الیکشن کمیشن آف پاکستان نے لاہور ہائی کورٹ میں بیلٹ پیپرز میں نوٹا(Not Of The Above) (ان میں سے کوئی بھی نہیں) کا آپشن شامل کرنے کی درخواست سے متعلق کہا ہے کہ آئین اور قانون میں ایسی کوئی شق موجود نہیں۔

Spread the love

لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شیراز ذکا کی درخواست پر سماعت کی، جس میں بیلٹ پیپر میں نوٹا (یعنی ان میں سے کوئی بھی نہیں) کا آپشن شامل کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔

سماعت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ہائی کورٹ کے حکم پر جواب جمع کروادیا۔

الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپر میں نوٹا کا آپشن درج کرنے کے لیے آئین اور قانون میں کوئی شق موجود نہیں۔
عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا کہ نوٹا کا آپشن صرف ترقی یافتہ ممالک میں استعمال ہوتا ہے جہاں شرح خواندگی زیادہ ہے۔
الیکشن کمیشن نے اپنے جواب میں لاہور ہائی کورٹ سے نوٹا کا آپشن شامل کرنے کی درخواست مسترد کرنے کی درخواست بھی کی۔
بعد ازاں عدالت نے وفاقی حکومت کو اس معاملے پر جواب داخل کروانے کا آخری موقع دیا، عدالت نے کہا کہ وفاقی حکومت نے اگر جواب داخل نہیں کروایا تو عدالت قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔
درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حق رائے دہی ہر شہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہے، بیلٹ پیپرز پر نوٹا کا آپشن نہ ہونے کی وجہ سے ووٹر کے پاس محدود حق رائے دہی رہ جاتا ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ ووٹر کو نہ چاہتے ہوئے بھی موجود امیدواروں میں سے کسی ایک کے حق میں ووٹ کاسٹ کرنا پڑتا ہے اور اگر کوئی امیدوار، پسند نہ ہو تو ووٹر اپنا ووٹ منسوخ کرنے کو ترجیح دیتا ہے۔

درخواست کے مطابق بھارت سمیت متعدد ممالک میں انتخابات میں نوٹا کا استعمال کیا جاتا ہے جس کے تحت ووٹر اگر کسی امیدوار کو ووٹ نہیں دینا چاہے تو وہ نوٹا پر نشان لگا دیتا ہے۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ عدالت الیکشن کمیشن کو بیلٹ پیپرز میں نوٹا کا آپشن شامل کرنے کا حکم دے۔

الیکشن کمیشن کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ نوٹا کا قانون جمہوری ممالک کے بیلٹ پیپر میں شامل ہوتا ہے اور ہمارے ہمسایہ ملک بھارت میں نوٹا کا قانون موجود ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہمسایہ ملک کتنا ترقی یافتہ ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں