سانحہ ساہیوال،سی ٹی ڈی کے اعلی افسر عہدوں سے فارغ

Spread the love

ساہیوال واقعہ کی تحقیقات کیلئے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم ( جے آئی ٹی) نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں خلیل اور اس کے خاندان کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کے افسران کو قتل کا ذمہ دار قرار دیدیا،جس کے بعد پنجاب حکومت نے رپورٹ کی روشنی میں ایڈیشنل آئی جی آپریشنز پنجاب اظہر حمیدکھوکھر،ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی رائے طاہراورڈی آئی جی سی ٹی ڈی بابر سرفراز الپاکو عہدوں سے ہٹا کر وفاقی حکومت کو رپورٹ کرنے ، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی ساہیوال کو معطل اور مقابلے میںحصہ لینے والے پانچ اہلکاروں کے خلاف انسداد دہشتگردی عدالت میں مقدمہ چلانے کا اعلان کر دیا ،حکومت نے ساہیوال آپریشن کو سو فیصد درست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جے آئی ٹی نے ذیشان جاوید کے کردار کے تعین کیلئے مہلت مانگی ہے ، آج ( جمعرات) کے روز صحافیوں کو آپریشن سے متعلق ان کیمرہ بریفنگ دی جائے گی ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس میں جے آئی ٹی کے سربراہ ایڈیشنل آئی جی سید اعجاز حسین نے ساہیوال واقعہ پر اپنی ابتدائی رپورٹ پیش کی ۔ بعد ازاںصوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے سینئر وزیر عبد العلیم خان کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے سانحہ ساہیوال پر خصوصی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی ہدایت کی اور حکومت نے تیز اور شفاف تحقیقات کا وعدہ پورا کیا۔اس واقعہ کے بعد ہماری عوام سے کمٹمنٹ تھی کہ ہم نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے ہیں اور ہم نے متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی ۔ انہوں نے کہا کہ ساہیوال کا واقعہ پنجاب حکومت کیلئے ٹیسٹ کیس ہے اور حکومت اسے مثال بنا کر انصاف فراہم کرے گی ۔ اسی صوبے میں لوگ انصاف کے حصول کیلئے سالوں تگ و دو کرتے رہے لیکن انہیںانصاف نہیں ملتا تھا ۔ موجودہ حکومت کی کمٹمنٹ تھی کہ ہم نے مظلوموں کوانصاف دینا ہے اور اس امر کو یقینی بنا کر یہ تاثر ابھرنا چاہیے کہ کوئی بھی شخص قانون سے بالا تر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو جے آئی ٹی کی ابتدائی رپورٹ موصول ہو گئی ہے اور وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت اجلاس میں اس کا جائزہ لیا گیا اور اس پر بریفنگ دی گئی ۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق خلیل اور اس کے خاندان کی بے گناہ ہلاکت کا ذمہ دار سی ٹی ڈی افسران کو ٹھہرایا گیا ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں