آزادی سے بڑھ کر جن کو پیارا تھا
انگریزوں کا تاج!
سوچ رہا ہوں………… شائد اب کے
قسمت دے دے مظلوموں کا ساتھ
استحصالی ٹولے سے……….. پائے قوم نجات
صبح ہوئی تو گونج رہا تھا’
بے ھنگم نعروں کا شور
اپنے خواب کی ہم نے کی………..من مانی تعبیر
پھر ہے اپنے قبضے میں……….. ملت کی تقدیر
پاکستان کا مطلب کیا؟………..موروثی جاگیر

محسن بھوپالی کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظر آتا ہے۔ انہوں نے جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔

اگر یہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے
خرد بھی زیر دام ہے ، جنوں بھی زیر دام ہے
ہوس کا نام عشق ہے، طلب خودی کا نام ہے

ان کی شاعری کے موضوعات معاشرتی اور سیاسی حالات ہوتے تھے۔ ان کے ایک قطعے کو بھی خوب شہرت حاصل ہوئی۔

جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے
اس حادثہ وقت کو کیا نام دیا جائے
مے خانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو
الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے

سنہ 1988 میں ان کے گلے کے سرطان کا کامیاب آپریشن کیا گیا ۔ اس کے بعد انہیں بولنے میں دشواری ہوتی تھی مگر اس کے باوجود بھی انہوں نے زندگی کے معمولات جاری رکھے اور مشاعروں میں شرکت کرتے اور شعر پڑھتے رہے۔

وفات

اردو ادب کو ایک لافانی ذخیرہ فراہم کرنے والے و محسن بھوپالی 17جنوری 2007ء کو دنیا سے رخصت ہوئے اورکراچی میں پاپوش نگر کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

تصانیف

شکستِ شب 1961)
جستہ جستہ (1969)
نظمانے (1975)
ماجرا(1995)
گردِمسافت (1988)
موضوعاتی نظمیں (1993)
منظر پتلی میں (1995)
روشنی تو دیے کے اندر ہے (1966ء)
اور شہر آشوب کراچی (1997) شامل ہیں۔

  • آپ کی نثری کتب میں کینڈااور امریکاکا سفر نامہ،
    حیرتوں کی سرزمین،
    نقد ِسخن (مضامین)
    اور قومی یکجہتی میں ادب کا کردار (مشاہرادب کے انٹرویوز) شامل ہیں۔[2]
    شاعری
    محسن بھوپالی کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظر آتا ہے۔ انہوں نے جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔

نمونہ کلام

اب کے موسم میں یہ معیار جنوں ٹھہرا ہے
سر سلامت رہیں دستار نہ رہنے پائے

ابلاغ کے لئے نہ تم اخبار دیکھنا
ہو جستجو تو کوچہ و بازار دیکھنا

اس سے مل کر اسی کو پوچھتے ہیں
بے خیالی سی بے خیالی ہے

اس لیے سنتا ہوں محسنؔ ہر فسانہ غور سے
اک حقیقت کے بھی بن جاتے ہیں افسانے بہت

اس کو چاہا تھا کبھی خود کی طرح
آج خود اپنے طلب گار ہیں ہم

ایک مدت کی رفاقت کا ہو کچھ تو انعام
جاتے جاتے کوئی الزام لگاتے جاؤ

اے مسیحاؤ اگر چارہ گری ہے دشوار
ہو سکے تم سے نیا زخم لگاتے جاؤ

بات کہنے کی ہمیشہ بھولے
لاکھ انگشت پہ دھاگا باندھا

بدن کو روندنے والو ضمیر زندہ ہے
جو حق کی پوچھ رہے ہو تو حق ادا نہ ہوا

پہلے جو کہا اب بھی وہی کہتے ہیں محسنؔ
اتنا ہے بہ انداز دگر کہنے لگے ہیں

جانے والے سب آ چکے محسنؔ
آنے والا ابھی نہیں آیا

جو ملے تھے ہمیں کتابوں میں
جانے وہ کس نگر میں رہتے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں