سمندر کے بیچوں بیچ قلعہ جنجیرہ اور مروڈ مہاراشٹرا ممبئی کے متعلق ایک انتہائی معلوماتی اور دلچسپ تحریر جو تاریخ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لیے ایک قمیتی ذخیرہ ہے

Spread the love

تحریر و تحقیق

حکیم محمد شیراز، سائنسداں و لکچرر شعبہ معالجات آرآرآئی یو ایم کشمیر یونیورسٹی سری نگر جموں و کشمیر

صاحب مضمون حکیم محمد شیراز

ادھر کئی دنوں سے تھکا دینے والی آئی ٹی ٹریننگ نے ہم لوگوں کو مضمحل کر دیا تھا اور دل زبان حال سے کہہ رہا تھا:
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یارب
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیاہو
شورش سے بھاگتا ہوں دل ڈھونڈتا ہے میرا
ایسا سکوت جس پر تقدیر بھی فدا ہو

چنانچہ ہم لوگ کسی پر سکون نیز قدرتی حسن سے مالا مال علاقے کی تلاش میں لگ گئے جو اللہ بزگ و بر تر کے جمال و کمال کا بہترین مظہر ہو۔بالآخر مشورہ سے طے کیا کہ ہفتہ اور اتوار کی تعطیل میںکسی ساحلی علاقہ پر چلتے ہیں۔یوں تو راقم کو ہند کے طول و عرض کے ان گنت سیاحتی مقامات کی صحرانوردی و بادیہ پیمائی کی سعادت حاصل ہے۔تاہم اس سفر کی بات ہی کچھ اورتھی۔مقیمین خانہ کو کیسے بتایا جائے کہ صحرانوردی ودشت پیمائی کا لطف کیا ہے؟بقول شخصی
کیوں تعجب ہے مری صحرانوردی پر تجھےیہ تگہ پوئے دما دم زندگی کی ہے دلیلاے رہین خانہ تو نے وہ سماں دیکھا نہیںگونجتی ہے جب فضائے دشت میں بانگ رحیلالحمد للہ !

ریاست مہاراشٹر کے ساحلی علاقے علی باغ۔ مروڈ جنجیرہ۔، کاشد بیچ روانہ ہو گئے۔ہمارا قافلہ حسب ذیل افراد پر مشتمل تھا۔۱۔حکیم عبد الحسیب انصاری صاحب ( ایسو سی ایٹ پروفیسرشعبہ، تحفظی و سماجی طب، این آئی یو ایم، بنگلور)
۲۔حکیم وسیم احمد صاحب(لکچرر شعبہ کلیات، این آئی یو ایم ، بنگلور)
۳۔حکیم ذاکرصاحب( سائنسداں و لکچرر شعبہ علم الادویہ، سی آرآئی حیدرآباد)
۴۔راقم السطور۔
پونہ سے علی باغ اور پھر مروڈ جنجیرہ تک’ پرپل‘ کی بس کے ذریعے پہنچتے پہنچتے ناکوں چنے چبانے پڑگئے۔ سڑکوں کے بیچ گڑھے نہیں ، بلکہ لگ رہا تھا کہ گڑھوں سے پار کہیں کہیں کچھ حصہ ایسا ہے جس کو دیکھ کر سڑک کا گمان کرنے کو دل چاہتا تھا۔ ’روہا ‘شہر پار کرتے ہوئے ناک میں دم آگیا۔جہاں تک بمبئی۔بنگلور ہائی وے ہے وہاں تک ایسا محسوس ہوا گویا کہ مچھلی پانی میں ہے اس کے بعد ایسا محسوس ہوا گویا کہ مچھلی پیٹ کی طرف عازم سفر ہے اور اسے سخت گرمی کا سامنا بھی ہے۔علی باغ اور مروڈ چھوٹے سے قصبے ہیں۔جہاں اہل ایماں بکثرت بسے ہوئے ہیں۔جا بجا ساحل سے لگی ہوئی مسجدیں ہیں جس کی وجہ سے یہاں کی فضا تکبیر سے معمور رہتی ہے۔

ساحل سمندر پر غروب آفتاب کا خوبصورت منطر

پہلی منزل قلعہ قلابہ

ساحل سمندر پر واقع قلابہ کا قلعہ جسے کبھی کبھی’ ’علی باغ کا قلعہ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جنوبی بمبئی سے ۳۵؍ کلو میٹر دور ہے۔ یہ ہندوستان میں کسی وقت فوجی چھاؤنی ہوا کرتا تھا۔ ممکن ہے کسی مسلم حکمراں نے اسے بنوایا ہو کیو ں کی اصل بانی کے شواہد ہنوز گم ہیں۔ یہ قلعہ بعدمیں شیواجی کے قبضے میں رہا،بعد ازاں یہ مراٹھا سردار کنہوجی، پرتگال، سدھی اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے قبضے میں رہا۔ یہ قلعہ، ایک جزیرہ نما چٹان پر بنایا گیا ہے۔ یہ طو ل میں 900فٹ اور عرض میں 350 فٹ ہے۔ اس قلعہ میں 17 فصیلیں اور دو دروازے ہیں۔ کسی زمانے میں قلعہ کے احاطے میں کئی عمارتیں، محلات، خزانے، اصطبل اور باغات تھے۔ جو بعد میں جنگوں کے دوران آگ میں پھونک دیے گئے اور کچھ حصے امتداد زمانہ اور حکام کی لاپرواہی کا شکار ہوئے۔یہ قلعہ ،بمبئی سے جنجیرہ تک کی مراٹھا سلطنت کا دارالخلافہ رہا ہے۔ آج یہاں کچھ منادراورقبریں ہیں۔ایک قبر محمد نامی بزرگ کی بھی ہے۔

قلعہ کا عقبی دروازہ جس کو دریائی دروازہ کہا جاتا ہے

قلعہ کے احاطہ میں مٹر گشتی کے بعد ہوا خوری کے لیے ہم لوگ ساحل سمندر کی جانب نکل گئے۔ساحل سمندر پر پہنچتے ہی سفر کی ساری جھنجھلاہٹ ختم ہو گئی۔سمندر کی حسین لہروںسے کچھ دیر تک لطف اندوز ہوتے رہے اور اللہ کی قدرت میں غور و فکر کرتے رہے۔ بڑے دنوں بعدہمارے سامنے ایک بحر بے کراں تھا۔ جس کی موجوں میں کسی قدراضطراب تھا۔ ہم سوچنے لگے کہ اس کائنات میں ایک ہی ہستی ہے جو ہر ایک دو ثانیہ بعد اٹھنے والی ان لہروں کی تعداد کو جانتی ہے۔ نیز سمندر کے قطروں کی تعداد کو جانتی ہے۔وہ ہستی و ذات صرف اللہ کی ہے۔ بے شک اللہ بہت بڑا ہے۔

پھر اگلی منزل کی جانب روانہ ہو گئے۔ نگاؤں بیچ۔علی باغ:یہ بحر عرب کے ساحلوں میں سے ایک ساحل ہے جو علی باغ شہر سے ۹؍ کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے۔ یہ ساحل تقریباً ۳؍ کلو میٹر پر محیط ہے۔صفائی ستھرائی اور پانی سے متعلق مختلف قسم کے کھیلوں کی وجہ سے اس ساحل کی شہرت ہے۔ہم لوگ چونکہ شام کے وقت پہنچے تھے اس لئے ساحل سمندر کے غروب آفتاب کے منظر سے بھی لطف اندوز ہونے کا موقع ملا۔ ساحل کے کنارے ہی مغرب کی نماز ادا کی جس کا اپنا ہی ایک مخصوص مزہ تھا، سمندری لہروں کی حرکت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی شورش میں عجیب سا سکوت وسکون پوشیدہ تھا۔ تھکے ہوئے مسافر تھوڑی دیر کے لئے انھیں لہروں سے پیدا ہونے والی موسیقی سے محظوظ ہوتے رہے۔ پھر اپنی جائے قیام پر لوٹ آئے۔ دوسرے دن کا سفر مروڈ جنجیرہ کے قلعے کی طرف تھا۔ مروڈ جنجیرہ:لفاظ’’مروڈ‘‘ اور’’ جنجیرہ‘‘ کی لغوی تحقیق :جنجیرہ، عربی لفظ’’ جزیرہ‘‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کے معنی سمندر کے بیچوں بیچ خشکی کے ٹکڑے کے ہیں۔ ’’مروڈ‘‘ کوکنی لفظ ہے، جس کے معنی بھی جزیرہ کے ہوتے ہیں۔ غرض ’’مروڈ جنجیرہ‘‘ عربی اور کوکنی الفاظ کا مرکب ہے۔

مروڈ جنجیرہ ، مہاراشٹر کے ضلع رائے گڑھ میں بحر عرب کے ایک جزیرہ پر واقع قلعہ کا نام ہے۔ راجہ پوری نامی بستی سے بادبانی کشتیوںکے ذریعے قلعہ تک پہنچا جاتا ہے۔ جس سے سفر کرنے کا اپنا ایک جداگانہ لطف ہے۔ پرانے سفینے جو ہوا کے زور پر چلتے ہیں، اب بہت کم جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں، البتہ یہاں دیکھنے میں مل جاتے ہیں۔ ہم لوگوں نے’’ رحمانی‘ ‘ نامی بادبانی کشتی سے سفر کیا، مزمل بھائی جس کے روح رواں بلکہ ناخدا تھے۔ مزمل بھائی اور گروپ، جس مشقت سے کشتی کو قلعہ کی جانب حرکت دے رہے تھے اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ واقعی روزی اس طرح حلال کی جاتی ہے۔

قلعہ کے اندر کا آدمی تو قلعہ کے روشن دانوں سے باہر کے مناظر اور خطرات سے باخبر رہ سکتا ہے نیز دیکھ سکتا ہے مگر قلعہ کے باہر کا آدمی ، قلعے کے اندر موجود لوگوںکو نہیں دیکھ سکتا۔

قلعہ باہر سے بحیرہ روم سے متصل قیصرکے محلات کا منظر پیش کرتا ہے۔ قلعہ اس طرح بنایا گیا ہے کہ دور تک یہ مسافر کو اپنے داخالی دروازے کی اطلاع نہیں دیتا۔ کچھ 20 فٹ کے فاصلے سے معلوم ہوتا ہے کہ داخلی دروازہ کہاں ہے، قلعہ میں ایک اور چھوٹا دروازہ ہے جو ہنگامی حالات میںقلعہ سے باہر جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جس کا نام ’’دریا دروازہ‘‘ ہے۔اس قلعے کو اس مخصوص طریقہ پر بنایا گیا ہے کہ قلعہ کے اندر کا آدمی تو قلعہ کے روشن دانوں سے باہر کے مناظر اور خطرات سے باخبر رہ سکتا ہے نیز دیکھ سکتا ہے مگر قلعہ کے باہر کا آدمی ، قلعے کے اندر موجود لوگوںکو نہیں دیکھ سکتا۔شاید یہی وجہ ہے کہ یہ قلعہ نا قابل تسخیر رہا ہوگا۔ قلعے کے داخلی دروازے کی تعمیر میں جو لکڑیاں استعمال کی گئی ہیں وہ برما سے لائی گئی تھیں۔ نیز صدر دروازے کے اوپر سلطان صدیق جوہر کی سلطنت کا نشان(لوگو) ہے۔ جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ ایک شیر ہے اس نے بہت سے ہاتھیوں کو اپنے پنجوں سے پکڑاہوا ہے۔ جس کی عکس بندی میں راقم نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا۔

سلطان صدیق جوہر کی سلطنت کا نشان

گیارھویں صدی کی شروعات میں، (آج سے ساڑھے نو سو سال پہلے) حبشہ( افریقہ) کے بادشاہ، سلطان صدیق جوہر نے اس قلعہ کی داغ بیل ڈالی۔ قلعہ بنانے سے پہلے یہ اطمینان کر لیا گیا کہ اس قلعہ میں میٹھے پانی کا انتظام ہے یا نہیں۔ پھر قلعہ کے باندھ کام شروع کیا گیا۔ یہ بھی عجیب اللہ کی قدرت ومصلحت ہے کہ سمندر کے بیچوں بیچ اس قلعے میں میٹھے پانی کے دو تالاب ہیں جو ساٹھ فٹ گہرے ہیں۔ اتنے بڑے کہ اس میں کشتیاں چل سکتی ہیں۔ جنجیرہ کے قلعہ پر سدھیوں نے سالوں حکومت کی۔ جن میں سدیھی عنبر، سدھی ہلال، یحی ٰ صالح اور سدھی یعقوب وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ پرتگال، انگریز، مراٹھا وغیرہ اس قلعہ کو فتح کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم سدھی بادشاہوں نے اورنگ زیب کے ساتھ بذات خود اتحاد کر رکھا تھا۔ اورنگ زیب ؒ کے دور میں سدھی یعقوب کو چار سو روپے وظیفہ ملا کرتا تھا۔ 1947 کے بعد اس قلعہ کو حکومت ہند کی ملکیت قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے تک یہ اہل سدھی کی ہی ملکیت تھا۔ قلعے کے اندر تین مسجدیں ہیںجہاں اب کسی قسم کی عبادت نہیں ہوتی سرکاری طور پر ان کو مقفل کر دیا گیا ہے۔


ہندوستان میں دولت آباد اور جنجیرہ کے قلعوں کو ناقابل تسخیر قرار دیا جاتا ہے

قلعہ کے اندر ہزاروں نفوس بشمول اہل ایماں، 1972تک آبادتھے۔ ۔بعد ازاں نا مساعد حالات کے سبب وہ قلعہ سے نکل کر بستیوں میں آگئے۔ تاہم ان کے مکانات کے باقیات آج بھی وہاں موجود ہیں۔ قلعے کے دربار کی عمارت جو کسی زمانے میں سات منزلہ ہوا کرتی تھی وہ اب صرف ساڑھے تین منزلہ بچی ہوئی ہے۔ قلعہ سے قریبی بستی تک اسی زمانے میں ایک سرنگ بنائی گئی تھی جو فرش سمندر کے بھی نیچے سے گزرتی ہوئی بستی میں نکلتی تھی۔ تاہم 1972 کے بعد حکومت نے اسے بند کر دیا۔ا س قلعہ کی تعمیر میں جو مادہ استعمال کیا گیا ہے و ہ پگھلا ہوا شیشہ، گڑ اور چونا پر مشتمل ہے۔ اس مادے کی مضبوطی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن پتھروں کو جوڑنے کے لئے اس مادے کا ستعمال کیا گیا تھا ان پتھروں میں تو سوراخ پڑ گیا مگر یہ مادہ آج ساڑھے نو سو سال بعد بھی اپنی جگہ پر قائم و دائم ہے۔ ہندوستان کے دو قلعے جو نا قابل تسخیر قرار دیے ہیں ان میں ایک تو دولت آباد کا قلعہ ہے دوسرا مروڈ جنجیرہ کا یہ قلعہ ہے۔

شیواجی نے کوکن کے بیشتر قلعے فتح کر لیے تھے مگر اس قلعہ کو فتح نہ کر سکا۔تاہم اس قلعہ سے تھوڑے فاصلے پر سنبھا جی (شیوا جی کے بھائی) نے ایک اور چھوٹا قلعہ بنام ’’پدما درگ‘‘ تعمیر کیا ہوا ہے۔ جو ’’اسد ‘‘ کے قریب ’’اسید‘‘ کا منظر پیش کرتا ہے۔ اس قلعہ کی دیواریں چالیس فٹ بلند ہیں۔ اس قلعہ میں 26 دائرہ نما فصیلیں ہیں۔ جہاں قلعے کی حفاظت کے لیے جا بجا توپیں نصب کی گئی ہیں۔ دور سلطنت میں اس میں 572توپیں تھیں اب ان کی تعداد کم ہے۔ ان میں بعض توپیں ٹنوں اور منوں بھاری ہیں جو دور تک گولوں کی نشا نے بازی کی وجہ سے مشہور تھیں نیز دشمنوں کے جتھے میں دہشت پیدا کرنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ جن میں سے سب سے بھاری توپ جو ۲۲ٹن وزنی ہے، جس کا نام ’’کلال بنگاڈی‘‘ ہے ،کا متبادل صرف ملک میدان بیجا پور میں ہے، جسے دیکھنے کی سعادت مسافر کو 2012 میں نصیب ہو چکی ہے۔

بہر کیف ہم لوگ قلعہ کی بالکل بلند و بالا جگہ پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے جہاں سے سلطنت کا پرچم لہرایا جاتا تھا اور اب حکومت ہند کا پرچم لہرایا جاتا ہے اور جہاں سے چہار جانب طرف سمندر ہی سمندر نظر آرہا تھا۔ غرض تصور کی دنیا میں کچھ دیر کے لیے ایسا لگا کہ ہم نے قلعہ مسخر کر لیا ہے، (وہ کام جو بڑی بڑی سلطنتیں نہ کر سکیں ہم نے کر دکھایا) جن لوگوں نے آج تک یہ منظر نہیں دیکھا اور نہ ہی اس لمحے لطف اندوز ہوئے ہیں انھیں الفاظ میںاس لمحہ کا لطف سمجھانا ممکن نہیں ہے۔ مرج البحرین یلتقیان:ایک عجیب چیز جس کا تذکرہ قرآن میں سنا تھا یا تفسیر کی کتابوں میں پڑھا تھا، یا تصاویر میں دیکھا تھا اس سے چشم ظاہر نیز چشم بینا دونوں کی ضیا سے دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ یہ کہ قلعہ کی اونچائی سے دو سمندر آپس میں ملتے ہوئے نظر آئے۔ بنا بریں دونوں سمندروں کا پانی نیز اس کا رنگ ایک دوسرے سے جدا تھا۔اللہ کی قدرت کا یہ نظارہ دیکھ کر زبان پر بے اختیار سورۂ رحمٰن کی آیات آنے لگیں۔

دو پانیوں کے ملاپ کا خوبصورت منظر

شہر سے دور پہاڑ کی چوٹی پر ایک خوبصورت عید گاہ بھی ہے جہاں سے سارے شہر کا نظارہ کیا جا سکتا

بقول شخصی ؎آنکھ والے ترے جلووں کا تماشہ دیکھیںبے شک آنکھیں دیکھنے والی ہوں تو سمندروں، پہاڑوں، مرغزاروں اور سبزہ زاروں میں اللہ کے جلوے نظر آتے ہیں۔جن کو دیکھ کر اللہ کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔جیسا کہ خود ارشاد ربانی ہے:(سورۃ لقمان ۔آیۃ 27)ترجمہ:اگر ساری دنیا کے درخت قلم بنا دیے جائیں اور ساتوں سمندروں کی سیاہی بنا دی جائے۔ (اور اللہ کی تعریف لکھنا شروع کی جائے تو قلم ٹوٹ جائے گی، سیاہی ختم ہو جائے گی) مگر اللہ کی تعریف ختم نہیں ہو گی۔ بے شک اللہ زبردست، حکمت والا ہے۔

شہر سے دور پہاڑ کی چوٹی پر ایک خوبصورت عید گاہ بھی ہے جہاں سے سارے شہر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ قلعہ کے اندر نیزشہر سے چند کلو میٹر کی دوری پر عالیشان مزارات بھی ہیں۔ جن کی تاریخ اللہ کے سواکوئی نہیں جانتا۔یہ آثار بھی اب کسمپرسی کی حالت میں ہیں۔ بنانے والو ںنے سوچا ہوگا رہتی دنیا تک رہیں گے۔

ہماری اگلی جائے سیاحت تھی’’ کاشد بیچ‘‘۔ کاشد بیچ مروڈ جنجیرہ سے آٹھ کلومیٹر کی دوری پر ہے۔ کاشد بیچ پہنچتے ہی ایک عجیب سا سکون محسوس ہوتا ہے۔ کیوں کہ یہاں بھیڑ بھاڑ کم ہے۔ یہاں نہانے کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ صاف ستھرے ساحل پر گھوڑے اور اونٹ کی سواری کا انتظام ہے۔ پانی سے متعلق کھیل اور رسی سے بنے ہوئے جھولوں پر جھولا جا سکتا ہے۔ لہروں کا شور، سمندر کا جوار بھاٹا ایک عجیب سماں پیش کرتا ہے۔ لہریں اٹھ اٹھ کر قدموں کے نشان مٹا دیتی ہیں۔ تو لگتا ہے کہ ہم دنیا میں ان قدموں کے نشانات کی طرح ہیں، نہ جانے کب مٹ جائیں۔

راکھ ہوں پھول ہوں یا ریت پہ قدموں کے نشان
آپ کو حق ہے مجھے جو بھی جی چاہے کہہ لیں


جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے نیز ماضی کے واقعات سے سبق نہیں لیتی وہ صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی ہے۔

رات کو سمندر کی لہریں جب غصہ دکھانے کے بعد صبح کے وقت پیچھے ہٹ جاتی ہیں تو سمجھ میں نہیں آتا کہ اتنا پانی کہاں غائب ہو جاتا ہے۔ پھر بے شمار پرندے اپنی روزی تلاش کرنے وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ بنا بر ایں اللہ تعالیٰ اپنی ہر مخلوق کو روزی پہنچاتا ہے۔اللہ بہت بڑا ہے۔ ساحل سمندر پر بے شمار قسم کی بحری ادویہ اور اغذیہ کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملا۔ یہ طب یونانی کا تاریک پہلو ہے کہ اطبا ئے جدید نے ادویہ بحریہ کی تجویز ترک کر دی ہے جو کہ ایک محرومی ہے۔ اس لیے کے سمندر کے اندر بھی ایک بڑی دنیا آباد ہے۔ جس میں بے شمار خزانے ہیں اور یہ انسان ہی کے فائدے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ چنانچہ ارشاد باری ہے:(سورۃ النحل:14)(ترجمہ:اور وہی ہے جس نے سمندر کو مسخر بنایا تاکہ اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اور اس میں سے زیورات نکالو جسے تم پہنتے ہواور تو کشتیوں کو دیکھتا ہے کہ پانی کو چیرتی ہوئی چلی جا رہی ہے اور تاکہ تم روزی تلاش کرو اور تاکہ اللہ کا شکر ادا کرو۔) صدف، مرجان، کوڑی، عنبر، سمندر سوکھ، مچھلی کا گوشت، مچھلی کے جگر کا تیل، سرطان، سریشم ماہی، ریگ ماہی، سنگ سرماہی، گھونگا، آبی پودے، طلحب وغیرہ بے شمار ادویہ ہیں جو سمندر سے حاصل ہوتی ہیں۔نیز مختلف امراض میں(دق، وٹامن کی کمی، کینسر، کیلشیم کی کمی وغیرہ میں) ان کی افادیت اپنی جگہ مسلم ہے، طب جدید بھی اس پر گواہی دے رہا ہے۔تدابیر میں اطبا نے حمام رملی کا تذکرہ کیا ہے، جو سمندر کے کنارے ممکن ہے۔نیز بعض ادویہ کو مدبر کرنے میں بالو کا استعمال ہوتا ہے۔غرض کہ وہ طلبا اور محققین جو ادویہ بحریہ پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ایک وسیع و عریض میدان موجود ہے۔ نیز مروڈ جنجیرہ، علی باغ وغیرہ میں یونانی کا ایک پی جی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ ہونا چاہیے یا سی سی آر یو ایم کی تحقیقی شاخ ہونا چاہیے تاکہ ادویہ بحریہ پر سیر حاصل تحقیق کی جاسکے اور ان کے فوائد کو جدید تحقیقی اصولوں کی بنیاد پر دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ نیز چونکہ ان علاقوں میں اہل ایماں بکثرت آباد ہیں ، جس کی وجہ سے طب یونانی کی پکڑ ان علاقوں میں اچھی ہو گی، جیسا کہ مشاہدات سے واضح ہے۔ دوسری بات یہ کہ تاریخی مقامات کی زیارت و سیاحت کرتے رہنا چاہیے اس لیے کہ جو قوم اپنی تاریخ بھلا دیتی ہے نیز ماضی کے واقعات سے سبق نہیں لیتی وہ صفحہ ہستی سے مٹا دی جاتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں