جدید غزل اسالیب کی سطح پر ایک مطالعہ

Spread the love
ظہور شاہ، صاحب مضمون

ظہور شاہ
پاریون ،کولگام:
rduzahoor@gmail.com

ظفر اب کے سخن کی سرزمیں پر ہے یہ موسم

بیاں غائب ہے اور رنگ بیاں پھیلا ہوا ہے

(ظفراقبال)

۱۹۶۰ کے بعد غزل نے قدیم شعری روایتوں سے بغاوت کا اعلان کیا۔ یوں موضوعات و مضامین، میلانات و تجربات اور رجحانات و اسالیب کی سطح پر نمایاں تبدیلی محسوس کی جانے لگی۔ جدید شعرا اپنے دامن میں معاشرے اور سماج کی بدلتی ہوئی صورتحال کو سمیٹے ہوئے ہیں۔ چونکہ جدید معاشرہ انتشار، بحران اور ٹوٹ پھوٹ کے عمل سے دوچار ہے، لہٰذا اس دور کی شاعری میں ہمیں ایک طرح کی بیزاری، اداسی، خوف، بے گھری، عدم تحفظ کی کیفیت نظر آتی ہے۔ اس سب صورتحال کی عکاسی جدید شعرا نے مختلف انداز اور مختلف پیرائے میں کی ہے۔خلیل الرحمن اعظمی جدید غزل کے اسالیب کے متعلق رقمطراز ہیں:

’’چوں کہ جدید تر غزل جدید تر ذہنی کیفیات اور طرز احساس کی پیداوار ہے ۔ اس غزل میں ہمیں ایک نئی فضا اور نیا ذائقہ ملتاہے۔ اس غزل میں پرانی علامتوں کی تکرار اور گھسے پٹے تلازموں کے بجائے تازہ علامتیں اور الفاظ کے نئے تلازمے ملتے ہیں۔ یہ الفاظ اور علامتیں ہمیں ہر جگہ زندہ اور محسوس شکل میں دکھائی دیتی ہیں۔ دن ، رات، اندھیرا، اجالا، سورج، چاند، شام، سناٹا، تنہائی، چراغ، ہوا، دھوپ، آواز، گھر، دریچہ، کمرہ، دروازہ، دستک، سڑک، راستہ، دھند، دھواں، چہرہ، سایہ، پرچھائیں، درخت، پتہ، ٹہنی، فصیل، حصار، سمندر، بادبان، جزیرہ، ابر، پتھر، خاک، ریت، راکھ اور اس طرح کے بہت سے الفاظ غزل میں ایک نئی معنویت کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کہ غزل کی لفظیات اور اس کی مخصوص فضا بالکل بدلی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔‘‘

جدید غزل گو شعرا نے استعاروں کو نئی جہتوں اور علامتوں کو نئے معنی سے آشنا کیا۔ شعرا نے اپنی ذہنی اور جذباتی کیفیتوں کو پیش کرنے کے لیے نئی تراکیب اور تلازمات وضع کیے۔ جو فکر و اظہار کی نئی بصیرت کو پیش کرتے ہیں۔ جدید غزل کا لہجہ اس کی اپنی شعری شناخت کا وسیلہ بھی ہے جو شدتِ احساس، نادر تجربات اور صداقتِ جذبات سے مملو ہے۔ اس کا اپنا الگ جمالیاتی، استعاراتی اور علامتی نظام تشکیل پاچکاہے۔ جدید شاعری نے ذات کے حوالے سے ادب میں اضافہ کیا ہے یہ شاعری ذات پر مبنی نظام اقدار کے تحت احساسات و تخیلات کو الفاظ کے پیکر میں ڈھالنے، زندگی کی حسین تعبیر کرنے اور واردات و تجربات کا تخلیقی سطح پر اظہار کرنے کا نام ہے۔ چالیس پچاس برسوں کا یہ شعری سفر اور اس عہد کی شاعری ہماری ذہنی و جذباتی زندگی، ثقافتی اور تاریخی احوال، تخلیقی اور جمالیاتی تجربات کا ایک قیمتی سرمایہ ہے یہ الگ بات ہے کہ جدیدیت سے وابستہ بہت سارے شعرا کے یہاں خلوص کے باوجود جمالیاتی و فنی تجربات کی محدودیت اور اظہار کی قوت میں کسی نہ کسی حد تک کمی محسوس کی جاسکتی ہے۔ اسی طرح جدید شاعری سے وابستہ شعرا کے اندر تجربے کا تنوع کم ہے انفرادی لہجہ کم ہی لوگوں کے یہاں نمایاں ہے۔ اس میں بسا اوقات تنوع کے ساتھ تکرار کا احساس بھی ہوتا ہے اور ان کی شاعری انکشاف ذات کی اس سطح کو نہیں چھوتی ہے جو ذات کے آزادانہ تجربے اور اس کے اظہار سے ہوتا ہے۔انتظار حسین کے مطابق تجربے کو تمام گہرائیوں سمیت بیان کرنا ہی ادیب کی کامیابی کی دلیل ہے۔ لکھتے ہیں:

ادب میں مسئلہ کسی واقعہ کو جذباتی اثر انگیزی کے ساتھ بیان کر دینے کا نہیں ہوتا۔ یہ کام تو صحافت اور خطابت بھی بڑی خوبی سے انجام دیتی ہے۔ ادب میں مسئلہ ایک تجربے کو اپنی تمام تہوں اور گہرائیوں سمیت گرفت میں لانے کا ہوتا ہے۔ تجربہ لکھنے والے کی گرفت سے کبھی اس وجہ سے نکل جاتا ہے کہ وہ اسے اپنی ذات کا حصہ نہیں بنا سکتا اور کبھی اس باعث گرفت سے نکل جاتا ہے کہ وہ اس تجربے سے اپنی ذات کو علیحدہ کرکے اسے نہیں دیکھ سکتا۔ اردو میں فسادات کے بارے میں افسانے، نظمیں اور غزلیں لکھی گئیں ان کے ساتھ بالعموم یہ دونوں طرح کے حادثے گزرے ہیں۔

نئی غزل کا شاعر بنیادی طورپر تلاش و احساس کا مسافر ہے جو جدید حسیت کو نمایاں کرتی ہے۔ یہ غزل یقیناً روح عصر کے گرد اپنا وجود رکھتی ہے۔ جدید شعرا نے لفظیات کی سطح پر بھی تجربے کئے ہیں جس کی وجہ سے نئی غزل میں ہم تازہ لفظیات کا مشاہدہ کرتے ہیں اور یہ تجربات فکر کی نئی سطحیں دریافت کرنے میں مددبھی کرتے ہیں۔ اور لفظیات کی سطح پر ہونے والے تجربات نے متاثرکیے بنا نہیں چھوڑا۔ لیکن ساتھ ہی جدید شاعری پر لگنے والا یہ اعتراض بھی اہم اور صحیح معلوم ہوتاہے کہ یہ غزل یکسانیت کی شکار ہوئی ہے۔ یعنی یہ کہ جدید غزل کے شعرا کا تخلیقی عمل صرف اور صرف ایک مخصوص سانچے کی شاعری پر قناعت کر بیٹھا۔ او رتو اور جدید غزل میں مستعمل علامتیں اور استعارے محض کلیشے بنتے گئے۔ یہ شعرا فیشن زدگی کے شکار بری طرح سے ہو گئے۔ اس سلسلے میں بلراج کومل نے اپنی کتاب ’’ادب کی تلاش ‘‘ میں لکھا ہے:

’’جدید ادب کی بحث میں لفظ ومعنی کا توازن شاید بگاڑ دیا گیاہے اس توازن کو بحال کرنا اشد ضروری ہے بہت سے لوگ ادبی تخلیق کو تکنیکی شعبدہ گری سمجھنے لگے ہیں ان کا خیال ہے کہ الفاظ کی ترتیب محض سے شعر یا افسانہ لکھا جاسکتاہے اچھے اچھے کوّے ہنس کی چال چلنے کے شوق میں اپنی چال بھی بھول گئے ہیں۔ اس کا ثبوت وہ تحریریں ہیں جن کا ایک ہی موضوع ہے ایک ہی اسلوب ہے اور ایک ہی انداز ہے۔ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ان کا حشر بھی ایک ہی ہونے والا ہے کیوں کہ ادب، شخصیت، کردار تجربے کی بنیادی قوت گہرائی اور شدت کی وجہ سے زندہ ہے تکنیکی شعبدہ بازی کی وجہ سے نہیں ۔‘‘

جدیدیت میں جس طرح موضوعات کے تجربے ہوئے اسی طرح زبان اور لہجہ میں بھی نمایاں تبدیلیاں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ نئی شاعری کی زبان پیچیدہ اور ناہموار ہوگئی شاید اس لیے کہ اس عہد کی حیات انسانی میں پیچیدگی اور ناہمواری تھی۔ نئی شاعری کے لہجہ میں بہت حد تک تبدیلی پائی جاتی ہے ایک طرف اگر کلاسیکی شعری روایت کا مطالعہ کرتے ہیں تو شیرینی، تغزل، حلاوت، مخصوص الفاظ، محاوروں اور تشبیہات واستعارات کے استعمال سے شعری فضا میں سرشاری اور غنائیت محسوس کرتے ہیں۔ دوسری طرف جدید شاعری کی زبان اور لہجہ غیر ہموار، اکھڑا اکھڑ ا ہے۔ نئی شاعری کا شاعر مخصوص اور روایتی الفاظ سے اجتناب برتتا ہے۔ نئی شاعری کا یہی لہجہ اور زبان اسے قدیم شاعری سے ممیز کرتاہے۔ شعریت کے ضمن میں ڈاکٹر محمد حسن لکھتے ہیں:

’’ا س شعریت کو دل سے اٹھنے والی آواز اور پوری شخصیت میں سرایت کرجانے ولای گونج کا مرتبہ دینے کے لیے نہ صرف وقت اور سلیقہ درکار ہے بلکہ لفظوں کے مزاج کی پہچان اور اسے جذبے اورفکر سے ہم آہنگ کرنے کا عمل بھی ضروری ہے۔ جتنی آسانی سے اور جس قدر سہولت سے یہ بات کہہ دی گئی اس لیے کہیں زیادہ دشوار ہے۔‘‘ ۴؎

جدید غزل میں لفظیات کی سطح پر تبدیلی کے ضمن میںیہ اشعار ملاحظہ ہوں:

کرب کے ایک لمحے میں لاکھ برس گزر گئے

مالک حشر کیا کریں عمر دراز لے کے ہم

(شمس الرحمن فاروقی)
روکو گے تو ہم کریں گے دنگا

بن جائے گا بات کا بتنگا

بھٹکنا بھی ضروری ہے نظر کا

کیا ہے آپ نے منظر کو محدود
(ظفراقبال)

میں کہ خوش ہوتا تھا دریا کی روانی دیکھ کر

کانپ اٹھا ہوں گلی کوچوں میں پانی دیکھ کر

آج سے مجھ پر مکمل ہوگیا دین فراق

ہاں تصور میں بھی اب تجھ سے جدا رہتا ہوں میں

(احمدمشتاق)

تھکن سے راہ میں چلنا محال بھی ہے مجھے

کمال پر بھی تھا میں ہی زوال بھی ہے مجھے

سڑک پہ چلتے ہوئے رک کے دیکھتا ہوں میں

یہیں کہیں ہے تو یہ احتمال بھی ہے مجھے

(منیرنیازی)

پھیلے ہوئے ہیں شہر میں سائے نڈھال سے

جائیں کہاں نکل کے خیالوں کے جال سے

(عادل منصوری)

میں نے چاہا تھا کہ اشکوں کا تماشا دیکھوں

اور آنکھوں کا خزانہ تھا کہ خالی نکلا

میں دہی دشت ہمیشہ کا تر سنے والا

تو مگر کون سا بادل ہے برسنے والا

(ساقی فاروقی)

فضیل جعفری نے ایک جگہ ترقی پسندتحریک کے زوال کے اسباب کے بارے میں اپنی توضیح کچھ اس طرح پیش کی ہے:

’’ترقی پسندوں کا جادو زیادہ دنوں تک نہیں چل سکا، اس لیے نہیں کہ ان میں صلاحیتوں کی کمی تھی بلکہ اس لیے کہ ترقی پسند شاعری کے جوموضوعات تھے ان کا تجربہ ان لوگوں نے اس طرح نہیں کیا تھا کہ وہ ان کی شخصیت کا جزو بن گئے ہوں۔‘‘

یہی بات جدیدیوں کے بارے میں بھی کہی جاسکتی ہے۔ جدیدیت سے وابستہ شعرا میں اکثرنے موضوعات اور اسالیب کو فیشن پرستی اورنقالی کی حدتک قبول کیا۔ جدیدیت کا اگر ان دنوں زور کم ہوچکا ہے تو یہ جدید شعرا کی صلاحیتوں میں کسی حد تک کمی کی بنیاد پر نہیں ہواہے بلکہ جدیدیت والوں نے جن موضوعات کو اپنی شاعری میں برتا اور جن تجربات کو شاعری میں جگہ دی وہ ان کے تجربات نہیں تھے یا دوسرے لفظو ں میں کہہ سکتے ہیں کہ ان باتوں کا تجربہ شاعروں نے از خود نہیں کیا تھا۔ نتیجتاً تجربہ نرا ثابت ہوکر شخصیت کا جزوبننے سے رہ گیا۔ جس تنہائی، بے چہرگی، عدم محفوظیت، بے یقینی، تشکیک، لایقینیت شکست خوردگی کا ان لوگوں نے ڈھنڈورا پیٹا فی نفسہ وہ ان کے اپنے تجربات نہیں تھے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ شاعری میں خلوص ،صداقت اور دیانت کا فقدان قاری کو شدت سے کھلنے لگا۔ تجربے میں خلوص نہ ہو تو تجربہ نہ ہوکر نقالی کے درجے تک پہنچ جاتاہے۔ تجر بہ ذاتی اور حقیقی نہ ہوکر نقالی اور فیشن پرستی کی سرحدوں کو چھوتا معلوم ہوتاہے اور یوں خلوص نہ ہونے کی وجہ سے شعر کا تاثر زائل ہوجاتاہے۔

جدیدیوں کے ہاں صرف خیال اورمضامین ہی نہیں بلکہ اسالیب اظہاراور لہجے کی سطح پر یکسانیت قاری کو شدید طورپر بوریت کے احساس سے دوچار کرتی ہے۔ یکسانیت کا یہ الزام کم وبیش ہر جدیدشاعر کی شاعری پر لگ سکتاہے۔ براہ راست تجربہ نہ ہونے کے سبب خود تجربہ کے اندر سے خیال کو ابھارنے میں کئی جدید شاعر بری طرح ناکام نظر آتے ہیں۔ ان شاعروں نے کسی نہ کسی خیال کو تجربے میں ضرور تبدیل کیا ہے۔ مگر بات تب بنتی ہے جب یہ لوگ جذبہ کو فکر میں منتقل کرتے اور تجربے سے کسی خیال کی کشید ہوتی ۔ ہاں انھوں نے جو بھی مشاہدات اور تجربات سے خیالات پیداکئے ہیں وہ براہ راست تاثرات وتجربات نہیں تاہم جدید شاعروں کویہ کریڈٹ ضرور جاتاہے کہ کہیں کہیں انھوں نے دوسرے لوگوں کے خیالات اورمشاہدات کو اپنے اندر جذب کرتے ہوئے ان کا اس طور پر اظہار کیاکہ اس سے ایک توان کا اپنا تجربہ ہونے کا دھوکہ ہوتاہے اور دوسرا اس سے ایک نیا تجر بہ بھی برآمد ہوتاہے۔ دوسرے لفظوں میں کہہ سکتے ہیں کہ کسی دوسرے کا خیال یا مشاہدہ ان کے لیے ایک تجربہ بن جاتاہے اور اس تجربے کو شاعروں نے فنی چابکدستی سے ایک نئی شکل عطا کی۔

جدیدغزل میں تکرار اور اعادہ کی مثالیں کافی حد تک کھلتی ہیں۔ جدید غزل گو شعرا نے ایک ہی مضمون کو نئی صورت میں پیش کرنے کی بھر پور کوششیںبھی کی ہیں، تاہم بعض جگہ ایک ہی موضوع کو باربار اورایک ہی طرح کے اسلوب میں پیش کرنے کی وجہ سے جدید غزل کافی ہدف تنقید بھی ہوئی ہے کسی بھی مضمون یا موضوع کو دہرانے سے جو کیفیت یا صورت حال پیدا ہوجاتی ہے اس بارے میں مولاناحالیؔ لکھتے ہیں:

’’اگر چہ اس میں شک نہیں کہ جس طرح شعر میں جدت پیدا کرنی اور ہمیشہ نئے اوراچھوتے مضامین پر طبع آزمائی کرنی شاعرکا کمال ہے۔ اس طرح ایک ہی مضمون کو مختلف پیرایوں اورمتعدد اسلوبوں میں بیان کرنا بھی کمال شاعری میں داخل ہے ۔ لیکن جب ایک ہی مضمون ہمشیہ نئی صورت دکھایا جاتا ہے تو اس میں تازگی باقی نہیں رہتی۔ ہر مضمون کے چند محدود پہلو ہوئے ہیں ۔ جب وہ تمام پہلو ہو چکتے ہیں تو اس ضمن میں تنوع کی گنجائش نہیں رہتی ۔ اب بھی اگر اسی کو چھیتھڑے چالے جائیں گے تو بجائے تنوع کے تکرار اور اعادہ ہونے لگے لگا۔‘‘

جیسا کہ پہلے ہی مذکور ہوا کہ جدید شاعری میں یکسانیت اورتکرار قاری کو شدت سے کھلتی ہے، جدید شاعری کے مطالعہ سے محسوس ہوتاہے کہ شاعر کے پاس موضوعات کا خزانہ ختم ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں شاعر بہت جلد اپنے آپ کو دہرانے لگتاہے ۔ مضامین واسالیب کی سطح پر تکرار شاعری کے حسن کو ماند کردیتی ہے۔ اس بات سے مترشح ہوتاہے کہ شاعروں کے پاس کہنے کو اور کچھ رہا نہیں ہے او ر نہ ہی وہ کسی بات کو مختلف پیرائے اور انداز میں کہنے کا ہنر جانتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بعض لوگ اس تکرار اوردہرانے کے اس عمل کو جدید شاعری کا حسن قرار دیتے ہیں۔ فضیل جعفری جو خود بھی جدید شاعر ہیں اور جدیدیت کی پر زور وکالت کرتے آئے ہیں مجبوراً یا خلوصاً معترف ہیں کہ:

’’نئی شاعری کی ترقی اور وسعت کا دار ومدار ہیئت اور اسلوب سے زیادہ موضوع کے انوکھے پن اور ندرت پر ہوگی۔ نئے شاعروں نیاردو شاعری کے لیے قابل قدر کام کیاہے ۔ لیکن انھیں ابھی بہت کچھ کرناہے میں یہاں کسی خاص شاعر یا دو ایک شاعر کو Singleout کرنانہیں چاہوں گا لیکن سبھی نئے شاعروں کو چاہئے کہ و ہ تھوڑی دیر کے لیے رک کر دروں بینی (Introspection)سے کام لیں ، اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس نئے موضوعات کا خزانہ ختم ہوگیا ہے اوروہ اپنے آپ کو دہرانے لگے ہیں ، تو بہتر ہے کہ شعر نہ کہیں، کیوں کہ دہرانے سے رسائل کے صفحات تو برباد کئے جا سکتے ہیں لیکن شعری ساکھ میں کوئی اضافہ نہیں ہوسکتا۔‘‘

اسلوب کی نئی جہات میں جانے کے لیے شاعر سے اس کے انفرادی جوہر کا طلب گار ہونا، اسلوب کی تازہ کاری یا قوت نمو شاعر کی مہارت اور زبان پر قدرت کا پتہ دیتی ہے۔ اسلوب کسی بھی شاعر کی تخلیقی سطح کے نقطۂ عمل کا ادراک پیدا کرتے ہیں ۔ اردو میں علامتی شاعری جدیدیت کی اس رَو سے متعلق ہے جو اظہار وبیان کے نئے قرینے تلاش کررہی تھی اور جس کا خمیر یقینا ترقی پسند تحریک کے زوال سے اٹھا ہے۔ ترقی پسند شعرا نے فرد کی خارجی زندگی سے سروکار رکھا اس طرح کی شاعری مقصدیت اور پروپگنڈے کے عناصر کو اجاگر کرتی ہے۔اس کے بر خلاف حلقۂ ارباب ذوق یاجدید لکھنے والوں نے فرد کے داخلی پہلوئوں پر زیادہ زور صرف کیا ۔ اس شاعری میں جنسیات ونفسیات وارداتوں کے علاوہ انسان کے فکری تخیل اور جذباتی میلانات کی عکاسی بھی ضرور ملتی ہے۔

جدید شاعری فرد کی متضاد داخلی قوتوں کی باہمی کشمکش سے عبارت ہے۔ جدیدیت سے وابستہ شعرا نے مواد ، ہیئت ، تکنیک اور اسلوب بیان کے حوالے سے اس حد تک۔۔ابہام اور ژولیدگی کی حامل شاعری کی ہے کہ قاری کا ابلاغ وتفہیم کا مسئلہ ناقدین کی توضیح وتشریح کے بغیر ممکن نہیں ہو پارہا ہے۔ لیکن کہیں پر نقادوں کو بھی تفہیمی وتوضیحی کوششوں میں ناکامی ہاتھ آتی ہے۔ جدیدشاعری بڑی حد تک ابہام کے دبیز پردوں اورناقابل تفہیم پرتوں پراپنی شاخت کرواتی ہے ۔یہاں قاری کا سب سے پہلا اوراہم مسئلہ شاعری کی قرأت اور تفہیم ہے اور دیکھنے میں آتاہے کہ قاری درماندہ ذہن کے ساتھ ان علامتوں کو ڈھونڈنے میں ناکام رہتاہے جو جدید شاعر نے استعمال میں لائے ہیں۔ ستم ظریفی یہ کہ اگر قاری لاکھ کوششوں کے باوجودجدید شاعری کے علامتی پہلو کی تلاش کرنے میں ناکام ٹھہرتا ہے تو قصور شعرا کا نہیں بلکہ قاری کے فہم کا ٹھہرتاہے۔
شاعری میں ابلاغ وتفہیم کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے نظیرؔصدیقی رقمطراز ہیں:

’’اس میں شک نہیں کہ کسی شاعری کا قابل فہم ہونا ایک بات ہے اور اس کا عام فہم ہونا دوسری بات۔ کسی شاعری کے عام فہم نہ ہونے کے معنی لازمی طورپر ناقابل فہم ہونے کے نہیں ہیں۔ لیکن جب ہم جدیدشاعری یا جدید ادب کے بعض حصوں کو ناقابل فہم قرار دیتے ہیں تواکثر حالتوں میں اس کا مطلب اتنا ہی نہیں ہوتا کہ جدید شاعری یا جدید ادب کے وہ حصے عام لوگوں کی سمجھ سے باہر ہیں بلکہ اس شکایت میں یہ پہلو بھی ہوتا ہے کہ ان حصوں کو پورے طورپر سمجھنے میں شعر وادب کے ماہرین بھی ناکام رہے ہیں۔‘‘

جدید شاعری میں بعید از فہم علامتوں اور استعاروں کا جس طرح بے دریغ استعمال ہوتاہے ان علامتوں اور استعاروں سے ادب کی تفہیم میں خاصی دشواریاں پیدا ہوگئی ہیں جس کے نتیجہ میں ترسیل وابلاغ کی ناکامی کا مسئلہ کھڑا ہوگیاہے۔ مجنوں گورکھپوری ایک دلچسپ واقعے کا بیان کرتے ہوئے اس طرف اشارہ کرتے ہیں:

’’چند سال پہلے کراچی یونیورسٹی میں ایک صاحبزادے اپنا مجموعے کلام لے کر میرے پاس آئے ، قسمیہ کہہ رہاہوں ، ان کے مجموعے کا نام مجھ سے نہیں پڑھا گیا ۔ بڑی مشکل سے پتہ چلا کہ مجموعے کا نا م ’’والکنیو‘‘ہے۔ میں نے پوچھا بھئی نام اردو کے بجائے انگریزی میں کیوں رکھا۔ کوئی تشفی بخش جواب نہیں دے سکے ۔ اس مجموعے میں ایک مصرعہ تھا:

بجھ گئے دور دور پیڑ

بھلابتائیے پیڑبھی بجھتے ہیں …عشق اور مجاز وغیرہ کی علامتوں کا تعلق ہماری زندگی سے تھا ۔ اس لیے ان کو سمجھنا کوئی مشکل نہ تھا لیکن آج کیادیب برازیل اور ٹمبکٹو کی علامات لاتے ہیں اور انھوں نے ہمارے مسائل پر لکھنا چھوڑ دیا لہٰذا قاری نے انھیں پڑھنا چھوڑدیا۔‘‘

شاعری میں علامتی نظام کے خلاف نہیں ہونا چاہیے ۔ علامت ایک مستحسن چیز ہے تاہم علامتیں ایسی ہونی چاہیے جنھیں قاری سمجھے۔ بعید از فہم علامتوں سے ترسیل وابلاغ کی ناکامی کا اندیشہ رہتاہے۔ یوں ابہام کو راہ ملتی ہے لہٰذا علامت کو اجتماعی ہونا چاہیے ذاتی نہیں۔ مطلب یہ کہ علامت سے صرف شاعر ہی واقف نہ ہو بلکہ قاری بھی واقف ہو تاہم ہم دیکھتے ہیں کہ جدید شاعر اپنا رشتہ فرانس اور جرمن کے بعض علامتی ادیبوں یا شاعروں سے زبر دستی جوڑتاہے اور کافکا اور کامیو جیسے ادیب بننے کی دھن میں مگن۔ کافکا ،کامیویا دوستو وفسکی سے متاثر ہونا غلط بات نہیں ہے لیکن جدید شاعر نئے پن یا جدت لانے میں خاصا جلد باز اور پریشان نظر آتاہے۔ فیشن اورنقالی کی دھن میں ماراگیا۔ پیچیدگی اور ابہام نے جدید شاعری کو خاصا نقصان پہنچایا ۔ڈاکٹر وحید اختر علامتوں کی اہمیت پر یوں روشنی ڈالتے ہیں:

’’ادب کی علامتیں ، استعارے اور تشبیہیں کلچر کا جز ہوتی ہیں جو علامتیں کسی کلچر کے مزاج سے ہم آہنگ نہ ہوں وہ جان دار آرٹ پیدا نہیں کر سکتیں، اس میں شک نہیں کہ ہم کو ساری دنیا کی تہذیب، آرٹ، علم اور فلسفے سے ناتا جوڑنا چاہیے ، مگر یہ ناتا مصنوعی نہ ہو بلکہ ہمارے مزاج اور روایتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو کران کا جز بن جائے ۔ اس کے بغیر بڑا ادب تخلیق نہیں کیا جاسکتا ۔ ہم آفاقی تہذیب کے وارث ہیں مگر اپنی تہذیب کے واسطے سے۔‘‘

جدید شاعری میں علامت سازی کا یہ عمل خاصا غیر معمولی نظرآتاہے ۔ جس کی بنا پر شاعری کا روایتی قاری ان علامات کی تفہیم وتحسین میں ناکام رہتاہے۔جدید شاعری کے مطالعہ سے روایتی قاری عدم تسلسل، غیر مانوسیت کے احساسات سے گذرتاہے ۔کیوں کہ قاری جدید شاعری کی شعری جمالیات کا رمز شناس نہیں۔اس سلسلے میں ناصر عباس نیر رقمطراز ہیں :

’’علامت سازی کا یہ عمل اس قدر غیر معمولی اورفعال ہے کہ عمومی اور روایتی جمالیات میں پروان چڑھا ہوا قاری اسے سمجھنے (اور اس کی تحسینکرنے میں) دقت اور پریشانی محسوس کرتا ہے۔ روایتی جمالیات میں بھی ’علامت‘ہوتی ہے مگر وہ اجتماعی اور اسی بنا پر مانوس ہوتی ہے۔ اس علامت کے ابعاد پہلے سے قاری کے ذہن میں روشن ہوتے ہیں۔ مگر جدید جمالیات انفرادی اورغیر مانوس ہے۔ روایتی جمالیات اگر ایک ’رائج علامتی نظام ‘ہے تو جدید جمالیات لمحہ تخلیق میں ایک انفرادیت پسند تخلیق انا کے ہاتھوں انجام پانے والی تشکیل ہے۔ چناں چہ جدید ادب کے قاری کو عدم تسلسل، غیر مانوسیت اور انفرادیت کے ملے جلے احساسات کا سامنا ہوتاہے ۔ اگر وہ جدید ادب کی جمالیات کی مخصوص رمز سے واقف نہیں تو اس کے لیے جدید ادب کو سمجھنا اور اس کی تحسین کرنا محال ہوتاہے۔‘‘

جدید شاعری کی مخصوص علائم کے ضمن میں یہ اشعار ملاحظہ ہوں۔ ع

میں نے دیکھی نہیں برسوں سے خود اپنی صورت

میرے آئینے سے روٹھا ہے سراپا میرا

(خلیل الرحمن اعظمی)

کنارِ آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی

گماں گزرتا ہے، یہ شخص دوسرا ہے کوئی

(شکیب جلالی)

چہروں کی دھند بجھنے لگی شام سے ظفر

رنگ ہوا کے شام کچھ ایسا ہی زور ہے

(ظفراقبال)

بھٹکا ہوا خیال ہوں وادی میں ذہن کے

الفاظ کے نگر کا پتہ پوچھتا ہوا

(راج نرائن راز)

مرے کمرے میں جیسے میں نہیں ہوں

نہ جانے دوسرے کمرے میں کیا ہے

(محمدعلوی)

چنار شاخ زر نگار دھوپ میرے سر پہ تھی

غبار بام و در بنا زمین تخت ہوگئی

(زیب غوری)

سر اٹھا تے ہی کڑی دھوپ کی یلغار ہوئی

دو قدم بھی کسی دیوار کا سایہ نہ گیا

آنکھیں کھلیں تو دھوپ چمکتی ہوئی ملی

میرے طلوعِ صبح کے ارماں کہاں گئے

(احمدمشتاق)

سورج سر پر آپہنچا ہے

گرمی ہے یا روزِ جزا ہے

(ناصرکاظمی)

سفر کی دھوپ میں چہرے سنہرے کر لیے ہم نے

وہ اندیشے تھے رنگ آنکھوں کے گہرے کر لیے ہم نے

(ساقی فاروقی)

دھوپ ہے اور زرد پھولوں کے شجر لہر راہ پر

اک ضیائے زہر سب سڑکوں کو پیلا کر گئی

(منیرنیازی)

ملی ہے اس کے سبب اتنی روشنی شہزاد

بجھا دیئے کئی سورج اسے دیا لکھ کر

(شہزاداحمد)

کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا

خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو

(ندافاضلی)

لہروں کی اجلی ریت پہ عکس گناہ تھے

سورج کی آنکھ میں بھی سمندر سیا تھے

(مصورسبزواری)

اس حادثے کو سُن کے کریگا یقین کوئی

سورج کو ایک جھونکا ہوا کا بچھا گیا

(شہریار)

اجنبی لوگ ہیں اور ایک سے گھر ہیں سارے

کس سے پوچھیں کہ یہاں کون سا گھر اپنا ہے

(احمدمشتاق)

زردیاں ہیں مرے چہرے پہ ظفر اس گھر کی

اس نے آخر مجھے رنگِ در و دیوار دیا

(ظفراقبال)

عتاب تھا کسی لمحے کا اک زمانے پر

کسی کو چین نہ باہر تھا اور نہ گھر میں تھا

(بانیؔ)

عجب وحشت تھی گھر کے سارے دروازے کھلے رکھے

ہمیں معلوم تھا اک روز دھوکا کھائیں گے ہم بھی

بارش کا لطف بند مکانوں میں کچھ نہیں

باہر نکلتے گھر سے تو سیلاب دیکھتے

(شہریار)
فصیل شوق اٹھانا ظفر ضرور مگر
کسی طرف سے نکلنے کا راستہ رکھنا
(ظفراقبال)

وہ لوٹ آئے تو اس کی کچھ انا رکھیو

فصیل قلب کا دروازہ تم کھلا رکھیو

(حسن نعیم)

فصیل لب پہ جڑے ہیں سکوت کے تیشے

زباں کو زخم لگائیں تو کچھ کہیں ہم بھی

(سلطان اختر)

پکارتی ہیں بھرے شہر کی گزر گاہیں

وہ روز شام کو تنہا دکھائی دیتا ہے

ہوگئی شام رات لا محدود

کسی جنگل میں کھو گئے ہم بھی

(احمدمشتاق)

اور ویران ہوا جاتا ہوں اندر سے ظفرؔ

ربط کچھ ہے تو سہی شہر کی تعمیر کے ساتھ

تمام شہر سلامت ہے میرے گھر کے سوا

یقین کیجیے بھونچال ہی کچھ ایسا تھا

(ظفراقبال)

عجیب بھیڑ یہاں جمع ہے یہاں سے نکل

کہیں بھی چل مگر اس شہر بے اماں سے نکل

(بانیؔ)

ضرور ہم سے ہوئی ہے کہیں یہ کوتاہی

تمام شہر میں سناٹے پھیلے جاتے ہیں

(شہریار)

علامتیں زندگی سے عاری یا مردہ نہ ہوں۔ اگر ایسا ہوتو پھر علامتیں بے معنیٰ نظرآتی ہیں ۔ ادیب کو چاہیے کہ جن علامتوں کو وہ استعمال میں لائے ان کا زندگی اور سماج سے گہر اتعلق ضرور ہو۔ یہ بات مصنف کے زندہ احساس او رشعور کی علامت ہے۔ علامتوں کے بغیر عظیم ادب کی تخلیق ممکن نہیں۔اس بارے میں خلیل الرحمن اعظمی رقمطراز ہیں :

’’دراصل جدید شاعر نے پرانی علامتوں کوا پنی ذہنی کیفیات کے اظہار کے لیے ناکافی سمجھ کرخود اپنے ماحول اور قریبی زندگی سے علامتیں وضع کی ہیں اور اس نے اس سلسلے میں خود اپنے حواس خمسہ کو اپنا رہ نما بنایا ہے اس عمل میں اردو غزل اپنی دھرتی سے بہت قریب آگئی ہے۔ اس کی عجمیت جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ فارسی غزل کا چربہ سمجھی جاتی تھی ا ب قریب قریب ختم ہوگئی ہے۔ میں سمجھتاہوں اردو غزل کی تاریخ میں یہ اگلا قدم ہے۔‘‘

شاعری میں علامت کے استعمال کی نفسیاتی توجیہ کرتے ہوئے میراجی لکھتے ہیں:

’’تجزیہ نفسی نے ہمیں بتایا ہے کہ علامت واشارت ، خیال کی سب سے بڑھ کر بے ساختہ اور آپ روپی صورت ہے دن اور رات کے (نیند اور بے داری) خوابوں میں علامت ، اشارات اور استعارے کی زبان ایک ایسا بے ساختہ ذریعہ اظہار ہے جو احساسات پر کسی قسم کے بندھن نہیں ڈالتا۔ اس لحاظ سے گویا اشارتی شاعری اظہار کا ایک ایسا فطری طریقہ ہے جو ہماری ہستی کی گہرائیوں سے امڈ کر نمودار ہوتاہے۔‘‘

واقعہ کربلا کے علامتی اظہار کے ساتھ ساتھ جدید شاعروں کی شعری تخلیقات میں ہجرتاور تہذیبی تشخص کے مسائل بھی پیش ہوئے ہیں۔ جدید شعرا نے ذہنی و جذباتی کیفیتوں کو پیش کرنے کے لیے نئی تراکیب اور تلازمات وضع کیے۔ ان تلازمات میں ہجرت، کربلا، آفتاب، پیاس، شام وغیرہ شامل ہیں۔ اس شاعری میں تہذیبی اور ثقافتی عناصر کی نشاندہی کی جاسکتی ہے۔ یہ شاعری گم شدہ تہذیب کا نوحہ ہے اور اپنی تہذیبی تشخص کی بازیافت پر اصرار کرتی ہے ایک طرف جدید شاعر اپنے سماجی اقدار کے زوال پر ماتم کناں، تو دوسری طرف وطن کو چھوڑ جانے کے رجحان پر ملول نظر آتا ہے۔ صارفی نظام معاشرت کے باعث تمدنی زندگی میں جو ظاہری چمک دمک پیدا ہوئی ہے اور اس کی بدولت انسانی رشتوں کی شکست و ریخت اور تہذیبی اقدار کا زوال ہوا ہے۔ جدید شاعر نے عہد حاضر کی مختلف النوع کیفیتوں کا ایک خاص زاویہ فکر کے ساتھ مشاہدہ کیا ہے اور ان کیفیتوں کا تخلیقی استعمال بڑی حد تک اور کامیابی کے ساتھ کیا ہے۔ جدید شاعری انسانی رشتوں کی شکست و ریخت اور اقدار کے زوال کا مرثیہ کہی جاسکتی ہے۔

کربلا تو انسانی روح کی جدوجہد کا ایک جاوداں استعارہ ہے جس عہد میں ظلم کی صورت حال پیدا ہوئی ہے اور انسانی روح اس کے خلاف بغاوت کرتی ہے اس کا مؤثر اور بامعنی اظہار اس استعارے کے ذریعہ ممکن ہوتا ہے۔ ۱۴ ؎

نئی شاعری بالخصوص نئی غزل میں واقعہ کر بلا کو ایک مستقل شعری موضوع کے بطور استعمال کیا گیا ۔ شعرا نے واقعہ کربلا کی جزئیات میںنئی علامتی معنویتوں کی تلاش شروع کی۔ شعرا نے واقعہ کر بلا کی علامتی معنویت کو گہرائی سے معاصر صورت حال پر منطبق کرنے کی کامیاب کوششیں کی ہیں۔ جنگ، نیزہ، سر، خیمہ، کماں، تیر، لہو، مقتل ، سپر، صف، جیسے الفاظ علامتی مفاہیم کے تناظر میں استعمال میں لائے گئے۔ع

تو وہ شب بھر کی رونق چند خیموں کی بدولت تھی

اب اس میدان میں سناں ٹیلوں کے سوا کیا ہے

بڑھتے ہوئے دشمن جیسی دوپہر

نیزوں جیسی تیز نکیلی دھوپ

تم جو کچھ چاہو وہ تاریخ میں تحریر کرو

یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا

اے لہو میں تجھے مقتل سے کہاں لے جائوں

اپنے منظر ہی میں ہر رنگ بھلا لگتا ہے

تری تیغ تو مری ہی فتح مندی کا اعلان ہے

یہ بازو نہ کٹتے اگر میرا مشکیزہ بھرتا نہیں

(عرفان صدیقی)

قبیلہ وار کمانیں کڑکنے والی ہیں

مرے ہو کی گواہی مجھے نڈر کردے

قاتل جس کی زد سے خود محفوظ رہے

ایسا کوئی خنجر نہیں دیکھا بہت دنوں سے

میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں

عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

نتیجہ کر بلا سے مختلف ہو یا وہی ہو

مدینہ چھوڑ نے کا فیصلہ کرنا پڑے گا

(افتخارعارف)

افتخار عارف اورعرفان صدیقی واقعہ کربلا اور اس سے متعلق مختلف علامتوں میں نئے نئے معانی اور مفاہیم کی تلاش وجستجو میں رہتے ہیں ۔ کر بلا سے متعلق ہر واقعہ میں عصری معنویت کی تلاش کرکے اس کا بیان یا پھر اظہار اس طرح کرتے ہیں کہ واقعہ کربلا اپنے عہد کی تعبیر بن جاتاہے۔ عرفان صدیقی افتخار عارف نے جو لفظیات اور تلازمات وضع کیں، نیز ان سے جس طرح کی تراکیب اور پیکر تراشے ہیں انسے واقعہ کربلا او را س واقعہ سے متعلق ہر جز میں نئے نئے مفاہیم پیدا ہوئے ہیں۔ عصر حاضر کے موضوعات اورمسائل کے تناظر میں واقعہ کربلا اور اس سے متعلقات کو جس انداز میں پیش کیا گیا اس سے واقعہ کی معنویت میں اضافہ ہواہے۔ شعرا نے علامتوں اور تلازموں کو استعمال میں لاکر جدید شاعری میں نسبتاً ایک نئے رجحان کو فروغ دیا۔

حسین پھر ہیں رواں کربلاکی سمت حسن

خوشا کہ اب کے نہیں کم حسینی لشکر بھی

(حسن نعیم)

سلگتی پیاس نے کرلی ہے مورچہ بندی

اسی خطا پہ سمندر خلاف رہتا ہے

(خورشیداکبر)

فراتِ فاصلہ و دجلہ سے ادھر

کوئی پکارتا ہے دشتِ نینوا سے ادھر

(ثروت حسین)

کاسۂ شام میں سورج کا سر اور آواز اذاں

اور آوازِ اذاں کہتی ہے فرض نبھانا ہے

(افتخارعارف)

بس ایک حسین کا نہیں ملتا کہیں سراغ

یوں ہر گلی یہاں کی ہمیں کربلا لگی

(خلیل الرحمن اعظمی)

اس قافلے نے دیکھ لیا کربلا کا دن

اب رہ گیا ہے شام کا بازار دیکھنا

(عبداللہ علیم)

جز حسین ابن علی مرد نہ نکلا کوئی

جمع ہوتی رہی دنیا سر مقتل کیا کیا

(فارغ بخاری)

کس دل میں آرزوئوں نے خیمے کیے تھے نصب

کس دشت بے شجر میں یہ لشکر پڑا رہا

(محسن زیدی)

اردو غزل کے ارتقا میں اب تک جو متعدد کروٹیں رونما ہوئی ہیں ان سے ایک بات یقینا واضح ہوتی ہے کہ غزل نے اپنی ہیئت کو ہر دور میں برقراررکھا ہے تاہم اس کے ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ غزل کے ہر بڑے شاعر نے اظہار واسلوب کے نئے نئے قرینے دریافت کرنے کی بھر پور کوشش کی ۔ اردو غزلیہ روایت کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ معنوی اور داخلی اعتبار سے غزل میں تنوع اوراضافہ ضرور ہوا ہے اور ہر عہد میں غزل کی لفظیات میں بھی نئے اضافے بھی ہوئے۔ جدیدیت سے وابستہ شعرا نے اظہار اور فکر کی سطح پر نئے قرینے وضع کیے ۔ شاعر تجربات اپنے عہد سے حاصل کرتاہے اور لاشعور کو استعمال میں لاکر بھی اس سے استفادہ کرتاہے۔

جدید شاعری کی ایک تعریف یا پہچان یہ بھی قراردی جاسکتی ہے کہ اس نے گذشتہ ادوار میں رائج کلیشوں سے نجات حاصل کر کے اظہار وبیان اور مفاہیم کی نئی صورت سامنے لانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ جدید یت سے وابستہ شعرا نے جو نئی شعری کائنات کی تخلیق کی ہے۔ اس کی بابت تمام جکڑ بندیوں کو توڑنئی شعری کائنات کی طرف جست لگانے میں روایت کی طرف مراجعت نہیں ملتی، ہاں یہ بات ضرورہے کہ اس طرح کی جست کے لیے روایت کی طرف مراجعت لازمی چیز ہے جس سے جدیدیوں نے باکل صرف نظر کیا۔ یہ بات ذہن نشیں رہے کہ ہر ماضی اپنے عہد میں جدید ہوتاہے او رہر حال کے پیچھے ایک ماضی موجود رہتاہے۔ بلکہ مستقبل بھی اس حال کی گھات میں رہتاہے اوراسے ماضی کی گود میں دھکیلنے پر ہمہ وقت تیار نظرآتاہے۔

Please follow and like us:

اپنا تبصرہ بھیجیں