نواز شریف، مریم نواز اور صفدر کی ضمانت منسوخی کی درخواست مسترد

Spread the love

چيف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے نیب پراسیکیوٹر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ضمانت منسوخی کے قواعد کے بارے میں بتائیں، ضمانت منسوخی کے پیرامیٹر آپ جانتے ہیں، وہ کون سے پیرا میٹر ہیں، جن پر ضمانت خارج ہو سکتی ہے؟۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ‘اسلام آباد ہائیکورٹ نے کہا کہ شواہد کےمطابق سزا بھی نہیں بنتی۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہائیکورٹ نے ضمانت دینے کا اپنا اختیار استعمال کیا۔

نیب وکیل نے دلائل کے دوران کہا کہ ‘سزا معطلی یا ضمانت کی درخواست میں کیس کے میرٹ پر نہیں جایا جاتا۔

جسٹس گلزار احمد نے پوچھا کہ ‘کس بنیاد پر ضمانت منسوخ کریں؟
جس پر نیب وکیل نے جواب دیا کہ ‘ہائیکورٹ نے نامساعد حالات کے بغیر ضمانت دے دی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ ‘نیب کے راستے میں کیا مشکل ہے؟ جبکہ ضمانت کا حکم عبوری ہے۔

جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ضمانت ہائیکورٹ دے چکی ہے اب کس بنیاد پر منسوخ کریں؟’

اس موقع پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ‘نیب کا قانون خصوصی قانون ہے اور خصوصی حالات میں ضمانت ہو سکتی ہے۔

تاہم چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہو سکتا ہے ہائیکورٹ کا ضمانت دینے کا اصول غلط ہو۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہائیکورٹ نے اپنی آبزرویشن کو خود عبوری نوعیت کی قرار دیا، ضمانت کی اپیل کا غلط استعمال ہو تو وجہ منسوخی بن سکتی ہے۔

انہوں نے مزید استفسار کیا کہ ‘نواز شریف اس وقت آزاد شخص نہیں، جو شخص آزاد نہیں اس کی ضمانت کیوں منسوخ کرانا چاہتے ہیں؟
جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہائیکورٹ کا فیصلہ عارضی ہے، ہم اس میں مداخلت نہیں کر رہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘نواز شریف نے ضمانت کا غلط استعمال نہیں کیا اور ٹرائل کورٹ میں مسلسل پیش ہوتے رہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘بدقسمتی سے نواز شریف سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے نواز شریف اور مریم نواز کی ضمانت کے خلاف نیب کی اپیل خارج کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں