عاقب جاوید نے قومی ٹیم کے لیے فٹنس کلچر پر سوال اٹھا دیے

Spread the love

سابق ٹیسٹ کرکٹرعاقب جاوید نے قومی ٹیم کے لیے فٹنس کلچر پر سوال اٹھا کر اس سے مضحکہ خیز قرا ر دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی ٹیلینٹ کو فٹنس کے نام پر ضائِع کیا جارہا ہے۔عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ اگر تیزدوڑنا ہی اہم ہوتا تو انضمام الحق کبھی کھیل نہ پاتے اور ویسٹ انڈیز کے کرس گیل کی صلاحیتوں کو کوئی دیکھ نہ پاتا، رانا ٹنگا کی مثال سب کے سامنے ہے، ان سب نے اپنی تکنیک اور مہارت کے بل بوتے پر نام کمایا، ہمیں اس چیز کو سمجھنا ہوگا کہ کرکٹ فٹ بال نہیں جس میں صرف تیز دوڑنے والے کی اہمیت ہوتی ہے تاہم فٹنس کی اہمیت اپنی جگہ ایک حد تک ضروری ہے لیکن اس کو بنیاد بناکر بہترین تکنیک اور ٹیلنٹ رکھنے والے کرکٹرز کو پاکستان ٹیم سے دور نہیں کرنا چاہیے۔سابق ٹیسٹ کرکٹر نے کہا کہ بورڈ مکی آرتھر، گرانٹ فلاور سمیت تمام غیر ملکی اسٹاف کو اس بات کا پابند کرے کہ وہ ورلڈکپ سے پہلے اپنے گھروں میں جانے کے بجائے یہاں رہ کرکھلاڑیوں کو ورلڈکپ کی تیاری کرائیں، کوچز بدلنے حل نہیں، کسی کے پاس جادو کی چھڑی نہیں کہ وہ گھمائے گا اور ہماری ٹیم ٹاپ پر پہنچ جائے گی، اچھے نتائج کے لیے بہترین پلاننگ کرنا پڑتی ہے، مکی آرتھر اینڈ کمپنی کو بھی ابھی سے 30 کرکٹرز کا پول تیارکرکے ورلڈکپ کیمپ کی پلاننگ کرلینی چاہیے اور چھ ماہ ان کو تیارکریں۔عاقب جاوید نے کہا کہ ماضی میں ایسا ہی ہوتا آیا ہے کہ غیرملکی کوچز چھٹیوں پر چلے جاتے ہیں کچھ پی ایس ایل میں مصروف ہوجائیں گے اور پھر ایسا ہوگا کہ ورلڈکپ سے چند روز پہلے کیمپ لگیگا، اور پھر ساری توجہ اس بات پر ہوتی ہے کہ کون تیز بھاگ سکتا ہے، پاکستان کرکٹ ٹیم میں اس وقت ہی بہتری آئے گی جب ہم اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے پرفارمرز کو عزت دیں گے۔پاکستانی ٹیم نے جب بھی جنوبی افریقہ کا دورہ کیا، کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے،ا س بار جو چیز سامنے آئی ہے وہ ٹیم میں زیادہ رفتار والے بولرز کا نہ ہونا ہے، اس وقت ہمارے پاس 130 سے 135 تک کی اسپیڈ والے بولرز ہیں، افریقا کے سارے بولرزسے ان کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا، وہ سب 140 سے اوپر گیند کررہے ہیں۔ انہوں نے پلاننگ کے ساتھ شارٹ پچز کرکے پاکستانی بلے بازوں کو آوٹ کیا، ہمارے عثمان شنواری بگ بیش میں 150 تک گیند کررہے ہیں، ان کوٹیسٹ سے باہر رکھا، وہاب ریاض دوسرا ایسا بولر ہے جو وہاں پر ہونا چاہیے تھا، پہلی دفعہ دیکھا کہ بغیر تیاری کے ہم جنوبی افریقہ گئے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے ساتھ ٹیسٹ سیریز کھیلی، ون ڈے سیریز میں یقین ہے کہ ہماری ٹیم اچھا کھیلے گی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں