قانون شکنی کی روایت اور کلاشنکوف کا تحفہ

Spread the love

پاکستان میں قانون بنانے اور توڑنے کی روایت بہت قدیم ہے یہ بات مشاہدہ میں آئی ہے کہ حکومت جو بھی قانون بناتی ہے اس کو سب سے پہلے خود ہی توڑتی ہے۔ جیسا کہ 1953 کی دستور ساز اسمبلی نے پاکستان کا ابتدائی دستور تیار کر کے نافذ کیا اور اس میں بہت سےکمی تھیں جن میں آہستہ آہستہ دور کر لیا گیا اور 1973 میں ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں دستور ساز اسمبلی نے ایک متفقہ آئین پاس کیا اور اسی آئین کے تحت پاکستان کو چلایا جا رہا ہےاور حسب ضرورت اس میں ترامیم کر لی جاتی ہیں۔

1953 کا آئین غالباً اپریل میں پاس ہو کر نافذ ہوا جس میں ایک یہ شق رکھی گئی کہ کسی ایسے آدمی کو کوئی وزارت نہیں دی جائے گی جو مجلس دستور ساز کا ممبر نہ ہو اس نو مولود ملک کے نوزائیدہ آئین کو نافذ ہوئے ابھی پانچ ماہ کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ اس وقت کے گورنر جنرل غلام محمد کو کچھ خیال آیا کہ انہوں نے امریکہ کے سفیر جو فارن سروسز کے افسر اور وزیر صحت رہ چکے تھے کو امریکہ سے طلب کر کے وزارت عظمیٰ کا قلمدان ان کے ہاتھ میں دے دیا۔ انہوں نے یہ بات یکسر نظر انداز کر دی کہ حال ہی میں منظور کیے گئے قانون کے مطابق محمد علی بوگرہ کو وزارت نہیں دی جا سکتی کیونکہ وہ دستور ساز اسمبلی کے رکن نہیں تھے۔
اس کے بعد پاکستان کی تاریخ لکھنے والوںنے چوہدری غلام محمد کے بارے میں بہت کچھ لکھا کسی نے کہا کہ وہ بیمار الذہن انسان تھے تو کسی نے ان کو مجہول العقل قرار دیا بعض مصنفین نے لکھا کہ آخری وقت میں جب وہ مری میںچھٹی گزار رہے تھے تو ان کے حواس خمسہ کام کرنا چھوڑ چکے تھےوہ ویل چیئر پر بیٹھ رہتے تھے اور ان کے منہ لعاب ٹپکتا رہتا تھا۔ سو ہزار فرد ہزار داستان ۔

جیسا کہ میں عرض کیا کہ پاکستان کے آئین کی سب سے زیادہ بے حرمتی اس ملک میں حکمرانوں اور عوامی نمائندگان نے ہی کی ہے اور کر رہے ہیں۔ اس کی تازہ مثال یہ ہے کہ حکمران جماعت نے 15 جنوری 2019 کو قرار دیا تھا کہ بیرون ملک سے آنے والے مہمانوں یا سفیروں سے صدر مملکت کے سوا کوئی تحائف قبول نہیں کر سکتا اور اس سلسلہ میں حکومت نے خبروں اور اشاعتی ادروں اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں سے مدد لی اور اس کی خوب تشہیر کی، دوسری جانب ہمارے وزیر اعظم عمران خان نے ایک ہی دن کے وقفے سے سعودی عرب سے تلور کے شکار کے لیے آئے ہوئے تبوک کے گورنر شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز سے سونے کی ایک کلاشکوف کا تحفہ وصول کیا۔

تحفے وصول نہ کرنے کے قانون میں گو کہ اپنی سہولت کے لیے یہ کہا گیا ہے کہ اگر کسی وجہ سے کوئی تحفہ مل جائے تو اس کو فوری طور پر سرکاری خزانے میں جمع کرا دیا جائے گا۔

ساری کارروائی اپنی جگہ درست ہے کہ گھر آئے مہمان کو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ٹھہرو حضور میں یہ انعام وصول نہیں کر سکتا آپ انتظار فرمائیں میں صدر مملکت کو بلا لیتا ہوں، ظاہر سی بات ہے کہ عمران خان ہوں یا کوئی بھی جس نے یہ تحفہ وصول کیا ہے بنیادی طور پر اس نے صدر مملکت کے نائب کی حیثیت سے وصول کیا ہے۔

وزیر اعظم کے متعلق ہمارا گمان ہےکہ انہوں نے اس سلسلہ میں صدر مملکت کو آگاہ تو کیا ہو گا اور قانون کے مطابق تحفہ میں ملی ہوئی کلاشنکوف خزانہ مال سرکار میں جمع بھی کرا دی ہوگی ، مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ جس طرح جناب وزیر اعظم نے تحائف نہ لینے والے قانون کی تشہیر اور متعلقین نے اس کو خندہ پیشانی سے قبول کیا اور اس پر عمل کا عزم ظاہر کیا اسی طرح یہ کلاشنکوف خزانے میں جمع کرانے کی ایک تصویر جاری فرماتے اور ٹویٹ کرتے کہ میں نے قانون پر عمل کر دیا ہے۔ تاکہ سند رہتی اور بوقت ضرورت کام آتی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں