ابن انشا کی 41 ویں برسی پر کچھ ان کے بارے میں

Spread the love

اردو ادب کے مایہ ناز شاعر ، ادیب مزاح نگار، سفر نامہ نگار ،کالم نگاراور شاعر،ابن انشا جن کا اصلی نام شیر محمد اور ابن انشاءکے قلمی نام سے لکھا کرتے تھے پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ جس میں شیر محمد تو کہیں گم ہو کر رہ گیا نگری نگری پھرا مسافر، کبھی اس بستی کے اک کوچے میں دیوانہ ہوا اور دل وحشی کو لے کر چاند نگر لکھی کبھی خمارِ گندم میں گم ہوئے اور کبھی آوارہ گرد کی ڈائری لیے چلتےہو تو چین کو چلیے کہتے پائے گئے، چین سے نکلے تو بولے دنیا گول ہےپھر اردو کی اخری کتاب بھی لکھی اور آپ سے کیا پردہ کے عنوان سے بھی کالم بھی لکھتے رہے اس طرح گم شدہ شیر محمد کی تلاش تو جاری رہی مگر شیر محمد تو بہت کم لوگوں کو ملے البتہ ابن انشا شہرت کے آسمان پر ایسے چھائے کہ آج دنیا سے رخصت ہوئے ان کو 41 برس بیت گئے مگر ان کی شہرت آج بھی بام فلک پر سنائی دیتی ہے۔

ابن انشاء 15 جون 1927 ء کوجالندھرکے ایک نواحی گاؤں کے راجپوت گھرانے میں پیدا ہوئے ۔ والد کا نام منشی خان تھا۔ ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں کے سکول میں، مڈل نزدیکی گاؤں کے سکول سے اور 1941ء میں گورنمنٹ ہائی سکول لدھیانہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا ،میٹرک میں اول پوزیشن حاصل کی ۔حمید نظامی مرحوم کے کہنے پر لاہور آ کر اسلامیہ کالج میں داخلہ لیا مگر تین مہینے کے مختصر قیام کے بعد ناگزیر وجوہات کے سبب تعلیم ادھوری چھوڑ کر لدھیانہ چلے گئے ۔

لدھیانہ سے انبالہ گئے اور وہاں ملٹری اوکاونٹس کے دفتر میں ملازم ہوگئےلیکن جلد ہی یہ ملازمت بھی چھوڑ کر دلی پہنچ گئے ۔ اس دوران انہوں نے ادیب فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات پاس کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر بی اے کا امتحان پاس کرلیاتھا۔کچھ ہی عرصہ گزرا تو اسمبلی ہاوس میں مترجم کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ بعد از اں آل انڈیا ریڈیو میں انگریزی سے اردو ترجمہ کرنے پر مامور ہوئے اور قیام پاکستان تک آل انڈیا ریڈیو ہی سے وابستہ رہے ۔
آزادی کے بعد ابن انشاء اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور لاہور میں رہائش اختیار کر لی، انڈیا میں ریڈیو سے منسلک رہے تھے، اس لیے بھاگ دوڑ کر کے 1949ء میں وہ ریڈیو پاکستان کراچی کے نیوز سیکشن سے بطور مترجم منسلک ہوئے ۔کام کے سلسلے میں کراچی جانا ہوا، اپنی ادھوری تعلیم مکمل کرنے کا خیال آیا تو انہوں نے اردو کالج کراچی میں 1951ء میں ایم اے اردو کی شام کی جماعتوں میں داخلہ لے لیا اور 1953ء میں ایم اے کا امتحان کیا پہلی پوزیشن حاصل کی۔
انہوں نے مختلف اخبارات میں کالم نگاری کا سلسلہ شروع کیا لکھنے پڑھنے کا سلسلہ آخری عمر تک جاری رہی ۔
ابن انشا ء نے 1960ء میں روزنامہ ’’امروز‘‘ کراچی میں درویش دمشقی کے نام سے کالم لکھنا شروع کیا۔ 1965ء میں روزنامہ ’’انجام‘‘ کراچی اور 1966ء میں روزنامہ جنگ سے وابستہ گی اختیار کی جو ان کی وفات تک جاری رہی۔ان کے سفر ناموں کے علاوہ تین شعری مجموعے ، چاند نگر، دل وحشی اور اس بستی کے کوچے میں 60 سے 70 کی دہائی کے دوارن شائع ہوئے۔ 1960ء میں چینی نظموں کا منظوم اردو ترجمہ (چینی نظمیں) شائع ہوا۔

ابن انشا ء 1962 ء میں نیشنل بک کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے ۔ اس کے علاوہ ٹوکیو بک ڈویپلمنٹ پروگریم کے وائس چیرمین اور ایشین کو پبلی کیشن پروگرایم ٹوکیو کی مرکزی مجلس ادارت کے رکن بھی مقرر ہوئے ۔
1941ء میں لدھیانہ کی عزیزہ بی بی سے ہوئی جو زیادہ عرصہ نہ چل سکی، عزیزہ بی بی سے ا بن انشا ء کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہوئی بیان کیا جاتا ہے کہ علیحدگی تو ہوئی مگر طلاق نہ ہوئی، لہٰذا عزیزہ بی بی نے باقی تمام عمر ان کی بیوی کی حیثیت ہی سے زندگی بسر کی لیکن ان سے الگ رہیں۔
1969ء میں آپ نے دوسری شادی کی دوسری بیگم کا نام شکیلہ بیگم تھا۔ دوسری بیوی سے آپ کے دو بیٹے سعدی اور رومی پیدا ہوئے۔ کسی حد تک یہ پسند کی شادی تھی ۔ابن انشا ء کی شاعری میں ایک جادو ہے۔ ان کی بات ہی الگ ہے ۔کیا کمال کا شاعر تھا اور کیا کمال کی شاعری ہے ۔

ابن انشا کی معروف کتابوں میںآوارہ گرد کی ڈائری ۔دنیا گول ہے ۔ابن بطوطہ کے تعاقب میں۔چلتے ہو تو چین کو چلئے۔ نگری نگری پھرا مسافر۔آپ سے کیا پردہ ۔خمار گندم۔اردو کی آخری کتاب ۔خط انشا جی کے۔

اردو ادب کا یہ بے حد مقبول و اہم شاعر و ادیب ،مزاح نگار، جس نے اپنی زندگی کے زیادہ تر ایام حالانکہ اپنے شہر کراچی ، لاہور یعنی پاکستان میں گزارے ، مگر جب اجل کا وقت قریب آیا تو وہ اپنے وطن سے سات سمندر پار انگلستان میں مقیم تھے ۔وہیں انہوں نے 11 جنوری 1978ء کو لندن میں وفات پائی اور پاپوش نگر قبرستان،کراچی میں آسودہ خاک ہیں۔

ابن انشا کے انتقال پر قتیل شفائی نے ان کے لیے جو نظم لکھی اس کے چند اشعار جو مجھے یاد ہیں ذیل میں درج کر رہا ہوں
ذیل میں ابن انشا کے کلام سے کچھ انتخاب پیش خدمت ہے

یہ کس نے کہا تم کوچ کرو باتیں نہ بناؤ انشاؔ جی
یہ شہر تمہارا اپنا ہے اسے چھوڑ نہ جاؤ انشاؔ جی

جتنے بھی یہاں کے باسی ہیں سب کے سب تم سے پیار کریں
کیا ان سے بھی منہ پھیرو گے یہ ظلم نہ ڈھاؤ انشاؔ جی

کیا سوچ کے تم نے سینچی تھی یہ کیسر کیاری چاہت کی
تم جن کو ہنسانے آئے تھے ان کو نہ رلاؤ انشاؔ جی

تم لاکھ سیاحت کے ہو دھنی اک بات ہماری بھی مانو
کوئی جا کے جہاں سے آتا نہیں اس دیس نہ جاؤ انشاؔ جی

بکھراتے ہو سونا حرفوں کا تم چاندی جیسے کاغذ پر
پھر ان میں اپنے زخموں کا مت زہر ملاؤ انشاؔ جی

اک رات تو کیا وہ حشر تلک رکھے گی کھلا دروازے کو
کب لوٹ کے تم گھر آؤ گے سجنی کو بتاؤ انشاؔ جی

نہیں صرف قتیلؔ کی بات یہاں کہیں ساحرؔ ہے کہیں عالیؔ ہے
تم اپنے پرانے یاروں سے دامن نہ چھڑاؤ انشاؔ جی

“اس بستی کے اِک کُوچے میں

اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا
اِک نار پہ جان کو ہار گیا، مشہور ہے اس کا افسانہ
اس نار میں ایسا رُوپ نہ تھا، جس رُوپ سے دن کی دُھوپ دبے
اس شہر میں کیا کیا گوری ہے، مہتاب رخِ گلنار لیے
کچھ بات تھی اُس کی باتوں میں، کچھ بھید تھے اُس کے چتون میں
وہی بھید کہ جوت جگاتے ہیں، کسی چاہنے والے کے من میں
اُسے اپنا بنانے کی دُھن میں ہوُا آپ ہی آپ سے بیگانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا

نا چنچل کھیل جوانی کے، نا پیار کی الہڑ گھاتیں تھیں
بس راہ میں اُن کا ملنا تھا، یا فون پہ اُن کی باتیں تھیں
اس عشق پہ ہم بھی ہنستے تھے، بے حاصل سا بے حاصل تھا؟
اِک روز بِپھرتے ساگر میں، ناکشتی تھی نا ساحل تھا
جو بات تھی اُن کے دل میں تھی، جو بھید تھا یکسر انجانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا

اِک روز اگر برکھا رُت میں، وہ بھادوں تھی یا ساون تھا
دیوار پہ بیچ سمندر کے، یہ دیکھنے والوں نے دیکھا
مستانہ ہاتھ میں ہاتھ دئیے، یہ ایک کگر پہ بیٹھے تھے
یُوں شام ہوئی پھر رات ہوئی، جب سیلانی گھر لوٹ گئے
کیا رات تھی وہ جی چاہتا ہے، اُس رات پہ لکھیں افسانہ
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا

ہاں عمر کا ساتھ نبھانے کے تھے عہد بہت پیمان بہت
وہ جن پہ بھروسہ کرنے میں کچھ سوُد نہیں، نقصان بہت
وہ نار یہ کہہ کر دُور ہوئی “مجبوری ساجن مجبوری”
یہ وحشت سے رنجور ہوئے اور رنجوری سی رنجوری؟
اُس روز ہمیں معلوم ہوا، اُس شخص کا مشکل سمجھانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا

گو آگ سے چھاتی جلتی تھی، گو آنکھ سے دریا بہتا تھا
ہر ایک سے دُکھ نہیں کہتاتھا، چُپ رہتا تھا غم سہتا تھا
نادان ہیں وہ جو چھیڑتے ہیں، اس عالم میں نادانوں کو
اس شخص سے ایک جواب ملا، سب اپنوں کو بیگانوں کو
“کُچھ اور کہو تو سُنتا ہوں، اس باب میں کچھ مت فرمانا”
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا

اب آگے کا تحقیق نہیں، گو سُننے کو ہم سُنتے تھے
اُس نار کی جو جو باتیں تھیں، اُس نار کے جو جو قصے تھے
اِک شام جو اُس کو بُلوایا، کچھ سمجھایا بے چارے نے
اُس رات یہ قصہ پاک کیا، کچھ کھا ہی لیا دُکھیارے نے
کیا بات ہوئی کس طور ہوئی؟ اخبار سے لوگوں نے جانا
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا

ہر بات کی کھوج تو ٹھیک نہیں، تم ہم کو کہانی کہنے دو
اُس نار کا نام،مقام ہے کیا، اس بات پہ پردا رہنے دو
ہم سے بھی تو سودا ممکن ہے، تم سے بھی جفا ہوسکتی ہے
یہ اپنا بیاں ہوسکتا ہے، یہ اپنی کتھا ہوسکتی ہے
وہ نار بھی آخر پچھتائی، کس کام کا ایسا پچھتانا؟
اس بستی کے اِک کُوچے میں، اِک انشاء نام کا دیوانا​

تو کہا چلی گئی تھی

تو کہاں چلی گئی تھی۔۔۔؟؟

تو کہاں چلی گئی تھی
تیرا بیقرار انشا
تیری جستجو میں حیراں
تیری یاد میں سلگتا
کبھی بستیوں بنوں میں
کبھی سوئے کوہ و صحرا
کبھی شورشوں میں کھویا
کبھی بے کسانا تنہا
لیے دید کی تمنا
بنا آرزو سراپا
تجھے ہر جگہ پکارا
تجھے ڈھونڈ ڈھونڈ ہارا
تو کہ روحِ زندگی تھی
تو کہاں چلی گئی تھی

میری حیرتوں کا روما
میری حسرتوں کی دلی
میری وحشتوں کا صحرا
میرا بلدیہء کراچی
مجھے اور کون جانے
یہی دیں تو دیں گواہی
کہ حسین صورتوں سے
یہاں ہر گلی بھری تھی
مگر ایک یہ دیوانا
تیرا وحشیءِ یگانا
جسے زندگی گوارا
کہ ہے پیت کا بہانا
کبھی چھوڑ کر گیا ہے
تیرا آستاں پرانا
جہاں اولِ جوانی
سرِ محفلِ شبانہ
کبھی توُ اسے ملی تھی
تو کہاں چلی گئی تھی

کبھی ساونوں سے پوچھو
کبھی پھاگنوں سے پوچھوں
تھا جو حال موسموں کا
تھا جو رنگ وحشتوں کا
کبھی یاس کی جلُو میں
کبھی آس کے جلُو میں
نہ وہ محفلِ شبانہ
نہ کہیں کا آنا جانا

پرے سات ساگروں کے
جہاں لوگ ہیں انوکھے
ہمیں جی سے یوں اتارا
ہمیں یاد سے بسارا
یہاں لوٹ کے بھی، جانی
نہ ملن ہوا گوارا
یہ جو ماہ و سال گزرے
بہ عجیب حال گزرے

تجھے یاد جو دلائیں
تجھے یاد بھی تو آئیں
کبھی عہد جو کئے تھے
کبھی کانپتے لبوں سے
کبھی اشک کی زباں میں
کسی گنجِ گلستاں میں
کسی کُوئے رہرواں میں
کسی دوست کے مکاں میں

تیرے زندگی سلامت
مگر ایک روز جانی
تیرا ساتھ چھوڑ دے گی
تیری بے اماں جوانی
تیرا روپ چھین لے گی
ماہ و سال کی گرانی
تیرے گیسؤں کے چاندی
بہ زبانِ بے زبانی
جو سنائے گی کہانی
ڈھلی شامِ زندگانی
تیرے جی پہ بار ہوگا
نہ دلوں کے قسمتوں پر
تجھے اختیار ہوگا
نہ جوان محفلوں میں
تیرا انتظار ہوگا
نہ کوئی وفا کا خواہاں
نہ گلہ گزار ہوگا

مگر ایک یہ دیوانا
تیرا پرانا پیت روگی
تیرے نام پہ بنا ہے
جو کوئی فقیر روگی
تجھے ڈھونڈتا ملے گا
تجھے جستجو جو ہوگی

کبھی بستیوں بنوں میں
کبھی سوئے کوہ و صحرا
تیرے جستجو میں حیراں
تیری یاد میں سلگتا
یونہی شورشوں میں کھویا
غمِ عاشقی نبھاتا
یا اداس گیت گاتا
میری شاعری کی رانی
میری حاصلِ جوانی
تو کہاں چلی گئی تھی

تو کہاں چلی گئی تھی۔۔۔۔!!!

اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساھو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال مہینے لوگو
پر سود بیاج کے دن لوگو
ہاں اپنی جان کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساھو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ادھار کا آیا ہے
کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں بھی نپٹانے ہیں
جنھیں جاننے والے جانیں ہیں
کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے دھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون تمہارا نام ہے کیا
کچھ ہم سے تم کو کام ہے کیا
کیوں اس مجمعے میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو کچھ لائی ہو
یا کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لئے
سب عمر کی نقدی ختم کئے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیا سنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا
اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں کچھ رات گریں
یہ اپنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانیں ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب نے ہم کو بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں ہم
تم سے نہ ملاقات کریں
کیا بانجھ برس کیا اپنی عمر کے پانچ برس
تم جان کی تھیلی لائی ہو کیا پاگل ہو
جب عمر کا آخر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی نرالی ہے ، ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا ہاں تم سے ہمارا رشتہ کیا
کیا سود بیاج کا لالچ ہے کسی اور اخراج کا لالچ ہے
تم سوہنی ہو من موہنی ہو تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس یہ چار برس چِھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساھو کار گئے
بس یہ اک ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے کیا ہے کیسی ہے
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ انکھیاں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہارا لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعتِ ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
جو اپنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا

اپنا تبصرہ بھیجیں