قرۃ العین حیدر 20 جنوری، 1927تا 21 اگست، 2007

Spread the love

20 جنوری، 1927ء کو اتر پردیش کے شہر علی گڑھ میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد سجاد حیدر یلدرم اُردو کے پہلے افسانہ نگار شمار کیے جاتے ہیں۔ تقسیم ہند کے بعد قرۃ العین حیدر کا خاندان پاکستان چلا گیا۔ لیکن بعد میں انہوں نے بھارت آ کر رہنے کا فیصلہ کیا۔

قرۃ العین حیدر نہ صرف ناول نگاری کے لیے ہی نہیں بلکہ اپنے افسانوں اور بعض مشہور تصانیف کے ترجموں کے لیے بھی جانی جاتی ہیں۔ ان کے مشہور ناولوں میںآگ کا دریا، آخرِ شب کے ہم سفر، میرے بھی صنم خانے، چاندنی بیگم اور کارِ جہاں دراز شامل ہیں۔

ان کے سبھی ناولوں اور کہانیوں میں تقسیم ہند کا درد صاف نظرآتا ہے اور ان کے دو ناولوں آگ کا دریا اور آخر شب کے ہم سفر کو اردو ادب کا شاہکار مانا جاتا ہے۔

آخرِ شب کے ہم سفر کے لیے 1989ء میں انہیں بھارت کے سب سے بڑا ادبی اعزاز ’’گیان پیٹھ ‘‘ سے بھی نوازا گیا جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں 1985ء میں پدم شری اور 2005ء میں پدم بھوشن جیسے اعزازات بھی دیے۔

11 سال کی عمر سے ہی کہانیاں لکھنے والی قرۃ العین حیدر کو اردو ادب کی ورجینا وولف کہا جاتا ہے۔ انہوں نے پہلی بار اُردو ادب میں سٹریم آف کونشیئسنسراتکنیک کا استعمال کیا تھا۔ اس تکنیک کے تحت کہانی ایک ہی وقت میں مختلف سمت میں چلتی ہے۔

اعزازات

انھیں ساہتیہ اکادمی اور گیان پیٹھ اکادمی کے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ ساہتیہ اکادمی کا اعزاز ان کے افسانوی مجموعہ پت جھڑ کی آواز پر 1967ء میں تفویض ہوا جبکہ گیان پیٹھ اعزاز 1989ء میں آخرِ شب کے ہم سفر پر دیا گیا تھا۔

وفات


انھیں ساہتیہ اکادمی اور گیان پیٹھ اکادمی کے اعزازات بھی مل چکے ہیں۔ ساہتیہ اکادمی کا اعزاز ان کے افسانوی مجموعہ پت جھڑ کی آواز پر 1967ء میں تفویض ہوا جبکہ گیان پیٹھ اعزاز 1989ء میں آخرِ شب کے ہم سفر پر دیا گیا تھا۔


21 اگست، 2007ء کو دہلی میں طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں