ایرانی خاتون صحافی کی امریکہ میں گرفتاری پر ایران کا ردعمل

Spread the love
بشکریہ ابنا نیوز اردو سروس

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ میں خاتون ایرانی رپورٹر ”مرضیہ ہاشمی” کی گرفتاری سیاسی عمل ہے لہذا امریکی انتظامیہ انھیں فوری طور پر رہا کرے.

محمد جواد ظریف” نے دورہ عراق کے موقع پر کربلا کے شہر میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید بتایا کہ پریس ٹی وی کی اینکرپرسن کی گرفتاری ایک سیاسی کھیل ہے.
انہوں نے امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ وقت برباد کرنے کے بجائے مرضیہ ہاشمی کو رہا کرے.
یاد رہے کہ مرضیہ ہاشمی کو گزشتہ دنوں سینٹ لوئس لبرٹ بین الاقوامی ایئر پورٹ پر گرفتار کرلیا گیا جس کے بعد ایف بی آئی کے اہلکاروں نے انھیں واشنگٹن میں موجود جیل میں منتقل کردیا.
خاتون رپورٹر کے اہل خانہ 48 گھنٹوں تک ان کی صورتحال سے لاعلم رہے جبکہ کچھ دن گزرنے کے بعد اہل خانہ کو ان کی گرفتاری سے مطلع کیا گیا.
پریس ٹی وی کے مطابق، مرضیہ ہاشمی نے اپنے اہل خانہ کو بتایا کہ پولیس نے ان کے ساتھ توہین آمیز رویہ اپنایا.
انہوں نے بتایا کہ اہلکاروں نے جیل میں منتقلی تک ان کے ساتھ ناروا سلوک کیا جبکہ ان کے سر سے حجاب بھی اتارا گیا

یاد رہے کہ امریکہ میں اپنے والدین اور عزیز و اقارب سے ملنے جانے والی سرکاری ایرانی ٹی وی کی میزبان(اینکر پرسن )کو کچھ دن قبل امریکہ میں گرفتار کر لیا گیا اور اے ایف پی کے مطابق امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے ان کی گرفتاری پر کسی قسم کا موقف دینے سے صاف انکار کر دیا ہے، بیان کیا جاتا ہے کہ مرضیہ ہاشمی نے ہر سال اپنے اہل و عیال سے ملنے امریکہ جاتی ہیں اور وہاں پر کوئی نہ کوئی دستاویزی فلم تیار کرتی ہیں۔ ذرائع کے مطابق مرضیہ ہاشمی کے خاندان کے افراد کو ایک گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہونے کا کہا گیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں