ماضی میں قومی ائیر لائن بدعنوان عناصر کے قبضہ میں تھی۔ سی ای او ارشد ملک

Spread the love

پاکستان انٹرنیشل ایئر لائن (پی آئی اے) کے سی ای او ارشد ملک نے پریس کانفرنس میں کہا کہ قومی ایئر لائن کو تباہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) ارشد ملک اور وفاقی وزیر برائے ہوا بازی محمد میاں سومرو نے پریس کانفرنس کی۔ ارشد ملک نے قومی ایئر لائن کو تباہ حال کرنے والے ماضی میں کیے گئے اقدامات کا بھرپور تذکرہ کرتے ہوئے حقائق بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سابقہ منتظمین کی ادارے میں دلچسپی ختم ہو چکی تھی، پی آئی اے میں کرپشن مافیا سرگرم تھی۔ ہمیں یہ بھی محسوس ہوا کہ ادارے میں پیشہ ورانہ مہارت کے حامل افراد کا فقدان رہا۔

انہوں نے بتایا کہ مسافروں کے ساتھ بہت غلط رویے کی شکایات کا تسلسل تھا، جہازوں سے انجن اتار لیے جاتے تھے، پارٹس غائب ہوجاتے تھے۔ جہاز کو کھڑا کر کے پہیے تک اتار دیے جاتے تھے۔

نااہلی کا یہ عالم تھا کہ اہم ڈبوں میں پڑے پڑے سامان کی میعاد ختم ہو جاتی تھی۔ ادارے کو سالانہ کروڑوں روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ انتظامیہ آنکھیں بند رکھتی تھی کچھ روٹس پر 300 ملین کا نقصان ہوا، 500 ملین ہمیں کچھ فلائٹوں سے نقصان ہو رہا تھا جو بند کردی ہیں۔

ارشد ملک نے کہا کہ لوگوں کو صفائی کے لیے سامان نہیں دیا جاتا تھا، صفائی کے لیے جو معیار مقرر ہیں ان کو کبھی اختیار نہیں کیا جاتا رہا۔ پی آئی اے میں بحالی کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں، بہت سے غیر منافع بخش روٹس بند کیے جا رہے ہیں، جو روٹ بند کیے گئے ان کی جگہ منافع بخش روٹ شروع کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ 15 فروری سے نئے روٹس پر پروازیں شروع ہو رہی ہیں۔ پشاور سے نائٹ آپریشنز 2 سال سے بند تھے اب بحال ہو رہے ہیں۔

ارشد ملک کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی ممبئی اور نیویارک میں پراپرٹیز موجود ہیں، ہم ابھی تک پاک فضائیہ کے خرچے پر چل رہے تھے۔ ہمیں ایئر فورس نے اپنے خرچے پر گاڑیاں فراہم کیں۔ ‘’200 گھوسٹ ملازمین کی تنخواہیں وصول کی جا رہی تھیں‘‘۔ من پسند لوگوں کو من پسند فلائٹس پر بھیجا جاتا تھا، مختلف ممالک میں قیمتی جائیداد ہونے کے باوجود کرائے پر آفس لیے گئے۔ ایک کروڑ روپے ہم اوور ٹائم دے رہے تھے۔

ارشد ملک نے بتایا کہ دفتر خارجہ کو شامل کر کے باہر موجود پراپرٹیز کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے، فری ٹکٹ کا بازار بند کر دیا گیا ہے نہ کسی کی سیٹ اپ گریڈ کی ہے۔ جہاز 10 ماہ سے گراؤنڈ ہیں ہم کیسے ریونیو حاصل کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے اثاثے 32 جہاز ہیں، 6 جہاز گراؤنڈ ہیں۔ جہاز مکمل آپریشنل ہوں تو تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں۔ پی آئی اے کو 247 بلین ادھار کا سامنا ہے۔ ادارے کو ماہانہ 4 ارب ادھار ادا کرنے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں