خواجہ برادران کے جسمانی ریمانڈ میں 7 یوم کی توسیع

Spread the love
خواجہ برادران فائل فوٹو

قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی اسکینڈل میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو سخت سیکیورٹی میں عدالت لائی۔

اس موقع پر عدالت کے باہر مسلم لیگ (ن) کے کارکنان کی بڑی تعداد موجود تھی جنہوں نے پارٹی رہنماؤں کے حق میں نعرے بازی کی۔

احتساب عدالت کے جج سید نجم الحسن نے کیس کی سماعت کی تو نیب کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ بینک اکاؤنٹس سے متعلق تفتیش مکمل کرنے کے لیے مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔

خواجہ برادران کے وکیل نے نیب کے مؤقف کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک تفتتیش میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، پیراگون سے خواجہ برادران کا کوئی تعلق نہیں لہٰذا جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

خواجہ برادران کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نیب کے پاس خواجہ سعد کا کوئی اکاؤنٹ نہیں جس کی تفتیش کرنی ہو، پیراگون سمیت جو بھی لین دین ہوئی اس کا ریکارڈ موجود ہے۔

عدالت نے وکلا کے دلائل سننے کے بعد نیب کی جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا جو تھوڑی دیر بعد سناتے ہوئے نیب کی استدعا منظور کرلی۔

عدالت نے خواجہ برادران کا مزید 7 روز کا جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا اور نیب کو دونوں ملزمان کو 26 جنوری کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

خواجہ برادران کی آج جسمانی ریمانڈ کے حصول کے لیے چوتھی پیشی تھی، گرفتاری کے بعد سے اب تک دونوں بھائی 38 دن کا جسمانی ریمانڈ کاٹ چکے ہیں۔

واضح رہےکہ نیب نے 11 دسمبر کو لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت میں توسیع کی درخواست مسترد ہونے کے بعد خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کو پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں گرفتار کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں