حفیظ ہوشیار پوری 5 جنوری 1912 تا 10 جنوری 1973

Spread the love

حفیظ ہوشیار پوری صاحب کی برسی کے بارے میں ہمارے پاس معلومات نہیں تھیں مگر ایک بزرگ صحافی نے فیس بک پر ان کے لیے یہ مضمون شائع کیا ملک اسلم صاحب کو شمار بہت ہی باخبر اور باذوق صحافیوں میں ہوتا ہےادارہ ان کا انتہائی مشکور ہے کہ ان کی وجہ سے ہم حفیظ ہوشیار پوری کے بارے میں قارئین تک یہ مختصر معلومات اور ان کے چند اشعار پہنچا رہے ہیں(ادارہ)
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تِری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
حفیظ ہوشیار پوری کی46 ویں برسی ہے۔ وہ 5 جنوری 1912 کو دیوان پور ضلع جھنگ میں پیدا ہوئےاور10جنوری 1973 کو کراچی میں وفات پائی۔ ان کا اصل نام شیخ عبدالحفیظ سلیم تھا۔ آبائی وطن کی نسبت سے ہوشیار پوری کہلائے۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (فلسفہ) کیا۔ شروع میں اِدھر اُدھر، چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں، میاں بشیر احمد کے ساتھہ ’’انجمن ترقی اردو‘‘ کے سیکرٹری اور’’پھول‘‘ اور ’’تہذیبِ نسواں‘‘ کے مدیربھی رہے۔ پھر آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہو گئے۔ قیام پاکستان کے بعد مختلف ریڈیو اسٹیشنوں پر کام کیا، لاہور ریڈیو کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل پاکستان براڈ کاسٹنگ کی حیثیت سے 1967ء میں ریٹائر ہو گئے۔ حلقہ ارباب ذوق کے پہلے سکریٹری تھے۔ تاریخ گوئی میں کمال حاصل تھا ۔
لیاقت علی خاں کی وفات پر ’’صلۂ شہید کیا ہے تب و تابِ جاودانہ‘‘
اور ریڈیو پاکستان کے آغاز پر ’’تری آواز مکے اور مدینے‘‘جیسی بے مثال تاریخیں نکالیں ۔
حفیظ ہوشیارپوری کو شروع سے ہی شعر و ادب سے شغف تھا کہ ان کے نانا پڑھنے لکھنے کے رسیا تھے اور انہیں سینکڑوں اشعار اور بعض دلچسپ کتابیں ازبر تھیں گھر میں کتب کے ساتھہ رسائل و جرائد بھی آتے تھے۔ حفیظ ہوشیارپوری ابتدا میں مولانا غلام قادر گرامی کے شاگرد ہوئے اور ان کے بعد اپنے بھائی راحل ہوشیارپوری سے رہنمائی حاصل کی اور سخن گوئی میں ایسا مقام حاصل کیا کہ ان سے کسبِ فیض کرنے والوں میں ناصر کاظمی جیسے صاحبِ اسلوب شاعر بھی تھے۔
10جنوری 1973ء کو ان کے انتقال کے کئی سال بعد شان الحق حقی صاحب نے ان کا مجموعۂ کلام ’’مقامِ غزل‘‘ کے نام سے چھپوا دیا۔ اس کتاب کو اس وقت کا سب سے بڑا انعام، آدم جی ادبی انعام بھی ملا۔
حفیظ ہوشیار پوری کے کچھہ شعر

زمانے بھر کے غم یا اک تِرا غم
یہ غم ہو گا تو کتنے غم نہ ہوں گے

دلوں کی الجھنیں بڑھتی رہیں گی
اگر کچھہ مشورے باہم نہ ہوں گے

میں اکثر سوچتا ہوں، پُھول کب تک
شریکِ گریہء شبنم نہ ہوں گے

اگر تُو اتفاقاً مل بھی جائے
تِری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے

تمام عمر ترا انتظار ہم نے کیا
اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا

نہ پوچھہ کیوں مری آنکھوں میں آ گئے آنسو
جو تیرے دل میں ہے اُس بات پر نہیں آئے

تیری منزل پر پہنچنا کوئی آسان نہ تھا
سرحدِ عقل سے گزرے تو یہاں تک پہنچے

میں اپنے حال کو ماضی سے کیوں کہوں بہتر
اگر وہ حاصلِ غم تھا تو یہ غمِ حاصل
کچھہ اس طرح سے بہار آئی ہے کہ بجھنے لگے
ہوائے لالہ و گُل سے چراغِ دیدہ و دل

تُو نے اسے تعبیر کیا عشق سے ورنہ
کس کے لئے اے دوست پریشان نہ ہوئے ہم
محدود رہے غم ایک نہ اک آفتِ جاں تک
افسوس حریفِ غمِ انساں نہ ہوئے ہم

شراب و ذوقِ طلب ہے نہ اب وہ عزمِ سفر
رواں ہے قافلہ تسکینِ راہبر کے لئے

ترے جاتے ہی یہ عالم ہے جیسے
تجھے دیکھے زمانہ ہو گیا ہے

یہ جہان زندگاں ہے کہ دَیارِ کُشتگاں ہے
کوئی دشمنوں کا مارا کوئی دوستوں کا مارا

یہ تمیز عشق و ہوس نہیں یہ حقیقتوں سے گریز ہے
جنہیں عشق سے سروکار ہے وہ ضرور اہلِ ہوس بھی ہیں

آبادی ء دل کی ہے فقط ایک ہی صورت
بربادی ء دل کے لئے سامان ہزاروں

دوستی عام ہے لیکن اے دوست
دوست ملتا ہے بڑی مشکل سے

رازِ سربستہ محبت کے ،زباں تک پہنچے
بات بڑھ کر یہ خدا جانے کہاں تک پہنچے

مجھے کس طرح یقیں ہو کہ بدل گیا زمانہ
وہی آہ صبح گاہی، وہی گریۂ شبانہ

تب و تاب یک نفس تھا غمِ مستعارِ ہستی
غمِ عشق نے عطا کی مجھے عُمرِ جاودانہ

کوئی بات ہے ستمگر کہ میں جی رہا ہوں اب تک
تری یاد بن گئی ہے مری زیست کا بہانہ

میں ہوں اور زندگی سے گلۂ گریز پائی
کہ ابھی دراز تر ہے مرے شوق کا ترانہ

جو اسیر رنگ و بو ہوں تو مرا قصور یارب
مجھے تو نے کیوں دیا تھا یہ فریب آب و دانہ

محبت میں تمیزِ دشمن و دوست
یہاں ناآشنا کیا، آشنا کیا

زمانے بھر سے میں‌کھو گیا ہوں
تمہیں پا کر مجھے آخر ملا کیا

پھریں مجھہ سے زمانے کی نگاہیں
پھری مجھہ سے نگاہِ آشنا کیا

وفا کے مدّعی! افسوس افسوس
تجھے بھی بھول جانا آگیا کیا

نہ مانی ہے نہ مانیں گے تری بات
حفیظ ان سے تقاضائے وفا کیا

جب دونوں کا انجام ہے اک، پھر چوں و چرا سے کیا حاصل
تدبیر کا میں قائل ہی سہی، تقدیر کا تو محرم ہی سہی

بندوں کے ڈر سے تجھے پوجوں، میں ایسی ریا سے باز آیا
دل میں ہے خوف ترا یارب ! سر پائے صنم پر خم ہی سہی

آغازِ محبت دیکھہ لیا، انجامِ محبت کیا ہوگا
قسمت میں حفیظِ بیکس کی آوارگی، پیہم ہی سہی

تم سے اور اُمید وفا کی؟
تم اور مجھہ کو یاد کر وگے؟

ویراں ہے آغوشِ محبت
کب اس کو آباد کرو گے؟

ختم ہوئے انداز جفا کے
اور ابھی برباد کرو گے

کون پھر اُس کو شاد کرے گا
جس کو تم ناشاد کرو گے

رہنے بھی دو عذرِ جفا کو
اور ستم ایجاد کرو گے

دادِ وفا سمجھیں گے اس کو
ہم پر جو بیداد کرو گے

اُس ایک بات کے افسانے بن گئے کیا کیا
جو تم کو یاد رہی اور نہ مجھہ کو یاد رہی

یہ میکدے میں ہے چرچا کہ متفق ہوئے پھر
غرورِ خواجگی و انکسارِ خانقہی

لرز رہا ہے مرا دل بھی تری لَو کی طرح
میرے رفیقِ شبِ غم چراغِ صُبح گہی

حفیظ دادِ سخن ایک رسم ہے ورنہ
کوئی کوئی اُسے سمجھا جو بات میں نے کہی

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں