فلموں کے متعلق مختلف اصطلاحات اور سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلمیں

Spread the love

یہ عالمی باکس آفس پر سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلموں کی ایک درجہ بندی ہے، جس میں مختلف زبانوں کی فلمیں شامل ہیں۔ ان اعداد و شمار سے باخبر رہنے کے کوئی سرکاری ذرائع نہیں ہیں، لہٰذا انہیں مستند نیوز ویب سائٹس کی طرف سے رپورٹ کیا گیا ہے۔
باکس آفس کی تاریخ
بھارت میں 1913ء میں پہلی فلم بنی، دادا صاحب پھالکے کی راجا ہریش چندر یہ ایک خاموش فلم تھی۔ ہندی سنیما کے آغاز 1931ء میں آئی اردے شير ایرانی کی پہلی عالم آرا سے ہوئی۔ لیکن اس وقت بھارت میں ایک فلم کا بن کر تیار ہونا ہی بڑی بات تھی، فلموں کی لاگت اور کمائی میں کسی کی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن جلد ہی وقت بدلا، فلموں کو کامیاب اور ناکام کی کسوٹی پر پرکھا جانے لگا۔ اس کے لیے پیمانہ بنایا گیا سینما گھروں میں فلم کی چلنے کی مدت یعنی جو فلم زیادہ دنوں تک سینما گھروں میں چلتی رہے گی وہ اتنی کامیاب کہی جائے گی۔

بعد میں فلم کی کامیابی اورناکامی کا معیار باکس آفس کلیکشن یعنی فلموں سے ملنے والی آمدنی کو بنا لیا گیا۔ لیکن افراط زرد کی وجہ اکیسویں صدی کی پہلی دہائی کے دوران، ٹکٹ کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا، ساتھ ہی تھیٹر کی تعداد اور ایک فلم کے پرنٹس کی تعداد میں اضافہ کے تین گنا تیزی سے جاری رہا اور غیر ملکی تھیٹروں میں فلموں کی نمائش ہونے لگی۔ جو بعد میں آنے والی فلموں کی باکس آفس آمدنی میں بڑے اضافہ کی وجہ بنی ہے۔

1940 کی دہائی کے دوران میں جنوبی بھارت میں سنیما ہال کی تعداد پورے بھارت کے سنیما کی تعداد سے تقریباً نصف کے حساب سے تھی۔ جس بھارت میں فلم کی آمدنی کا 75 فیصد حصہ ہوتا تھا۔ اور 2009ء تک ایسا ہی رہا۔

بیسویں صدی کے اوائل کے بعد بھارتی فلموں دنیا بھر کی مارکیٹوں میں دکھائی جانے لگیں، مثلاً 2003ء کے سال میں، بھارت کی فلمیں تقریباً 90 سے زائد ممالک کے سینما میں گئی۔

باکس آفس کلیکشن کے اعداد و شمار افراط زر کے حساب سے نہیں ہیں۔ افراط زر کی شرح کے مطابق 1975ء کی فلم شعلے کی کمائی کا تخمینہ 3 ارب روپے (امریکی 45 ملین ڈالر) کے حساب سے سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلم ہے۔
جہاں تک بات ہے سب سے زیادہ دیکھی جانے والی فلموں کی، ان میں مغل اعظم،شعلے، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، غدر:ایک پریم کتھا، ہم آپ کے ہیں کون، راجا ہندوستانی، بارڈر، کرن ارجن، میں نے پیار کیا، کچھ کچھ ہوتا ہے، کبھی خوشی کبھی غم شامل ہیں۔
باکس آفس پر افراط زر کا اثر
بھارت میں 1913 میں پہلی فلم بنی، دادا صاحب پھالکے کی ‘راجا ہریش چندر۔ یہ ایک خاموش فلم تھی۔ ہندی سنیما کے آغاز 1931 میں آئی اردے شير ایرانی کی پہلی ‘عالم آرا سے ہوئی۔ لیکن اس وقت بھارت میں ایک فلم کا بن کر تیار ہونا ہی بڑی بات تھی، فلموں کی لاگت اور کمائی میں کسی کی دلچسپی نہیں تھی۔ لیکن جلد ہی وقت بدلا، فلموں کو کامیاب اور ناکام کی کسوٹی پر پرکھا جانے لگا۔ اس کے لیے پیمانہ بنایا گیا سینما گھروں میں فلم کی چلنے کی مدت۔ یعنی جو فلم زیادہ دنوں تک سینما گھروں میں چلتی رہے گی وہ اتنی کامیاب کہی جائے گی۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو 15 اگست 1975 کو ریلیز ہوئی شعلے بھارت کے 100 سے زیادہ سینما گھروں میں 25 ہفتے سے زیادہ چلتی رہی رہی اور کچھ میں مسلسل 50 ہفتے۔ ممبئی کے منروا سنیما میں یہ مسلسل 5 سال تک چلتی رہی۔ پر بات یہی ختم نہیں ہوتی۔

باکس آفس کلیکشن کی بات کریں یعنی سیدھے پیسوں کی بات کریں تو ماضی کی شعلے فلم پی کے، بجرنگی بھائی جان، دبنگ سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم ہے۔ پی کے، بجرنگی بھائی جان، دبنگ کو بھارت اور ہندی سنیما کی تاریخ کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بتا رہے ہیں، اصل میں انہیں افراط زر (inflation) کا اندازہ نہیں ہے۔ افراط زر کے حساب سے دیکھا جائے تو اصل میں ہندی سنیما کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم شعلے ہے، اس کے بعد دل والے دلہنیا لے جائیں گے، اس کمائی پی، بجرنگی بھائی جان اور دبنگ سے کہیں زیادہ ہے۔ 15 اگست 1975 کو ریلیز ہوئی شعلے ایک قابل اعتماد سروے کے مطابق محض 15 کروڑ روپے بتائی جاتی ہے۔ لیکن 1975 میں آئی شعلے کے 15 کروڑ، 2014 میں آئی پی کے 735 کروڑ، 2015 میں آئی بجرنگی بھائی جان کے قریب 600 سے کہیں زیادہ ہے۔ اس چونکانے والی بات کے لیے ذمہ دار ہے افراط زر۔

آپ نے بہت سے بہت بوڑھے لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ پہلے ایک روپے کی قیمت بہت تھی اب ایک روپے کی قیمت کم ہو گئی ہے، جی ہاں، اسی روپے کی قیمتوں کے اتار چڑھاو کو افراط زر کہتے ہیں۔ افراط زر کو ایک سطر میں سمجھنے عام بول چال کی زبان میں افراط زر کی شرح ایک ریاضیاتی تشخیص پر مبنی معاشی تصور ہے، جس کی مارکیٹ میں کرنسی کے پھیلاؤ اور اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ یا کمی شمار کیا جاتا ہے۔ آپ اسے ایسے سمجھیے کہ اگر 1975 میں کوئی سامان 100 روپے میں مل رہا ہو اور 1985 میں وہی چیزیں 200 میں ملنے لگے تو افراط زر سو فیصد بڑھ گئی۔ اس کسوٹی پر کسنے سے پتہ لگتا ہے کہ شعلے، پی کے اور بجرنگی بھائی جان سے کمائی کے معاملے میں کتنا آگے ہے۔ یہ حساب لگانے کے بعد ہی پتہ چلتا ہے کہ صحیح معنوں میں ہندی سنیما کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم کون سی ہے۔

چونکہ افراط زر ناپنے کا کوئی واضح پیمانہ نہیں ہے۔ اس کا اندازہ اشیاء کی قیمتوں کی بنیاد پر ہی لگایا جا سکتا ہے۔ اس شعلے کی اصل کمائی کے بارے میں جاننے کے لیے ہمیں 1975 میں اشیاء کی قیمت کو جاننا ہوگا۔مثال کے طور پر اُس وقت سونے کی قیمت فی دس گرام قریب 500 روپے تھی اور اب 25000 روپے سے زیادہ ہے، یعنی تقریباً 50 گنا تک افراط زر۔ اس لحاظ سے شعلے کی کمائی 15 كروڑ آج 750 کروڑ پار کرجاتی ہے۔ اسی طرح بات کھانے کی اشیاء کی کریں، آپ کو جان کر حیرت ہوگی کہ شعلے کے ٹکٹ اس وقت 5 سے 7 روپے تک میں بکے تھے، تب عام ریستوران میں ایک پلیٹ (ایک پلیٹ کھانے) کی قیمت 3 سے 5 روپے تھی، اب 150 سے 200۔ یہاں بھی تقریباً 50 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اس لحاظ سے بھی شعلے کی کمائی 750 کروڑ پار پہنچتی ہے۔
عامر خان کی فلم پی کے دیکھنے کے لیے محض چار کروڑ لوگ سنیما تک پہنچے جبکہ ایک اعداد و شمار کے مطابق شعلے قریب 7 کروڑ لوگوں نے سنیما میں جا کر دیکھا ہے۔ حال ہی میں جب جب یہ فلم 3 ڈی ورژن میں دوبارہ ریلیز ہوئی اس وقت بھی اس نے 12 کروڑ سے زیادہ کا کاروبار کیا۔ ذرائع کے مطابق شعلے نے پاکستان میں ریلیز کے پہلے ہفتے میں ہی 45 لاکھ روپے (تقریباً 28،12،140 بھارتی روپے) کی کمائی کی۔

ایک معروف برطانوی جریدے کی جانب سے کیے گئے حالیہ سروے میں بالی وڈ کی عظیم ترین فلموں کی فہرست میں ’’مغل اعظم ‘‘ کوپہلا مقام دیا گیا ہے، کے۔ آصف مرحوم کی ہدایت والی اِس فلم نے سروے میں اپنی قریبی دعویدار فلم ’’شعلے ‘‘کو شکست دی جسے دوسرا مقام ملا۔ اِس فہرست میں’’ دل والے دلہنیا لے جائیں گے ‘‘کو تیسرا جبکہ محبوب خان کی’’ مدر انڈیا‘‘ کو چوتھا مقام حاصل ہوا۔ راج کپور کی’’ آوارہ‘‘ کو 5 واں اور’’ دیوار‘‘ کو چھٹا مقام ملا۔ راج کمار ہیرانی کی فلم’’ 3 ایڈیٹس‘‘ 7 ویں مقام پر اور یش چوپڑا کی’’ کبھی کبھی‘‘ 8 ویں مقام پر ہے۔ فلم’’ انداز‘‘ کو 9 واں اور سورج برجاتیہ کی’’ میں نے پیار کیا‘‘ کو 10 واں مقام ملا۔ اپنی نوعیت کا یہ اولین سروے ووٹس‘ باکس آفس‘ مقامی حالات اور نقادوں کے دعوؤں کی بنیاد پر کیا گیا۔ ٹاپ 100میں شامل دیگر فلموں میں ’’لگان ‘‘11 ویں،’’کچھ کچھ ہوتا ہے‘‘ 14 ویں، ’’ہم آپ کے ہیں کون‘‘ 16 ویں ،’’ آرادھنا‘‘ 17 ویں،’’ زنجیر‘‘ 23 ویں،’’ شری 420‘‘ چوبیس ویں،’’ پیاسا‘‘ 21 ویں،’’ مسٹرااِنڈیا‘‘41 ویں،’’ دل چاہتا ہے‘‘ 46 ویں،’’ کرش‘‘ 48 ویں،’’ منا بھائی ایم بی بی ایس‘‘ 51 ویں،’’ امر اکبر انتھونی‘‘ 57 ویں،’’ قربانی‘‘ 67ویں‘ ’’راجا ہندوستانی‘‘ 70ویں‘ چاندنی 74ویں،’’ تیزاب‘‘ 82ویں اور’’ بیجو باورا‘‘ بھی پسندیدہ ترین فلموں میں شامل ہیں
باکس آفس اصطلاحات
حالیہ باکس آفس کلیکشن کے حاب سے سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلموں کی فہرست دیکھنے سے قبل یہ جان لیں کے موجود دور میں باکس آفس کلیکشن کی اصل آمدنی کس طرح ظاہر ہوتی ہے اور اسے جاننے کے لیے کیا کیا اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔

اصطلاح تشریح
تاریخ ریلیز : فلم کے پریمیئر کا دن، جب فلم پہلی بار تھیٹر میں لگتی ہے۔ ماضی میں جمعرات کا دن منتخب کیا جاتا تھا مگر اب عموماً جمعہ کے دن فلم ریلیز ہوتی ہے۔ البتہ کبھی کبھی کچھ مواقعوں مثلاً بیرونِ ممالک کے تھیٹروں میں ریلیز کے لیے جمعرات کا دن بھی استعمال کیا گیا ہے، لیکن اخباری اور دیگر ذ رائع ابلاغ میں تاریخ جمعہ کی ہی مانی جاتی ہے۔
رن ٹائم (مدّت ): کسی بھی فلم کے سینما میں چلنے کی مدت، جو مختلف ریاستوں اور ملکوں کے حساب سے مختلف ہوتی ہے۔ یہ مدت عموماً فلم کے تھیٹر میں لگنے سے لے کر اس فلم کے ہوم ویڈیو ورژن یا ڈی وی ڈی ریلیز کے درمیانی پر منحصر مدت ہے۔
نوع Genre : کسی بھی فلم کا مجموعی انداز، جس سے فلم کی پہچان ہو سکے، عموما کسی فلم کے لیے ایک سے زیادہ نوع بھی استعمال ہوتی ہیں، مثلاً ایکشن، کامیڈی، رومانٹک، ڈراما، ہارر، ایڈونچر، سسپنس، تھرلر وغیرہ۔۔۔۔
بجٹ: کسی بھی فلم کو تیار کرنے کی قیمت، اس میں فلم کے تیاری سے ریلیز تک پروڈکشن، پرنٹس اور اشتہارات شامل ہیں۔ اسے فلم کے فروخت کی قیمت نہیں سمجھا جائے۔
اسکرین: تھیٹروں کی تعداد، یعنی فلم ریلیز ہر کتنی تھیٹر اسکرین پر چلائی گئیں، کچھ فلموں بعض تھیٹروں میں ایک ہفتے یا دو ہفتوں دیر ی سے بھی ریلیز ہوتی ہیں۔ لیکن علاقہ یا شہر ایک ہونے کی صورت میں اسے ایک ہفتہ ہی مانا جاتا ہے۔
مجموعی رقم Gross یہ باکس آفس پر فلم ٹکٹس سے ملنے والی رقم کا مجموعی ہوتی ہے۔ ٹکٹ کی قیمتیں شہروں کے حساب سے مختلف بھی ہوسکتی ہیں۔
Nett Gross خالص مجموع یہ باکس آفس کی مجموعی رقم سے سرکاری تفریح ٹیکس ​​اور سروس ٹیکس کی کٹوٹی کے بعد بچنے والی رقم ہے، تفریخ ٹیکس ہر ریاست میں الگ ہوتا ہے، مثلاً مہاراشٹر میں 45 فیصد، دہلی میں 30 فیصد، گجرات میں 20فیصد، چندیگڑھ اور ہریانہ میں 50 فیصد، جبکہ بعض ریاستوں مثلاً جموں کشمیر، ہماچل پردیش، راجستھان (علاوہ گجرات)اور پنجاب (علاوہ چندی گڑھ و ہریانہ)میں ٹیکس نہیں ہوتا۔ بعض ریاستیں مقا می زبان کی فلموں پر ٹیکس نہیں لیتیں۔
ڈسٹریبیوٹر کا حصہ Distributer Share یہ ٹیکس کاٹنے کے بعد بچنے والی مجموعی رقم سے پروڈیوسر اور ڈسٹری بیوٹر کا حصہ نکالنے ک بعد کا تخمینہ ہوتا ہے۔
درست مجموعہ Adjusted Gross فلم کی ٹیکس کٹوٹی کے بعد حاصل ہونے وال رقم کے مجموعی کو دنوں اور قیمتوں کے لحاظ سے ترتیب دی جاتی ہے۔ مثال کے طور پر عموما یہ ہوتا ہے کہ بھارت کے تھیٹروں کے ٹکٹ کی قیمتیں مختلف وقتوں میں مختلف ہوتی ہیں مثلاً ہولی، دیوالی اور کرسمس کے دن ٹکٹ کی قیمتیں اور مانگ بڑھ جاتی ہیں، لہذا اس کا تخمینہ لگانے کے لیے ATP (ایوریج ٹکٹ پرائس) لاگو کیے جاتے ہیں۔ اور مختلف ریاستوں میں تفریحی ٹیکس کی رقم مختلف ہونے کی وجہ سے ایوریج ٹیکس (عموماً 30 فیصد ) لگایا جاتا۔ تاکہ بڑی تعطیل کے دنوں اور عام دنوں میں ریلیز ہونے والی دوسری فلموں کے درمیان میں کامیابی اور ناکامی کا موازنہ کیا جاسکے۔
فُٹ فالز : Footfalls فُٹ فالز یعنی قدموں کی آہٹ سے مراد فلم کی ریلیز، ٹکٹ اور تھیٹر کے اعداد و شمار کا نہایت باریک بینی سے حساب لگانا۔ اس کے لیے عملی طور پر ہر شہر کو مختلف سرکٹس میں تقسیم کیا جاتا ہے اور ہر سرکٹس کے اعداد وشمار دیکھے جاتے ہیں۔ اس طرح ہر شہر کے اعداد و شمار، پھر ہر ریاست کے اعداد و شمار جمع کرکے پورے بھارت کے اعداد و شمار ملتے ہیں۔ اس عمل میں فلم دیکھے جانے کی تعداد کا حساب لگا یا جاتا ہے۔
فیصلہ Verdict: یہ فلموں کی درجہ بندی ہے۔ جس میں فلموں کی آمدنی اور کارکردگی کے کحاظ سے اسے سپر ہٹ، ہٹ، فلاپ یا ایوریج کا درجہ دیا جاتا ہے۔
تمام وقت کی درجہ بندی تمام وقت کی درجہ بندی All Time Rank، فلم کی کمائی اور ہٹ فلاپ کے فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کی درجہ بندی کی جاتی ہے، مثلاً پی کے پہلی، بجرنگی بھائی جان دوسری اور باہوبلی تیسری سب سے کامیاب فلم ہے۔ پہلے آمدنی کی شرح 50 کروڑ روپے تھی، اب صرف 100 کروڑ سے اوپر کمائی والی فلموں کو درج بندی میں شامل کیا جاتا ہے۔
صارف کی ریٹنگ User Ratings: یہ درجہ بندی ایک گھریلو درجہ بندی، جسے ویب سائٹ کے ذریعے صارف درجہ بندی دیتا ہے۔ مثلاً فلم کے لیے وہ 10 میں سے کتنے نمبر یا پانچ اسٹار میں سے کتنے اسٹاز چنتا ہے۔ اس نظام میں صرف ایک شخص کو ایک درجہ بندی کی اجازت ہے۔
پہلا دن / ہفتہ / ہفتہ مجموعی اس سیکشن میں مجموعی رقم کو ریلیز کے سب سے پہلے تین دن اور پہلے سات دن کے حساب سے پرکھا جاتا ہے۔ یہ حساب علاقائی طور پر اور بیرون ممالک الگ الگ کیا جاتا ہے۔
نوٹ زیا دہ تر مجموعی کمائی کو اصل زبان میں ریلیز فلموں کے حساب سے ہی مانا جاتا ہے، اگر فلم بعد میں کسی اور زبان میں ڈب کی جاتا ہے تو موازنہ منصفانہ رہنے کے لیے اسے الگ شمار کیا جاتا ہے۔
سب سے زیادہ کمائی کرنے والی بھارتی فلموں کی فہرست
آج کل کسی فلم کی کامیابی کا معیار سینما گھروں میں زیادہ عرصے تک چلنے سے نہیں ہوتا کیونکہ موجودہ زمانے کی فلمیں سلور، گولڈن یا پلاٹینیم جوبلی کا جشن نہیں منا سکتیں۔ ہندی سینما میں اب کامیابی کا معیار کسی فلم سے کمائے جانے والا پیسہ ہے۔ سو کروڑ، دو سو کروڑ، تین سو کروٹ کلب ہندی فلم انڈسٹری میں ایک نیا رجحان ہے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں