سانحہ ساہیوال کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری اور سی ٹی ڈی کو ختم کرنے کی درخواستیں دائر

Spread the love

لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ساہیوال کے واقعہ کی جوڈیشل انکوائری کیلئے درخواست پر آئی جی پنجاب پولیس کو کل 24 جنوری کو طلب کرلیاجبکہ واقعہ کانامز د مقدمہ درج کرنے کیلئے سپر یم کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے ساہیوال کے واقعہ پر جوڈیشل انکوائری کیلئے مقامی وکیل میاں آصف اور صفدر شاہین پیرزادہ کی درخواستوں پر سماعت کی ۔درخواست گزار وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش سے وہ حقائق سامنے نہیں آئیں گے ۔ ماضی میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی سے کچھ سامنے نہیں آیا ۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ریمارکس دیئے کہ خود سے جوڈیشل انکوائری کا حکم نہیں دے سکتے ۔ پنجاب حکومت کی سفارش پر عدالتی تحقیقات ہوتی ہیں۔ سرکاری وکیل نے بتایا کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے لے رہی اور جے آئی ٹی بنا دی گئی ہے ۔ ادھر سانحہ ساہیوال کے خلاف سپریم کورٹ میں بھی درخواست دائر کر دی گئی ۔طارق اسد ایڈووکیٹ کی درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ سانحہ ساہیوال کا مقدمہ نامعلوم افراد کیخلاف درج کیا گیا حالانکہ سانحہ کے ملزمان معلوم ہیں۔استدعا ہے کہ سانحہ ساہیوال کا مقدمہ سی ٹی ڈی کے 16نامزد اہلکاروں کے خلاف درج کرنے کا حکم دیا جائے ، سی ٹی ڈی کو اس کے اصل ڈپارٹمنٹ سی آئی ڈی میں بھیج کر سی ٹی ڈی کو ختم کرنے کا حکم دیا جائے ۔درخواست میں وفاقی سیکرٹری داخلہ،آئی جی پولیس اسلام آباد، چاروں صوبوں کے آئی جیز اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں