اسلام آباد: خدیجہ صدیقی تشدد کیس کی سپریم کورٹ میں سماعت

Spread the love

خدیجہ صدیقی سٹی لاء یونیورسٹی لندن میں بار ایٹ لاء کی طالبہ ہیں، جن پر مئی 2016 میں شاہ حسین بخاری نامی ایک شخص نےخنجر کے 23 وار کیے تھے۔

ملزم شاہ حسین، ایڈووکیٹ تنویر ہاشمی کا بیٹا ہے جس کے خلاف اقدام قتل کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘کیا ملزم شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجود ہے؟

سرکاری وکیل نے جواب دیا کہ ‘جی ملزم شاہ حسین کمرہ عدالت میں موجود ہے

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ‘ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہائیکورٹ کا نتیجہ شواہد کے مطابق ہے؟

جس پر خدیجہ صدیقی کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ‘ہائیکورٹ نے مقدمے کے مکمل شواہد کو نہیں دیکھا جبکہ ان کی موکلہ کی بہن بھی بطور گواہ پیش ہوئی

وکیل نے بتایا کہ خدیجہ صدیقی ملزم کی کلاس فیلو تھی اور ملزم شاہ حسین نے اُس پر خنجر کے 23 وار کیے، جن میں سے 2 گردن پر کیے گئے

انہوں نے مزید بتایا کہ ‘شاہ حسین نے ارادے کے ساتھ صرف خدیجہ صدیقی پر خنجر سے حملے کیے، کار کے ڈرائیور پر حملہ نہیں کیا جبکہ خدیجہ کی بہن حملے کے وقت حواس میں تھی

وکیل نے دلائل کے دوران بتایا کہ ڈاکٹرز کے مطابق جب خدیجہ کو اسپتال لایا گیا تو اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ‘ملزم کو مقدمے میں تاخیر سے نامزد کیوں کیا گیا؟ جبکہ خدیجہ کی بہن نے بھی ملزم کی نشاندہی میں تاخیر کی

جس پر خدیجہ صدیقی کے وکیل نے بتایا کہ ‘حملے کے وقت ان کی موکلہ ہوش وحواس میں نہیں تھی اور انہوں نے ڈاکٹر کو بھی اجنبی قرار دیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں