لاہور میں ذیشان کے بھائی اور اس کے اہل خانہ نے جے آئی ٹی پر عدم اعتماد ظاہر کر دیا۔ ذیشان کا بھائی ڈولفن فورس کا ملازم ہے

Spread the love
ذیشان کا بھائی احتشام اور ذیشان کی اہلیہ ٹی وی انٹرویو دے رہے ہیں

مقامی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت کی طرف سے دہشت گرد قرار دیئے جانے والے ذیشان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ اس کا خاوند ایک اچھا انسان تھا اگر حکومت دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو زندہ پکڑ سکتی ہے تو پھر ذیشان نے ایسا کیا کیا تھا کہ اس کو زندہ گرفتار نہیں کیا گیا۔ اس اہلیہ نے کہا کہ حکومت کے پاس تمام تر وسائل تھے جب ان کو سب معلوم ہو گیا تھا تو پھر اس کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا۔ حکومت اب اپنا مدعا کسی کے گلے ڈالنے کے لیے پھر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم غریب لوگ ہیں اس لیے ہمیں قربانی کا بکرا بنایا گیا ہے۔

ذیشان کا بھائی احتشام جو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی ڈولفن فورس میں ملازم ہے اس نے کہا کہ جب دو سال پہلے میں فورس میں بھرتی ہوا تھا تو اس موقع پر تمام ایجنسیوں نے میرے اور میرے گھر کے بارے میں تحقیقات کی تھیں اس وقت ان کو کچھ معلوم نہیں ہو سکا تھا یا پھر کسی نے کچھ چھپا لیا تھا۔
اس کے بھائی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں اس کیس میں انصاف ملتا نظر نہیں آ رہا کیونکہ حکومت کے وزرا نے پہلے ہی دن کہہ دیا تھا کہ ذیشان دہشت گرد ہے اور وہ آج بھی اپنے موقف پر قائم ہے۔ اس نےکہا کسی ایجنسی یا جے آئی ٹی کا کوئی ممبر مجھ سے بیان لینےنہیں آیا اور نہ ہی مجھ سے کسی بھی قسم کا کوئی رابطہ کیا گیا۔

ذیشان کی والدہ نے کہا کہ ہم غریب لوگ ضرور ہیں میرا بچہ اس طرح کے کام میں ملوث نہیں ہو سکتا۔اس کی والدہ نے کہا کہ پی ٹی آئی کی عندلیب عباس اور اس کی رشتہ دار روبینہ ان کو اچھی طرح جانتی ہیں اور انہی لوگوں نے ذیشان کو پڑھایا لکھایا ہے ان سے بھی پوچھا جائے کہ میرا بیٹا کیسا تھا، انہوں نے کہا کہ اگر میرا بیٹا دہشت گرد تھا تو اس کو پکڑ کر ثبوت لاتے اب جبکہ اس کو مار دیا ہے تو ہمیں کیا معلوم کہ حکومت اس پر کیا کیا ڈال دے گی ہم کسی بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کی والدہ نے بتایا کہ ذیشان نے آئی سی ایس کیا ہوا تھا اس کےبارے میں محلے سے ہال روڈ، حفیظ سنٹر، عابد مارکیٹ سے معلوم کیا جائے کہ وہ کیسا انسان تھا۔

پروگرام میں موجود سابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ نے ذیشان ک موقف کی تائید کی کہ جب یہ فورس بنائی گئی تھی اس وقت ہم نے ہر امیداوار کے بارے میں بہت سخت جانچ پڑتال کی تھی اور یہاں تک امیدواروں کے مسلک تک کے بارے میں پوچھ گچھ کی تھی اور یہ تک معلوم کیا تھا کہ محلے میں قریب اور دور کے لوگوں کے ساتھ امیداوار کا تعلق اور رویہ کیسا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں