مجربات ابن زہر اندلسی(حصہ دوم)

Spread the love

غذاؤں اور دواؤں کےحیرت انگیز افعال و خواص

ابن زہر کواندلسی اطباء میں ممتاز اور قابل فخر مقام حاصل ہے۔طبی دنیا میں یہ اپنی مشہور تصنیف ’’کتاب التیسیر‘ سے جانا جاتا ہے۔اس کتاب کی جامعیت اور افادیت اظہر من الشمش ہے۔ابن زہر مغربی دنیا کے مشوہر علمی و طبی خاندان میں بمقام شویلیہ (اسپین ) 2 109 میں پیدا ہوا۔ طب کی تعلیم اپنے والدابوالعلاسے حاصل کی۔طب کی مزید تعلیم قرطبہ میڈیکل کالج سے حاصل کی۔ابن زہر نے تصنیف و تالیف کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔تصانیف ابن زہر میں زیادہ تر کتابوں کا تعلق طب سے ہے۔جیسے:(1) کتاب الاقتصادفی اصلاح الانفس و الاجساد(2)کتاب الاغذیہ والاشربہ (3) کتاب التیسیر فی المداوۃ و التدبیر (4) کتاب الجامع فی الاشربہ و المعاجین (5) کتاب المختصر حیلۃ البرء لجالینوس (6) رسالہ فی تفضیل العسل علی السکر(7) دواء المسہل (8) رسالہ فی البرص و البہق (9)کتاب الزینۃ (10)مقالہ فی علل الکلی(11) کتاب التذکرہ (12) جامع اسرار الطب (13) کتاب التریاق
کتاب الاغذیہ ابن زہر کی ایک مشہور تالیف ہے۔ زیر نظر نسخہ اکسیبر اتبون غارتبا کے محقق ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔اسے سنٹرل کونسل فار ریسرچ ان یونانی میڈیسن ،دہلی نے 2009میں اس کا اردو ترجمہ شائع کیا ہے۔یہ کتاب مطبع المجلس الاعلیٰ للابحاث العلمیہ معہد التعاون مع العالم العربی ،مدیرید سے 1992 میں شائع ہوئی ہے۔یہ مضمون در اصل ابن زہر کی مذکورہ کتاب میں مذکور بعض مفید غذاؤںکے خواص اور اہم دواؤ ں کی مختلف تاثیرات پر مشتمل ہے۔سطور ذیل میںاغذیہ و ادویہ سے متعلق جن نکات کو بیان کیا گیا ہے ، معالجاتی نقطہ نظر سے نہایت اہم ہیں۔ اسی طرح اس مضمون میں ادویہ کے نوعیت اعمال، ادویہ کی جوہری خاصیت، مرکب القوی ادویہ ،تریاقی ادویہ اور غذاؤں و دواؤں کے مضرت اور ان کے مصلح سے متعلق اہم نکات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔امید کہ طلباء و اساتذہ کے لئے مفید ثابت ہوں گے۔
غذائیں اور ان کے خواص


٭اونٹنی کا دودھ معدہ و جگر کو قوی کرتا ہے۔
٭ بکری کا دودھ کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے کہ سل کے مریضوں کو بھی فربہ کرتا ہے۔
٭مچھلیا ں منی اور دودھ بڑھاتی ہیں ۔
٭اترج خوشبودار ہونے کی وجہ سے روح کو تقویت پہونچاتا ہے ۔
٭ پستہ کا روغن بیرونی طور سے معدہ و جگر کو تقویت دینے والی ادویہ مین سب سے مفید ہے۔
٭ بیگن دوائی طور پر آواز صاف کرنے میں کرنب سے زیادہ مفید ہے۔
٭ککڑی کو خواہ کچا کھایا جائے یا پکا کر اعلیٰ درجہ کی مدر بول ہے۔
٭ مولی قصبۃ الریہ کی خشونت دور کرتی ہے اور آواز صاف کرتی ہے۔
٭ شربت تمرہندی میں موجود قوت تقطیع اس میں موجود حموضت کے تناسب سے ہوتی ہے ۔
٭ شربت افسنتین کی قوت تجفیف کی وجہ سے اس کا کڑواپن اس حد تک پہونچ جاتا ہے کہ دیدان شکم کو ہلاک کر دیتا ہے۔
٭ وہ مشروبات جو مری، معدہ اور مثانہ کے لئے مخصوص ہیں ان میں شہد کی نسبت شکر کا استعمال بہتر ہے۔
٭ خس اور گاؤزباں کے سوا تمام سبزیاں سوداوی مزاج والوں کے لئے ردی ہیں ۔
٭تمام حلوے حار ہوتے ہیں اور فالج کے مریضوں اور بوڑھے لوگوں کے لئے مناسب ہیں۔
٭خرگوش کے گوشت کا ایک بڑا وصف یہ ہے کہ یہ پتھری کو ریزہ ریزہ کرتا ہے۔خاص طور سے اس کا سر جب اس کو سفید تفایا میں پکایا گیا ہو۔نیز اس کا سر رعشہ کے مریض کو مفید ہے۔
٭ ناشپاتی کے بارے میں لکھا ہے کہ اس کے جوہر میں قوت قابضہ اور خوشبو کی موجودگی کی وجہ سے اس میں معدہ کوتقویت پہونچانے کی خاصیت پیدا ہوجاتی ہے۔
٭ مویز جگر کوتازہ رکھتا ہے اور اس کو اپنی خاصیت سے نفع پہونچاتا ہے۔نیز یہ اپنے اندر موجود خاصیت اور اپنے مزاج کی وجہ سے معدہ کو تقویت بخشتا ہے۔
٭ سیب سونگھنے سے قلب و دماغ کو تقویت حاصل ہوتی ہے۔
٭ انارین کی ایک عمدہ خاصیت یہ ہے کہ جب ان کے ساتھ روٹی کھائی جاتی ہے تو یہ اپنی عجیب و غریب خصوصیت کی بنا پر معدہ میں اس کو فاسد ہونے سے بچا لیتے ہیں۔یہ خصوصیت اللہ تعالیٰ نے ان دونوں میں رکھی ہے۔
٭ کرنب حیرت انگیز طور پر آواز صاف کرتا ہے۔
٭ چقندر میں بورقی کیفیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے جلا پیدا کرتا ہے۔
٭ شلجم اپنے جوہر میں موجو د ایک وصف کی وجہ سے نگاہ کو قوی اور تیز کرتا ہے۔
٭ خربوزہ کا چھلکابطور شربت استعمال کئے جانے پر حیرت انگیز طور پر پتھری کو ریزہ ریزہ کر دیتا ہے۔
٭ حرشف فضلات کو بذریعہ بول بدن سے خارج کرنا اس کی خاصیت ہے۔
شربت اسطوخودوس:اس کی ایک خاصیت یہ ہے کہ یہ امتلاء کو ختم کرتا ہے کیونکہ یہ اعضاء کو تقویت پہونچاتا ہے اور قوت قوی ہوجانے پر امتلاء پر غالب آجاتی ہے جتنا وہ پہلے غالب نہیں ہوتی تھی۔
شربتوں میں بدن کے اخلاط کو تعفن سے بچانے کی خاصیت پائی جاتی ہے۔
شربت نعناع: روح کو تقویت پہونچاتا ہے۔ اسی طرح شربت ریحان بھی روح کو تقویت پہونچاتا ہے ،اس سے اسکے فضلات کو نچوڑ دیتا ہے۔ شربت صندل خوشبودار ہونے کی وجہ سے روح کو تقویت بخشتے ہیں۔وبائی امراض کے زمانوں میں اس کا استعمال مفید ہے شربت رازیانہ بھی خوشبودار ہونے کی وجہ سے مقوی روح ہے۔شربت گاؤزباں بھی مفرح ہے اور غم دور کرتا ہے۔شربت مفرح روح کوتقویت بخشتا ہے اس کی کثافت اور غن کو دور کرتا ہے۔
محسن لون ادویہ
٭ شفتالوکے تخم کا مغز چہرہ کو چمکاتا اور جاذب نظر بناتا ہے۔
٭ تخم اترج کا بطور ضماد استعمال کر نے سے جلد صاف ہوتی ہے اور رنگت کو نکھار پیداہوتاہے۔
٭روغن بادام چہرے پر لگانے سے رنگت نکھارتا ہے۔بدن پر لگائے جانے سے مرطوب اور حسین بناتا ہے۔اور جلد کی یبوست کو دور کرتا ہے۔
تریاقی ادویہ
٭ اترج زہروں کے لئے معمولی تریاق کا کام بھی کرتا ہے ۔
٭ لہسن سموم کا تریاق ہے ۔
٭ جس شخص نے خراب پانی پیا ہو اس کے بعد اگر وہ پیاز کھاتا ہے تو اس پانی کی مضرت سے محفوظ رہتا ہے۔
٭ لیموں زہروں کے لئے تریاق کا کام کرتا ہے۔
٭ افعی سانپ کی ایک خاصیت یہ ہیکہ یہ جذام میں نفع بخش ہے۔اس کی تحقیق وتصدیق جالینوس نے کی ہے۔

مرکب القوی ادویہ


٭ ناشپاتی کھانے سے پہلے اگر کھائی جائے تو اسہال کو روکتی ہے اور اگر کھانے کے بعد کھائی جائے تو طبیعت میں تلئین پیدا کرتی ہے اور پیاس کو قطع کرتی ہے۔
٭ زعرور غذا کے طور پر لینے سے شدید قبض پیدا کرتا ہے اور غذا لینے کے بعد کھایا جائے تو اسہا ل لاتا ہے۔کیونکہ اس میں قوت مسہلہ موجود ہوتی ہے۔
٭ بیگن میں دو قوتیں پائی جاتی ہیں ۔اپنی کڑواہٹ کی وجہ سے یہ اسہال لاتا ہے اور قوت قابضہ کی وجہ سے قبض پیدا کرتا ہے۔ اپنی ان دونوں قوتوں سے اللہ کے حکم سے فائدہ پہونچاتا ہے۔
بعض ادویہ کے مضر اثرات
٭ سرکہ و دماغ کو نقصان پہونچانے میں خصوصیت حاصل ہے۔
٭ انجیر معدہ کو لئے نقصان دہ ہے نیز یہ بھی لکھا ہے کہ اعضاء میں ہضم ہوتے وقت اس سے ایک قسم کا فضل نکلتا ہے جس سے جوئیں پیدا ہوتی ہیں۔
٭ انگور ہضم کے وقت ریاح بھی پیدا کرتا ہے اور پھر ریاح سے پیٹ اور عضلات میں ردی اور تکلیف دہ درد پیدا ہوتا ہے۔
٭ سیب کے جو نقائص بیان کئے اسے پڑھ کر بڑا تعجب ہوتا ہے۔لکھتے ہیں کہ میں تو یہ کہتا ہوں کہ میوہ میں جتنی بھی چیزیں کھائی جاتی ہیں ان میں یہ سب سے نقصان دہ ہے۔یہ عروق میں ریاح اور عضلات میں درد پیدا کرتا ہے اور کبھی کبھی سل کا سبب بھی بن جاتا ہے ۔ہضم کے بعد اس سے بننے والا خون لطیف ریاح کی شکل میں ہمیشہ تحلیل ہوتا رہتا ہے جو عروق میںہوتی ہیں۔اور وہ ریاح اس سے محفوظ نہیں ہوتیں کہ تیزی سے چلیں۔چنانچہ جب وہ خون میں شامل ہوجاتی ہیں تو شاذ و نادر ہی ایسا ہوتا ہے کہ اس سے سل نہ ہو ،ورنہ لازمی طور پر سل ہوجاتی ہے۔
٭ اخروٹ کے مضرات میں بہت اہم بات لکھی ہے کہ اخروٹ کے زیادہ کھانے سے توقف فی الکلام کی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔
٭ شفتالو کے کھانے سے شیشہ کے مانند ردی خلط پیدا ہوتی ہے۔اس کو کھا نے کے بعد عام طور سے طویل مہلک بخار لاحق ہوجاتے ہیں۔
٭ آلوبالو گدلا خون پیدا کرتا ہے اور کبھی کبھی ریاح اور درد بھی پیدا کرتا ہے۔
٭ کھجور جگر میں سدہ اور سر میں ورم پیدا کرتی ہے۔ کھجور جتنی بڑی، لیسدار اور عمدہ ہوگی اس کا نقصان اتنا ہی بڑھ جائے گا۔
کدو اچھی طرح پکائے بغیر بعض اوقات مری اور معدہ میں درد پیدا کرتا ہے ۔ایسی حالت میں کوئی اسے زہر کانام دے تو جھوٹا نہیں کہلائے گا۔ اس کے استعمال کا بہتر طریقہ ہے کہ ترش سرکہ کے ساتھ استعمال کیا جائے۔
٭ لہسن سر اور دیگر حواس کو بہت ہی نقصان پہونچاتا ہے۔
٭شہد بوڑھے لوگوں کے لئے بہتر نہیں ہے۔
٭ شربت ایرسا میں معدہ کو کمزور کر نے کی صلاحیت پائی جاتی ہے کیونکہ اس میں نہ تو قوت قابضہ ہوتی ہے اور نہ ہی قوت خوشبو۔


Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں