سعادت حسن منٹو 11 مئی 1912 تا 18 جنوری 1955

Spread the love


تحریر مدثر بھٹی

سعادت حسن منٹو کی قبر کا کتبہ جس کا مضمون انہوں نے خود تحریر کیا تھا۔

آج اردو کے معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی برسی ہے، انہوں نے سخت مشکل حالات دیکھے اور وقت کی تھالی میں صرف 42 سکے ڈال کر اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ وہ ہمیشہ استحصال کا شکار رہے، کبھی سوتیلے بہن بھائیوں کی تنگ نظری کا شکار ہوئے اور کبھی سوتیلے والد کی تنگ دلی کا کبھی ان کو فحش نگار قرار دیا گیا اور کبھی ان کو کیمونسٹ قرار دے کر ان پر روز گار بند کر دیا گیا، مگر دنیا میں واحد ان کی والدی تھیں جو ان کی طرف دار تھیں۔واحد ان کی والدی تھیں جو ان کی طرف دار تھیں۔

سعادت حسن منٹو کی والدہ

ان کے استحصال کا یہ عالم تھا کہ بقول منٹو کے جب صفیہ بیگم سے ان کا نکاح ہو چکا اور رخصتی کا وقت قریب پہنچا تو حالت بہت خراب تھے جس کمپنی میں ملازمت کرتے وہ بند ہو جاتی انہوں نے نانو بھائی ڈسائی کی کمپنی میں کام کیا تھا اور وہاں ان کے 1800 روپے نانو بھائی کی طرف واجب الادا تھے جس کا انہوں نے تقاضہ کیا تو نانو بھائی ڈسائی نے پیسے دینے سے صاف انکار کر دیا اور بابو راو پٹیل کی مداخلت پر معاملہ نصف رقم پر طے پایا اور اس کا آئندہ دنوں کا چیک دیا گیا اور جب چیک کی تاریخ پر منٹو نے نانو بھائی پٹیل کو مطلع کیا کہ وہ چیک کیش کرانے جا رہے ہیں تو نانو بھائی نے ان کو اپنے دفتر میں بلا کر پیسہ نہ ہونے کا رونا رویا اور چانچ سو روپے نقد لے کر معاملہ ختم کرنے کو کہا جس پر منٹو نے ہاں کر دی اور 1800 کی جگہ 500 روپے لے کر خوشی سے چل دیئے۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ منٹو کیسا اچھا اور نیک دل انسان تھے، اور منٹو کی زندگی ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہے۔

میرے خیال میں منٹو کا استحصال انے کے مرنے کے بعد بھی جاری رہا اس کا ادراک مجھے اس طرح ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے حسین مجروح جب حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری تھے انہوں نے منٹو کی سالگرہ کے موقع پر پاک ٹی ہاوس میں ایک بڑا پروگرام رکھا جس میں منٹو صاحب کی تینوں صاحبزادیوں کو بھی مدعو کیا گیا تھا ، میری اطلاع کے مطابق یہ تمام اہتمام حسین مجروح نے اپنی گراہ سے کیا تھا شاید اسی جلسے میں مرحوم مشتاق احمد یوسفی بھی تشریف لائے تھے بہت ہی خوب پروگرام ہوا یوسفی صاحب اور منٹو کی صاحبزدیوں کے آمد پر ہم جیسے لوگ تو بہت خوش ہوئے مگر حلقہ کی مخالف پارٹی نے اسی وقت بہت شور مچایا کہ حسین مجروح نے ٹکٹیں بھیج کر چاروں افراد کو بلایا ہے جو حلقے کی روایات کے خلاف ہے وغیرہ جس سے جلسے کے بہت ہی اچھے ماحول میں شدید بدمزگی بنی تھی۔

بابو راو پٹیل اور ان کی اہلیہ

میں نے منٹو کو پڑھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک آزاد انسان تھا جس نے ہر قسم کی سختی اور پابندیوں کے باوجود اپنی سوچ و قلم کو فروخت نہیں کیا اس نے جو دیکھا وہ لکھا جس چیز کو محسوس کیا اس کو لفظوں میں پرو کر ہمارے سامنے رکھ دیا۔
میں نے محسوس کیا کہ مذہبی لوگوں سے ان کا سیاسی اختلاف تھا اور سیاسی لوگوں سے مذہبی اختلاف۔ اسی لیے انہوں نے کسی کا اثر بھی قبول نہیں کیا اور جو لکھا اپنی مرضی سے لکھا۔

اصل ادب وہی ہے جو ادیب نے اپنی مرضی سے لکھا ہو جو کچھ کسی کی خوشنودی کی خاطر لکھا جاتا ہے اس کو تحریر تو کہا جائے گا مگر اس کو ادب قرار نہیں دیا جا سکتا۔

منٹو کے بارے میں بہت کچھ پڑھنے کے بعد ان کا ایک تعارف ادب لطیف کے ایڈیٹر اور چوہدری برکت علی بانی ادب لطیف کے صاحبزادے خالد چوہدری صاحب نے کرایا، تو معلوم ہوا کہ یہ پان چبانے والا شراب پینے والا اور تمباکو پینے والا منٹو دراصل کتنا اچھا انسان تھا، منٹو کو پڑھتے ہوئے میں نے محسوس کیا کہ پان، سگریٹ اور شراب کی عادت منٹو کو ہے اس کے افسانوں اور تحریروں کو نہیں۔

منٹو اپنی فیملی کے ساتھ

اردو بازار لاہور میں واقع نذیر سنز منٹو کی کتابیں چھاپا کرتے تھے کبھی منٹو کو یاد آتا کہ ان کی کتابوں پر رائلٹی بھی بنتی ہے تو وہ پہنچ جاتے مالک ادارہ ان کو چائے پلاتے جس کو وہ بہت منہ بنا کر پیتے رائلٹی کے پانچ روپے لے کر جب وہ نکلنے لگتے تو مالک اپنے بیٹوں کو کہتا کہ ’’دوپہر کا وقت ہو گیا ہے جاو چچا کے ساتھ کھانا کھا آو‘‘ جس پر منٹو اس کو ایک موٹی گالی دیتا اور بچوں کو ساتھ لے جا کر روٹی کھلاتا اور کچھ رقم بچوں کے ہاتھ میں دے کر وہ پانچ روپے پورے کر دیتا۔

میں نے چوہدری صاحب سے سوال کیا کہ کیا وہ ان پیسوں سے شراب نہیں خریدتے تھے، جس پر خالد چوہدری صاحب نے ایک بہت زور دار قہقہہ لگایا اور اشارہ کیا جس کا مطلب یہ تھا کہ وہ تو سب سے پہلے۔

اسی طرح خالد چوہدری صاحب کے مطابق منٹو ایسا انسان تھا جس کی تحریروں میں بہت سختی اور ترشی تھی مگر وہ خود بہت اچھا انسان تھا اور ہر وقت کسی کی مدد کرنے کو تیار رہتے تھے، منٹو ایک انتہائی خوددار اور صاحب ذوق انسان تھے سڑک پر پڑے ہوئے کسی پتھر کی خوبصورتی کو بھی محسوس کر کے اس کی تعریف کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوا کہ منٹو انتہائی فراخ دل اور کشادہ ذہن کے انسان تھے وہ انسانیت کے معیار اور پنجابی روایات سے بخوبی آگاہ تھے۔ وہ جانتے تھے کہ انسانوں سے کیا سلوک کرنا ہے اور بچوں سے کیسے محبت کرنی ہے۔

منٹو می صاحبزادیاں نزہت، نصرت اور نصرف

منٹو کی تحریروں میں بھی وہی گرمی محسوس کی جاسکتی ہے جو فرانسیسی ادیب موپاساں کی تحریروں میں تھی۔ منٹو وہ بے رحم افسانہ نگار تھے، جنہیں لوگوں کے دکھوں اور تکالیف کو حسین کر کے پیش کرنے کا فن نہیں آتا تھا، بلکہ وہ اس کرب کو محسوس کرتے تھے اور چاہتے تھے کہ اس ملک کی اشرافیہ بھی ان کے دکھوں کو محسوس کرے۔ مگر انہیں نفرت کے سوا کچھ نہیں ملا۔

سعادت حسن منٹو کے والد غلام حسن منٹو قوم اور ذات کے کشمیری امرتسر کے ایک محلے کوچہ وکیلاں میں ایک بڑے خاندان کے ساتھ رہتے تھے۔


پیدائش

منٹو 11 مئی 1912کو موضع سمبرالہ، ضلع لدھیانہ میں پیدا ہو ئے۔ ان کے والد لدھیانہ کی کسی تحصیل میں تعینات تھے۔ دوست انہیں ٹامی کے نام سے پکارتے تھے۔ منٹو اپنے گھر میں ایک سہما ہوا بچہ تھا۔ جو سوتیلے بہن بھائیوں کی موجودگی اور والد کی سختی کی وجہ سے اپنا آپ ظاہر نہ کر سکتا تھا۔ ان کی والدہ ان کی طرف دار تھیں۔ وہ ابتدا ہی سے اسکول کی تعلیم کی طرف مائل نہیں تھے۔ ان کی ابتدائی تعلیم گھر میں ہوئی۔ 1921ء میں اسے ایم اے او مڈل اسکول میں چوتھی جماعت میں داخل کرایا گيا۔ ان کا تعلیمی کریئر حوصلہ افزا نہیں تھا۔ میٹرک کے امتحان میں تین مرتبہ فیل ہونے کے بعد انہوں نے 1931میں یہ امتحان پاس کیا تھا۔ جس کے بعد انہوں نے ہندو سبھا کالج میں ایف اے میں داخلہ لیا لیکن اسے چھوڑ کر، ایم او کالج میں سال دوم میں داخلہ لے لیا۔ انہوں نے انسانی نفسیات کو اپنا موضوع بنایا۔ پاکستان بننے کے بعد انہوں نے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں ٹوبہ ٹیک سنگھ، کھول دو، ٹھنڈا گوشت، دھواں، بو شامل ہیں۔ ان کے کئی افسانوی مجموعے اور خاکے اور ڈرامے شائع ہو چکے ہیں۔ کثرتِ شراب نوشی کی وجہ سے 18 جنوری 1955ء ان کا انتقال ہوا۔

منٹو اور صفیہ بیگم خوشگوار موڈ میں

فن

سعادت حسن منٹو اردو کا واحد کبیر افسانہ نگار ہے جس کی تحریریں آج بھی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔ وہ ایک صاحب اسلوب نثر نگار تھے جس کے افسانہ مضامین اور خاکے اردو ادب میں بے مثال حیثیت کے مالک ہیں۔ منٹو ایک معمار افسانہ نویس تھے جنہوں نے اردو افسانہ کو ایک نئی راہ دکھائی۔افسانہ مجھے لکھتا ہے منٹو نے یہ بہت بڑی بات کہی تھی۔ منٹو کی زندگی بذات خود ناداری انسانی جدوجہد بیماری اور ناقدری کی ایک المیہ کہانی تھی جسے اُردو افسانے نے لکھا۔ منٹو نے دیکھی پہچانی دنیا میں سے ایک ایسی دنیا دریافت کی جسے لوگ قابل اعتنا نہیں سمجھتے تھے یہ دنیا گمراہ لوگوں کی تھی۔ جو مروجہ اخلاقی نظام سے اپنی بنائی ہوئی دنیا کے اصولوں پر چلتے تھے ان میں اچھے لوگ بھی تھے اور برے بھی۔ یہ لوگ منٹو کا موضوع تھے اردو افسانے میں یہ ایک بہت بڑی موضوعاتی تبدیلی تھی جو معمار افسانہ نویس کی پہلی اینٹ تھی۔ اس کے افسانے محض واقعاتی نہیں ہیں ان کے بطن میں تیسری دنیا کے پس ماندہ معاشرے کے تضادات کی داستان موجود ہے۔

منٹو بطور اداکار ڈرامہ آٹھ دن میں

وہ شراب پیتے، پان چباتے اور سگریٹ سلگاتے تھے، مگر ان کے افسانے نہ تو پان چباتے ہیں اور نہ ہی شراب پیتے ہیں، بلکہ وہ ایسا سچ بیان کرتے ہیں جو ہم سے ہضم نہیں ہوتا۔
مگر انہیں کیا پڑی تھی ایسے ایسے کڑوے سچ لکھنے کی کہ جسے پڑھنے کے بعد لوگ اپنے دانت پیسنے لگیں اور منہ بسور کر منٹو پر گالیوں کی بوچھاڑ کردیں؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر کسی لکھاری یا ادیب کا دل اس کے معاشرے میں ہونے والے ظلم و ستم، ناانصافی اور دوغلے رویوں پر بھی حرکت میں نہیں آتا تو اس سے بہتر ہے کہ وہ کوئی کاروبار کر لے

منٹو اور ان کی تین صاحبزادیاں

جو ادب لوگوں کو خوش کرنے کے لیے لکھا جائے، وہ ادب ادب نہیں بلکہ صرف لفاظی ہوتی ہے، جو کہ کوئی بھی الفاظ کا جادوگر آسانی سے کر سکتا ہے، لیکن معاشرے کو ناراض کر کے حقائق لکھنا ہی ایک حقیقی ادیب کا کام ہے۔

انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ’’مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں، اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت مجھے کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب۔ کبھی میرے لیے روزی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور کبھی کھولے جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی سوچتا تھا اور اب بھی سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔ اس ملک میں جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کہا جاتا ہے، میرا مقام کیا ہے، میرا اپنا مصرف کیا ہے؟‘‘

منٹو کی صاحبزادی نزہت منٹو اپنے بیٹے کے ساتھ

منٹو کی سوانح حیات پر مبنی فلمیں
منٹو (2015ء فلم)، 2015ء کی پاکستانی اردو فلم
منٹو (2018ء فلم)، 2018ء کی بھارتی اردو/ہندی فلم
افسانوی مجموعے
دھواں
منٹو کے افسانے
نمرود کی خدائی
برقعے
پھندے
شکاری عورتیں
سرکنڈوں کے پیچھے
گنجے فرشتے
بادشاہت کا خاتمہ
شیطان
اوپر نیچے درمیان میں
نیلی رگیں
کالی شلوار
بغیر اجازت
رتی ماشہ تولہ
یزید
ٹھنڈا گوشت
بڈھاکھوسٹ
آتش پارے
خالی بوتلیں خالی ڈبے
سیاہ حاشیے
گلاب کا پھول
چغد
لذت سنگ
تلخ ترش شیرریں
جنازے
بغیر اجازت یہ نام پہلے سے ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں